• پاکستان کا کابل میں دو مساجد میں ہونے والے خودکش حملوں کے نتیجے میں انسانی جانی نقصان پر دکھ اور افسوس کا اظہار
  • مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیں اتارے جانے کے دن 27 اکتوبر کو ملک بھر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جائیگا
  • سری لنکن ٹیم پر حملہ پولیس کی سستی کی وجہ سے ہوا تھا‘ آئی جی پنجاب
  • پی سی بی کا اسپاٹ فکسنگ کی پیشکش کامعاملہ آئی سی سی کے سپرد
  • میانمار حکومت روہنگیا مسلمانوں کو مظالم سے بچانے میں ناکام رہی، اقوام متحدہ
  • ایران ایٹمی ڈیل کی خلاف ورزی نہیں کر رہا، آئی اے ای اے
  • وزیر اعظم سے ترکی کے وزیر توانائی وقومی وسائل بیرت البیراک کی ملاقات
  • امریکی وزیرخارجہ کا غیر ملکی دورے کا آغاز ٗ پاکستان کا دورہ بھی کریں گے
  • بھارت نے پاکستان سے کلبھوشن کے معاملے پر نظر ثانی کا مطالبہ کردیا
  • سعودی ولی عہد نے ذاتی جیب سے حائل کیلئے 50لاکھ ریال عطیہ کردیئے

جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس (تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی.(سورۃ التوبۃ)آیت نمبر 35

اداروں کے درمیان تصادم کی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہوئی، رانا ثناء اللہ
rana - sanaullah

لاہور (نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان تصادم کی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہوئی، نواز شریف پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں، ہم کسی کے خلاف سڑکوں پر نہیں آئے، ریلی عوام کی اپنے قائد سے محبت اور اظہار یکجہتی کے لئے ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز داتا دربار کے قریب جلسے کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف سمیت دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ میاں نواز شریف نے تسلیم کیا ہے لیکن پاکستان کی عوام نے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور تاریخ فیصلہ کرے گی کہ یہ فیصلہ درست تھا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف دیئے گئے فیصلے کو بھی بعد میں ججز نے عدالتی قتل کہا او ر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے غیر قانونی اقدام کو پہلے سپریم کورٹ نے درست کہا اور بعد میں اس فیصلے کو بھی غلط قرار دے دیا تھا حالانکہ 12ججز نے پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کرنے کا بھی کہا تھا اور تاریخ ثابت کرے گی اور خود وقت آنے پر سپریم کورٹ اپنے فیصلے کو غلط کہے گی۔

مزید خبریں