• دہشت گردی کیخلاف جنگ ہم نے اپنی اگلی نسل کیلئے جیتنی ہے، وفاقی وزیر داخلہ
  • روسی پارلیمنٹ نے صدارتی انتخابات کے انعقاد کی قراردادمنظورکرلی
  • شمالی کوریائی بحران پرڈونلڈ ٹرمپ کی روس پر تنقید
  • دنیا کی کوئی حکومت یا ملک ہر فرد کو سرکاری ملازمت نہیں دے سکتا، راجہ محمد فاروق حیدر
  • عمران خان کی تھیوری خود انہیں اور نہ کسی اور کو سمجھ آتی ہے، آغا سراج درانی
  • جو لوگ سمجھتے ہیں ایم کیو ایم کا وجود ختم ہوچکاان کو الیکشن میں بڑا دھچکا لگے گا، ڈاکٹر فاروق ستار
  • رکز یا صوبے کی حکومتوں کو حدود کراس نہیں کرنا چاہئیں، خواجہ سعد رفیق
  • پاکستان رینجرز پنجاب کے پنجاب پولیس کے ہمراہ خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر سرگودھا اور بھکر میں آپریشنز
  • میاں صاحب نے پارلیمنٹ کو اتفاق فاؤنڈری بنادیا، بلاول بھٹو
  • پیپلز پارٹی کی 27دسمبرکو بینظیر بھٹو کی برسی پر اسپیشل پروازیں چلانے کیلئے درخواست

جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس (تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی.(سورۃ التوبۃ)آیت نمبر 35

اداروں کے درمیان تصادم کی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہوئی، رانا ثناء اللہ
rana - sanaullah

لاہور (نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر قانون و پارلیمانی امور رانا ثناء اللہ خاں نے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان تصادم کی کوئی صورتحال پیدا نہیں ہوئی، نواز شریف پارلیمنٹ کی بالادستی کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں، ہم کسی کے خلاف سڑکوں پر نہیں آئے، ریلی عوام کی اپنے قائد سے محبت اور اظہار یکجہتی کے لئے ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز داتا دربار کے قریب جلسے کے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لینے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) امین وینس، ڈی آئی جی آپریشنز ڈاکٹر حیدر اشرف سمیت دیگر بھی ان کے ہمراہ تھے۔ رانا ثناء اللہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ میاں نواز شریف نے تسلیم کیا ہے لیکن پاکستان کی عوام نے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے اور تاریخ فیصلہ کرے گی کہ یہ فیصلہ درست تھا کہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف دیئے گئے فیصلے کو بھی بعد میں ججز نے عدالتی قتل کہا او ر 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے غیر قانونی اقدام کو پہلے سپریم کورٹ نے درست کہا اور بعد میں اس فیصلے کو بھی غلط قرار دے دیا تھا حالانکہ 12ججز نے پرویز مشرف کو آئین میں ترمیم کرنے کا بھی کہا تھا اور تاریخ ثابت کرے گی اور خود وقت آنے پر سپریم کورٹ اپنے فیصلے کو غلط کہے گی۔

مزید خبریں