• سندھ سے چوروں اور لٹیروں کا صفایا کرکے دم لیں گے ٗ اب گو زرداری گو ہونے جارہا ہے ٗعارف علوی
  • بلاول بھٹو زرداری کااسلام آباد میں قیام کا فیصلہ
  • عمران خان غیر ملکی فنڈنگ کی کرپشن میں ملوث ہیں ٗ دانیال عزیز
  • نیا پاکستان تو بھٹو نے بنا کردیا تھا ٗ بلاول بھٹونانا کی سیاست آگے بڑھائیں گے ٗخورشید شاہ
  • منچن آباد پولیس کا کریک ڈاؤن ،موٹرسائیکل چوری کرنیوالا گینگ پکڑا گیا ٗتیرہ موٹر سائیکل بر آمد ٗ مقدمات درج
  • رائے ونڈ میں زہریلی چائے پینے سے چھ افراد کی حالت غیر ہو گئی ‘ ہسپتال منتقل
  • دتہ خیل میں ایک خاتون کے ہاں 5 بچوں کی پیدائش
  • بلوچستان میں سی پیک منصوبے پرعمل درآمد کیلئے محکمہ ریلویز نے اقدامات شروع کردیئے
  • سندھ میں پیپلز پارٹی نے 9سالہ اقتدارمیں لوٹ مار‘کرپشن اور سرکاری ملازمتیں فروخت کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا‘ریاض چاندڈیو
  • اوپن یونیورسٹی نے پی ایچ ڈی طلبہ کو پڑھانے کے لئے غیر ملکی ماہرین کو مدعو کرلیا

جس دن اس (سونے، چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس (تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی.(سورۃ التوبۃ)آیت نمبر 35

زرعی زمین سے کاشتکاری کا ریونیو بھی آمدنی شمار ہوگی، چیف جسٹس
Justice Saqib Nisar

اسلام آباد(اُردو ووز) چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ پنجاب کے زرعی ٹیکس ایکٹ میں کوئی ابہام نہیں ٗہر وہ شخص زرعی ٹیکس دیگا جو زمین سے آمدن حاصل کریگا ٗ آپ ابھی تک قائل نہیں کر سکے کہ ٹھیکیدار ٹیکس دینے سے مستثنیٰ ہے۔

جمعرات کے روز کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کاغذات نامزدگی میں زرعی اراضی کا ایک حصہ ظاہر کیا اور ایک نہیں، آپ یہ بتائیں کہ غلط بیانی کا کیا نتیجہ ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ جہانگیر ترین نے اپنی مکمل زرعی آمدنی الیکشن کمیشن کونہیں بتائی ٗانہیں آمدن پر5فیصد کے اعتبار سے ٹیکس دینا تھا۔

انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین کے پاس چاہے زمین لیز پر تھی لیکن انہیں آمدن مل رہی تھی. زرعی زمین سے کاشتکاری کا ریونیو بھی آمدنی ہوگی اور رینٹ بھی آمدن میں شمار ہوگا ٗجہانگیر ترین 18 ہزار ایکڑ زمین پر کاشت کاری کررہے تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں اور عدالت اپنی حتمی رائے نہیں دے رہی۔ اس موقع پر جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ میرا موکل نااہل نہیں ہوتا. عدالت بتائے میرے موکل نے کہاں جھوٹ بولا؟ جسٹس فیصل عرب نے سماعت کے دوران کہا کہ متعلقہ فورم پر زیر التوا مقدمات وفاقی قانون سے متعلق ہیں تاہم زرعی ٹیکس کا ایشو صوبائی معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ایگریکلچرل اتھارٹی نے آپ کو نوٹس جاری کیا؟اس پر سکندر بشیر نے کہا کہ پنجاب ایگری کلچرل اتھارٹی نے کوئی نوٹس جاری نہیں کیا، اتھارٹی کے قانون میں ابہام ہے جس کی وضاحت درکار ہے۔ انہوں نے کہاکہ جہانگیر ترین نے ایف بی آر کو زرعی آمدن سمیت مجموعی آمدن بتائی ، زرعی زمین کے ٹیکس گوشوارے 2سال کے اندر کھول سکتے ہیں۔

مزید خبریں