• پی سی بی میں نیا ہیڈ کوچ مقرر، نئی امیدوں کے ساتھ
  • امریکہ نے شمالی کوریا سمیت مزید تین ملکوں پر سفری پابندی عائد کر دی
  • امریکا کبھی بھی شمالی کوریا پرحملے کی حماقت نہیں کرے گا،روسی وزیرخارجہ
  • ٹرمپ کے بیان پر سیاہ فام فٹبالرز بھڑک اٹھے
  • ریکارڈ دیکھنے کے لیےسات دن کی مہلت دی جائے، وکیل اسحاق ڈار
  • بلوچستان میں سی پیک منصوبے کے تحت 4 نئی شاہرائیں بنائی جائیں گی
  • نواز شریف پی آئی اے کی پرواز 786کے ذریعے اسلام آباد پہنچ گئے
  • پاکستان میں پہلی بار ایک سپر ہیرو لڑکی کی کومک بک کو فروخت کے لیے پیش کردیا گیا
  • نیا اپوزیشن لیڈر لانے کیلئے ایم کیوایم سے بات کرکے تحریک انصاف نے تھوکا ہوا چاٹا، سید خورشید شاہ
  • وم عاشورپرموبائل سروس معطل کرنے کیلئے حکومت کو درخواست ارسال

جس نے تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا پھر اس سے تمہارے کھانے کے لیے پھل نکالے، سو کسی کو اللہ کا شریک نہ بناؤ حالانکہ تم جانتے بھی ہو۔آیات 286

اراکین سینٹ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم پر بول پڑے
Senate of Pakistan

اسلام آباد (این این آئی) حکومتی و اپوزیشن اراکین سینٹ نے کہاہے کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ٗعالمی برادری کو اپنا کردار ادا کر نا چاہیے ٗ مسلمان متحد ہو کر مظلوموں کے ساتھ زیادتیوں کا جواب دیں، روہنگیا مسلمانوں پر مظالم رکوانے کے لئے اسلامی دنیا سے مضبوط پیغام آنا چاہیے جبکہ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ پاکستان روہنگیا مسلمانوں کے لئے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔

