• بھارت جس زبان میں بات کرے گا اسی زبان میں جواب دیا جائیگا،پاکستان
  • وفاقی حکومت نے عام انتخابات سے قبل پی آئی اے کو فروخت کرنے کا منصوبہ بنالیا
  • شریف خاندان کو یقین ہے کہ انہیں سزا ضرور ملے گی ، بیرسٹراعتزازاحسن
  • عمران خان کے کرتوت ان کی عمر کے مطابق نہیں ہیں ٗجتنے گھٹیا ہیں اتنی ہی گھٹیا گفتگو کرتے ہیں ٗرانا ثناء اللہ
  • قصور واقعہ ٗکراچی مددگار پولیس 15پر کالز میں اضافہ
  • وزیراعظم بنا تو ٹرمپ سے ملاقات کڑوی گولی ہوگی مگر نگلنا پڑے گی ٗعمران خان
  • عمران خان کی گھٹیا سیاست پر قوم انہیں معاف نہیں کریگی، عائشہ گلالئی
  • کراچی ٗ اے ٹی ایم مشین میں اسکمنگ ڈیوائس لگانے والا ایک اور چینی باشندہ گرفتار
  • ناقص دودھ کی سماعت ٗ چیف جسٹس کا بھینسوں کو لگائے جانیوالے ٹیکے ضبط کرنے کا حکم
  • مردم شماری کی تصدیق کے نام پرجعلی ٹیلی فون کالز کی جا رہی ہیں‘عوام معلومات نہ دیں‘آئی ایس پی آر

جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس (تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی.(سورۃ التوبۃ)آیت نمبر 35

جرمن حکومت کا ایک شاندار اقدام
GERMANY

برلن(اردو ووز)جرمن وزارت داخلہ نے کہاہے کہ قریب ستر ہزار عراقی اور شامی شہریوں نے جرمنی میں اپنے خاندانوں سے فیملی ری یونین کے لیے درخواستیں دی ہیں۔ 2015 سے لے کر اب تک ایسے ایک لاکھ ویزے جاری کیے جا چکے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جرمن وزارت داخلہ کے اعداد و شمار میں بتایاگیاکہ جرمن حکومت نے سن 2015 سے سن 2017 کے وسط تک ایک لاکھ دو ہزار ایسے شامی اور عراقی شہریوں کو ویزے دیے جو جرمنی میں اپنے خاندانوں سے ملاپ کے خواہشمند تھے۔برلن میں ملکی وزارت خارجہ کو توقع ہے کہ اس تعداد میں سن 2018 تک ایک لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان مزید افراد کو فیملی ری یونین ویزے دیے جائیں گے۔ایسے تارکین وطن جنہیں جرمنی میں پناہ گزین کی حیثیت دی جا چکی ہے، اپنے شریک حیات اور نابالغ بچوں کو جرمنی بلانے کے مجاز ہیں۔ اسی طرح پناہ گزین قرار دیے جانے والے نابالغ بچے بھی اپنے والدین کو جرمنی بلانے کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔خیال رہے کہ حالیہ انتخابات میں مہاجرت مخالف جماعت اے ایف ڈی کی ریکارڈ کارکردگی اور قدامت پسند اتحاد کو بھاری نقصان کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے حکومت سازی کے لیے دو جماعتوں کے ساتھ مشکل مذاکرات کے آغاز سے قبل ملک میں مہاجرین کے داخلے کی حد دو لاکھ مقرر کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔

مزید خبریں