ملک بھر میں سونا 150روپے فی تولہ مہنگا              نواز شریف کی درخواست ضمانت پر نیب سمیت فریقین کو نوٹسز جاری،ہفتے میں رپورٹ طلب              قیادت کےخلاف نیب کی متوقع کارروائیاں ،پیپلز پارٹی کا حکومت کے خلاف تحریک چلانے کا فیصلہ              بلاول بھٹو زرداری کا وفاقی حکومت پر قتل کی دھمکیوں کا الزام              سندھ ہائی کورٹ نے سابق صدر اور فریال تالپور کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرلی              آصف زرداری نے نیب کا کال اپ نوٹس چیلنج کر دیا              بلاول کا نیب میں پیش ہونے کافیصلہ              پیرا گون ہاﺅسنگ کیس:خواجہ برادران کے ریمانڈ میں توسیع              وزیر خزانہ اسد عمر نے اپوزیشن کاالیکشن میں کالعدم تنظیموں کی حمایت لینے کا الزام مستردکردیا              سرکاری درس گاہوں میں 12ویں تک نیا نصاب پڑھانے کا فیصلہ       
تازہ تر ین

ڈالرکی قیمت اچانک 107سے 144 کیسے ہوئی سینیٹ کمیٹی معاملے کی تہہ تک پہنچ گئی

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے چیئرمین سینیٹر رحمٰن ملک نے روپے کی قدر میں مسلسل کمی کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سے رپورٹ طلب کرلی۔سینیٹر رحمٰن ملک نے کہا کہ روپے کی قدر مسلسل گرنے پر ایف آئی اے جامع رپورٹ 22 دسمبر تک کمیٹی کو جمع کرائے، ساتھ ہی غیر ملکی زرمبادلہ ایکٹ کے تحت تمام اسٹیک ہولڈرز سے تفتیش کرے۔رحمٰن ملک نے کہا کہ ایف آئی اے تفتیش کرے کہ روپے کی قدر میں اچانک کمی اور اس میں مسلسل گراوٹ کی کیا وجوہات ہیں۔قائمہ کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ یہ پریشان کن بات ہے کہ وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کو روپے کی قدر میں کمی کا پہلے سے علم نہ ہو، اگر وزیراعظم و وزیر خزانہ کو روپے کی قدر میں کمی کا علم نہیں ہوتا تو پھر کون سے عناصر و عوامل ملوث ہیں۔سینیٹر رحمٰن ملک کا کہنا تھا کہ روپے کی قدر گرنے میں غیر ملکی ایکسچینج ایجنٹس کا کیا کردار ہے، معلوم کیا جائے کہ کہیں ڈالر کی قلت اس کی قیمت بڑھانے کے لیے مصنوعی طور پر تو پیدا نہیں کی جارہی کیونکہ ماضی میں یہ ہوتا رہا ہے کہ کچھ ایجنٹ مل کر مارکیٹ سے ڈالر غائب کرکے مصنوعی قلت پیدا کرتے تھے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے کہا کہ ڈالر غائب ہوجانے کے بعد اسٹیٹ بینک کو کچھ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے ڈالر مہنگے داموں لینا پڑتا ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ کون اور کتنے وقت میں روپے کو گرانے کا فیصلہ کرتا ہے؟ کیا روپے کی قدر گرانے سے کسی خاص گروپ نے تو فائدہ نہیں اٹھایا؟سینیٹر رحمٰن ملک نے کہا کہ کیا روپے کی قدر کم کرتے وقت اس کی رازداری کو ملحوظ خاطر رکھا گیا تھا؟ان کا کہنا تھا کہ 17 جولائی کو ڈالر کی قیمت اچانک 107 سے 128 روپے ہوئی اور پھر 128 سے 134 جبکہ 30 نومبر کو یہ قیمت مزید بڑھتے ہوئے 144 روپے تک پہنچ گئی۔رحمٰن ملک نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے قرضوں کی ادائیگی کے لیے کیے وعدوں اور معاہدوں کو سامنے لائے اور ایف آئی اے روپے کی قدر گرنے میں غیرملکی زرمبادلہ، وزارت خزانہ اور اسٹیٹ بینک کے کردار کو دیکھے۔ان کا کہنا تھا کہ وقت کی ضروت ہے کہ روپے کی قدر گرنے کے پیچھے عوامل معلوم کیے جائیں۔خیال رہے کہ گزشتہ دنوں روپے کی قدر میں اچانک 8 سے 10 روپے کمی ہوئی تھی اور ڈالر 134 سے بڑھ کر 142 سے 144 تک ٹریڈ کیا گیا تھا۔بعد ازاں اسٹیٹ بینک نے اس معاملے میں مداخلت کی تھی اور ڈالر کی قیمت میں کچھ حد تک کمی ہوئی تھی اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 137 سے 139روپے تک پہنچ گئی تھی۔

مزید خبر یں

کراچی (نیوز ڈیسک)پاکستان اسٹاک مارکیٹ گذشتہ ہفتے مجموعی طور پر مندی کی لپیٹ میں رہی ،کے ایس ای100انڈیکس600پوائنٹس گھٹ گیا جس سے انڈیکس 38900پوائنٹس سے کم ہو کر38300پوائنٹس کی کم سطح پر بند ہوا ،مندی کے سبب مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کے1کھرب12ارب روپے سے زائدڈوب گئے ... تفصیل

کراچی(نیوز ڈیسک)اسٹیٹ بینک کے اعدادو شمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں غیرملکی سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ سے 40 کروڑ 89 لاکھ ڈالر کا سرمایہ نکال لیا، جب کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں رواں سال جولائی تا جنوری مجموعی ... تفصیل

کراچی(نیوزڈیسک)مقامی کاٹن مارکیٹ میں گزشتہ ہفتہ کے دوران ٹیکسٹائل و اسپننگ ملز نے روئی کی خریداری بڑھادی ہے جبکہ جنرز نے بھی اسٹاک میں رکھی ہوئی روئی فروخت کرنا شروع کردی جس کے باعث کاروباری حجم میں نسبتاً اضافہ ہوگیا جبکہ روئی کے بھاﺅ میں بھی ... تفصیل