بدھ کو سینٹ کے اجلاس کے دوران برما کے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے حوالے سے تحریک التواء پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ برما میں روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں اور ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس صورتحال کا نوٹس لینا چاہیے اور روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرانے چاہئیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ سینٹ کے ارکان کو اپنے خرچ پر روہنگیا مسلمانوں کے کیمپوں کا دورہ کرنا چاہیے اور ان سے ہمدردی ظاہر کرنی چاہیے اور ان کی حالت زار کے حوالے سے ایک رپورٹ تیار کی جائے جو اقوام متحدہ اور دیگر عالمی اداروں کو بھیجی جائے۔ سینیٹر حافظ حمد اللہ نے کہا کہ آنگ سانگ سوچی نوبیل انعام یافتہ ہے لیکن اس کے باوجود ان کی حکومت روہنگیا مسلمانوں پر ظلم کر رہی ہے، روہنگیا مسلمانوں کو ان کے حقوق ملنے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے برما کی صورتحال پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، او آئی سی کا ہنگامی اجلاس بلایا جانا چاہیے۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ روہنگیا کے مسلمانوں کی حالت دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا ہے، عالمی برادری کو ان کے تعاون کے لئے آگے آنا چاہیے، مسلمانوں کو متحد ہو کر اس طرح کی زیادتیوں کا جواب دینا چاہیے۔ سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم رکوانے کے لئے اسلامی دنیا سے مضبوط پیغام آنا چاہیے، برما کی حکومت کو ان مظالم سے روکنا ہو گا۔ سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سلامتی کونسل کو روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، مسلمانوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے ان بھائیوں پر ہونے والے ظلم کے خلاف ہر طرح سے آواز بلند کریں اور ان کو ان مظالم سے نجات دلائیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپین یونین کے سخت ردعمل کے بعد برما میں عیسائیت اقلیت کے ساتھ برما کی حکومت کے رویئے میں تبدیلی آئی ہے، مسلمانوں پر ظلم ڈھائے جا رہے ہیں، مسلمانوں کو بھی اب اسی طرح کا ردعمل دینا چاہیے۔ سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ میں خود ان کیمپوں کا دورہ کر چکا ہوں، وہاں پر لاکھوں افراد کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں، پاکستانی حکومت کو بنگلہ دیش کی حکومت سے بات کر کے پناہ گزینوں کی مدد کرنی چاہیے کیونکہ بنگلہ دیش کی طرف سے امدادی کام کرنے والوں کو ویزے نہیں دیئے جا رہے ہیں، ترکی پناہ گزینوں کی مدد کے لئے بھرپور کام کر رہا ہے، برما میں متاثرین تک رسائی نہیں دی جا رہی، ان کیمپوں میں حالات مخدوش اور بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔ چیئرمین سینٹ کو روہنگیا مسلمانوں کی امداد کے لئے کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ میانمر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم انتہائی تشویش کا باعث ہیں، عالمی برادری اس کا فوری نوٹس لے اور میانمر سے فوجی ساز و سامان کی فراہمی فوری بند ہونی چاہیے۔ سینیٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ عالمی برادری روہنگیا مسلمانوں پر مظالم بند کرانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ سینیٹر طاہر حسین مشہدی نے کہا کہ برما میں ہونے والے مظالم کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے، عالمی برادری کی خاموشی سے صورتحال مزید گھمبیر ہو گی۔ سینیٹر نثار محمد نے کہا کہ برما میں انسانیت کی تذلیل کی جا رہی ہے، مسلمانوں پر مظالم کی انتہا ہو چکی ہے، ہمیں طبقات سے بالاتر ہو کر سوچنا ہو گا۔ سینیٹر نہال ہاشمی، سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم، سینیٹر غوث محمد خان نیازی، سینیٹر نگہت مرزا، سینیٹر جہانزیب جمالدینی، سینیٹر عثمان کاکڑ، سینیٹر اشوک کمار، سردار یعقوب ناصر اور ایم حمزہ نے کہا کہ روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ انسانیت پر اگر ظلم ہوتا ہے تو ہمارا فرض ہے کہ ان کی ہر ممکن مدد کرنی چاہیے۔

روہنگیا کے مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم کے حوالے سے تحریک التواء پر بحث کے دوران چیئرمین سینٹ نے کہا کہ سینیٹر طلحہ محمود نے روہنگیا پناہ گزینوں کے کیمپوں کا دورہ کیا اور ان تک امدادی سامان پہنچایا اور یہ سب کچھ انہوں نے ذاتی طور پر کیا اس میں کسی سے انہوں نے مدد نہیں مانگی، ان کے اس اقدام کو سراہا جانا چاہیے۔ اس موقع پر ایوان میں موجود ارکان نے ڈیسک بجا کر سینیٹر طلحہ محمود کو خراج تحسین پیش کیا۔ روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے تحریک التواء پر بحث سمیٹتے ہوئے وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ پاکستان نے میانمر میں روہنگیا مسلمانوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ان پر جاری تشدد کی شدید مذمت کی ہے اور یہ مظالم بین الاقوامی برادری کے ضمیر کے لئے ایک چیلنج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کابینہ نے روہنگیا مسلمانوں پر تشدد کے خلاف ایک قرارداد کی منظوری دی ہے، حکومت خواتین، بچوں سمیت روہنگیا مسلمانوں کی خونریزی کی شدید مذمت کرتی ہے اور نہتے افراد کے خلاف اس طرح کے مظالم عالمی ضمیر اور معاشروں کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے، کابینہ نے اقوام متحدہ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ میانمر میں تشدد کے خاتمے کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔ میانمر کے سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے، خارجہ سیکرٹری نے زور دیا ہے کہ اس تشدد کے خاتمے، انسانی حقوق کے احترام اور روہنگیا مسلمانوں کو سیکورٹی فراہم کرنے کے لئے اقدامات کئے جائیں اور حالیہ تشدد کی فوری منصفانہ تحقیقات کی جائیں۔ بھارتی وزیراعظم کے امریکہ کے دورے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی سمجھوتوں کے حوالے سے تحریک التواء پر بحث سمیٹتے ہوئے زاہد حامد نے کہا کہ پاکستان جامع مذاکرات کے ذریعے بھارت کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لئے پرعزم ہے، پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں حق خود ارادیت کی جدوجہد میں کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا، کشمیریوں کی اپنی جدوجہد کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوئی بھی کوشش ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور ہم نے اس مقصد کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔

