دفترخارجہ کانیوزی لینڈ سانحے میں شہید ہونے والے 4 افراد کے ورثا کے لئے ویزہ کی سہولت کا اعلان              پیپلزپارٹی نے رابطہ عوام مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا              سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل پر سفری پابندی عائد              سینیٹ کمیٹی: سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان میں آنے والے اخراجات کی تفصیلات طلب              سانحہ نیوزی لینڈ : شہید پاکستانیوں کی تعداد 6 ہوگئی              پاک فوج نے بھارت کاجاسوس ڈرون مار گرایا              شیخ رشید کا وزیر اعظم کی جانب سے مزدوروں کےلئے تین ، تین ہزار روپے انعام کا اعلان              کرائسٹ چرچ مساجد پر حملہ کرنے والا انتہا پسند عدالت میں پیش،قتل کا الزام عائد              آصف زرداری نے میگا منی لانڈرنگ کیس کی اسلام آباد منتقلی کا فیصلہ چیلنج کردیا       
تازہ تر ین

2017-18کے دوران زرعی شعبے میں بہتری کے باوجود پانی کی قلت کے خدشات برقرار، زرعی شعبے کی ترقی بھی متاثر ہونے کے امکانات

کراچی(ویب ڈیسک)مالی سال2017-18 کے دوران زرعی شعبے میں بہتری کے باوجود پانی کی قلت کے خدشات برقرار ہیں جس کے باعث زرعی شعبے کی ترقی بھی متاثر ہونے کے امکانات ہیں۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق مالی سال2017-18میں زرعی شعبے کی ترقی کی شرح 3. 8فیصد رہی جبکہ مالی سال2016-17میں ترقی کی شرح 2.1فیصد ریکارڈ کی گئی تھی ،مالی سال2017-18میں گلہ بانی کے شعبے میں بہتری کے ساتھ ساتھ چاول ،گنے اور دیگر چھوٹی فصلوں کی پیداوار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔فصلوں کی پیداوار میں اضافے کی وجوہات میں موافق موسمی حالات،خام مال پر دی جانے والی سبسڈی ،فصلوں کی بہترین امدادی قیمتیں اور ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال شامل ہیں جبکہ اس دوران فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔

مالی سال2017-18میں گندم اور چینی کی پیداوار ملکی ضرورت سے زیادہ رہی ،تاہم ان سب عوامل کے باوجود ملک میں مجموعی طور پر پانی کی قلت کے ساتھ زرعی شعبے کو بھی پانی کی کمی کے خدشات کا سامنا ہے جبکہ بارشوں میں کمی اور پانی ذخیرہ کرنے کے وسائل نہ ہونے کے باعث اس صورتحال میں فوری طور پر بہتری کے امکانات بھی دکھائی نہیں دیتے ۔رپورٹ میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ پانی کی قلت کے خدشات کے باعث زرعی شعبے کی ترقی کی رفتار متاثر ہوسکتی ہے ۔رپورٹ کے مطابق خریف اور ربیع کے موسموں میں آبپاشی کیلئے پانی کی دستیابی میں بالترتیب 2اور 1 9فیصد کی کمی واقع ہوئی اور کاشتکارو ں نے زیادہ تر زیر زمین پانی پر انحصار کیا ۔رپورٹ کے مطابق ملک کے بارانی علاقوں میں پانی کی دستیابی کا مسئلہ شدت اختیار کرگیا ہے ،تاہم رپورٹ میں قومی آبی پالیسی کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس کے نتیجے میں پانی کی قلت کے خدشات دور کرنے کے سدباب پیدا ہوسکتے ہیں۔

مزید خبر یں

کراچی (نیوز ڈیسک)پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر مندی کی لپیٹ میں رہی ،کے ایس ای100انڈیکس600پوائنٹس گھٹ گیا جس سے انڈیکس 38900پوائنٹس سے کم ہو کر38300پوائنٹس کی کم سطح پر بند ہوا ،مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے1کھرب12ارب روپے سے زائدڈوب گئے ... تفصیل

کراچی(نیوز ڈیسک)اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ سے 40 کروڑ 89 لاکھ ڈالر کا سرمایہ نکال لیا، جب کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال جولائی تا جنوری مجموعی ... تفصیل

کراچی(نیوزڈیسک)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز نے روئی کی خریداری بڑھادی ہے جبکہ جنرز نے بھی اسٹاک میں رکھی ہوئی روئی فروخت کرنا شروع کردی جس کے باعث کاروباری حجم میں نسبتاً اضافہ ہوگیا جبکہ روئی کے بھاﺅ میں بھی ... تفصیل