• ورلڈ الیون پاکستان آئی، پوری دنیا کیلئے پیغام ہے پاکستان پرامن ملک ہے، انضمام الحق
  • ملکہ ترنم نور جہاں کو گوگل نے ان کی یوم پیدائش کے موقع پر زبر دست خراج عقیدت پیش
  • شیخ رشید کی اربوں روپے کی کرپشن ثابت کریں گے، شکیل اعوان
  • اسحاق ڈار نے منی لانڈرنگ کرکے ملک کی عزت کو نقصان پہنچایا، شیخ رشید
  • رپورٹ کو فوری طور پر ریلیز کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں، عدالت
  • امید ہے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پاکستان میں تعلیم کے چمپیئن ثابت ہونگے، ملالہ یوسف زئی
  • عمران خان گومل یونیورسٹی کا دورہ کریں گے
  • طلباء کو صنعتوں اور دیگر اداروں میں آپرینٹس شپ پروگرام کے تحت تربیت دی جائیگی
  • وزیر اعظم کی امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت
  • اگرامیدوارعدالت سے رجوع کرے توNA120 الیکشن دوبارہ ہو سکتا ہے، قانونی ماہرین

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل نکالے، سو کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ حالانکہ تم جانتے بھی ہو۔آیات 286

اٹلی کے شمالی شہر بولزانو میں پارکوں میں کرکٹ کھیلنے پر پابندی
Cricket

 روم (اردو ووز)اٹلی کے شمالی شہر بولزانو کے میئرنے شہر کے پارکوں میں کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کر دی ہے ٗ یہ اعلان ایک دو سالہ بچے کے سر پر گیند لگنے کے واقعہ کے بعد کیا گیا۔وہ بچہ اپنے گھر کی بالکونی میں تھا جب اسے گیند لگی اور اب ہوش میں ہے ٗجہاں کرکٹ کھیلی جارہی وہ اس جگہ سے 100 میٹر کے فاصلے پر تھا۔

اٹلی میں رہنے والے پاکستانی اور افغان کرکٹ کھیلنا پسند کرتے ہیں تاہم اطالویوں کی اس کھیل میں بہت کم دلچسپی ہے۔بولزانو میں اب کرکٹ کا کھیل ٹینس کورٹس اور بیس بال کے میدانوں تک محدود کیا جا رہا ہے۔میئر رنزو کرامچی کے مطابق پابندی کے اطلاق کا فیصلہ اس وقت کیا گیا جب انھیں ایک جوڑے کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی کہ کرکٹ گیند لگنے سے ان کا بچہ زخمی ہوگیا ۔انہوں نے کہاکہ وہ ہی پاکستانی کمیونٹی کے نمائندوں کے ساتھ حالات کا جائزہ لیں گے۔اطالوی اخبار کوریئر ڈیلا سیرا کے مطابق ایک اور شمالی شہر بریسشیا نے 2009 میں عوامی مقامات پر کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی تھی۔خیال رہے کہ الٹو ایڈیج بولزانو میں زیادہ تر جرمن زبان بولنے والے افراد رہتے ہیں اور اس کی سرحد آسٹریا سے ملتی ہے جبکہ شہر کے میئر کا تعلق سیاسی طور پر سینٹر لیفٹ سے ہے اور وہ کسی بھی امیگریشن مخالف جماعت کا حصہ نہیں ۔اکتوبر 2015 میں آلٹو ایڈیج کی مقامی ویب سائٹ نے بتایا تھا کہ بولزانو میں 900 پاکستانی مقیم ہیں جبکہ علاقے میں ان کی کل تعداد 3000 ہے جبکہ افغان شہریوں کی تعداد بالتریب 100 اور 300 ہے۔

مزید خبریں