سینیٹر محسن عزیز کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں زاہد حامد نے کہاکہ آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس پالیسی میں بہتری آئی ہے اور جی ڈی پی میں اضافے کی شرح 5.3 فیصد ہو گئی ہے جو کہ اب 6 فیصد تک بڑھنے کی توقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ جی ڈی پی کی شرح میں اضافے کی بنیادی وجہ چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے، بجلی کی صورتحال میں بہتری اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات ہیں جن کا آئی ایم ایف نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر ذکر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران جولائی سے ستمبر تک ایف بی آر کی ٹیکس وصولیوں میں 20 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اسی طرح کاروبار کا ماحول ملک میں بہتر ہوا ہے، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھجوائی جانے والی رقوم بھی 13 فیصد تک بڑھ گئی ہیں، ہم پورے معاشی نظام کو ڈیجیٹلائز کر رہے ہیں، آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا اجلاس مارچ اپریل میں ہوا تھا اور جون میں اس کی رپورٹ آئی ہے۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے سینیٹر میاں عتیق شیخ کی تحریک التواء پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ کرنل (ر) حبیب کو موصول ہونے والی کال کے بارے میں بھی پتہ چلا ہے کہ وہ جعلی کال تھی جس کے لئے انٹرنیٹ کو استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کرنل (ر) حبیب کا نیپال میں استقبال کرنے والے شخص کا تعلق بھارت سے تھا، بھارت سے ہم نے اس معاملے پر بات کی ہے تو ہمیں جواب دیا گیا ہے کہ یہ واقعہ نیپال کی سرزمین پر ہوا ہے، اب نیپال سے ہم درخواست کی ہے کہ وہ تحقیقات میں تعاون کرے۔ اجلاس کے دور ان بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر عتیق شیخ نے کہا کہ یہ دفاع کا معاملہ ہے، یہ معاملہ ابھی شاید ابتدائی مراحل میں ہو، ہمیں اس معاملہ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو کاؤنٹر کرنے کے لئے بھارت کو سب کچھ دے رہا ہے، پاکستان کے پاس ڈرونز اور متعلقہ ٹیکنالوجی موجود ہے۔

سینیٹر عبدالقیوم نے کہا کہ یہ اسرائیل، امریکہ اور بھارت کی سازش ہے، اس الائنس کی وجہ سے بھارت کو سیکورٹی کونسل کا ممبر بنانے کی آواز اٹھائی جا رہی ہے، وہ چین کے نام پر اسلحہ لے کر پاکستان اور کشمیر پر استعمال کرتا ہے، جنوبی ایشیاء میں امن کا راستہ سری نگر سے ہے، اس لئے ہمیں احتجاج کرنا چاہیے۔ سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ امریکہ کی زیادہ پالیسیوں کا جھکاؤ بھارت کی طرف ہے۔ کسی دوسرے ملک کے نظریئے کو دیکھ کر دوستی نہیں کرنی چاہیے بلکہ اپنے مفادات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ بدقسمتی ہے کہ دو بڑے ممالک امریکہ اور بھارت کے حکمران انتہا پسند ہیں، کون نہیں جانتا کہ مودی کے ہاتھ خون سے رنگے ہوئے ہیں، ایک وقت تھا کہ امریکہ مودی کو ویزہ نہیں دیتا تھا، امریکی شہری بھی اب ٹرمپ کو اپنا صدر بنانے پر پچھتا رہے ہوں گے، ٹرمپ بھی بہت بڑا انتہا پسند ہے، یہ دو انتہا پسندوں کی دوستی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے کردار کو دنیانے سراہا اور ہماری قربانیوں کو تسلیم کیا ہے۔چیئر مین سینٹ نے ریمارکس دیئے کہ امریکہ یا بھارت کو علاقے میں پولیس مین نہیں بننے دیں گے۔

مزید خبریں