• سندھ سے چوروں اور لٹیروں کا صفایا کرکے دم لیں گے ٗ اب گو زرداری گو ہونے جارہا ہے ٗعارف علوی
  • بلاول بھٹو زرداری کااسلام آباد میں قیام کا فیصلہ
  • عمران خان غیر ملکی فنڈنگ کی کرپشن میں ملوث ہیں ٗ دانیال عزیز
  • نیا پاکستان تو بھٹو نے بنا کردیا تھا ٗ بلاول بھٹونانا کی سیاست آگے بڑھائیں گے ٗخورشید شاہ
  • منچن آباد پولیس کا کریک ڈاؤن ،موٹرسائیکل چوری کرنیوالا گینگ پکڑا گیا ٗتیرہ موٹر سائیکل بر آمد ٗ مقدمات درج
  • رائے ونڈ میں زہریلی چائے پینے سے چھ افراد کی حالت غیر ہو گئی ‘ ہسپتال منتقل
  • دتہ خیل میں ایک خاتون کے ہاں 5 بچوں کی پیدائش
  • بلوچستان میں سی پیک منصوبے پرعمل درآمد کیلئے محکمہ ریلویز نے اقدامات شروع کردیئے
  • سندھ میں پیپلز پارٹی نے 9سالہ اقتدارمیں لوٹ مار‘کرپشن اور سرکاری ملازمتیں فروخت کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا‘ریاض چاندڈیو
  • اوپن یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی طلبہ کو پڑھانے کے لئے غیر ملکی ماہرین کو مدعو کرلیا

جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس (تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی.(سورۃ التوبۃ)آیت نمبر 35

جرمن حکومت کا ایک شاندار اقدام
GERMANY

برلن(اردو ووز)جرمن وزارت داخلہ نے کہاہے کہ قریب ستر ہزار عراقی اور شامی شہریوں نے جرمنی میں اپنے خاندانوں سے فیملی ری یونین کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ 2015 سے لے کر اب تک ایسے ایک لاکھ ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن وزارت داخلہ کے اعداد و شمار میں بتایاگیاکہ جرمن حکومت نے سن 2015 سے سن 2017 کے وسط تک ایک لاکھ دو ہزار ایسے شامی اور عراقی شہریوں کو ویزے دیے جو جرمنی میں اپنے خاندانوں سے ملاپ کے خواہشمند تھے۔برلن میں ملکی وزارت خارجہ کو توقع ہے کہ اس تعداد میں سن 2018 تک ایک لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان مزید افراد کو فیملی ری یونین ویزے دیے جائیں گے۔ایسے تارکین وطن جنہیں جرمنی میں پناہ گزین کی حیثیت دی جا چکی ہے، اپنے شریک حیات اور نابالغ بچوں کو جرمنی بلانے کے مجاز ہیں۔ اسی طرح پناہ گزین قرار دیے جانے والے نابالغ بچے بھی اپنے والدین کو جرمنی بلانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔خیال رہے کہ حالیہ انتخابات میں مہاجرت مخالف جماعت اے ایف ڈی کی ریکارڈ کارکردگی اور قدامت پسند اتحاد کو بھاری نقصان کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے حکومت سازی کے لیے دو جماعتوں کے ساتھ مشکل مذاکرات کے آغاز سے قبل ملک میں مہاجرین کے داخلے کی حد دو لاکھ مقرر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

مزید خبریں