پشاور دہشتگردی واقعہ میں زخمی ہونے والے لانس نائیک ظفر اقبال شہید              سابق ڈی جی اینٹی کرپشن حسین اصغر کو ڈپٹی چئیرمین نیب لگانے کا فیصلہ              شیخ رشید کا اسد عمر کو منانے کا اعلان              مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے عہدے کی ذمہ داری سنبھال لی              رینٹل پاور ریفرنس میں گرفتار ملزم شاہد رفیع جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے              آمدن سے زائد اثاثے: علیم خان کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30 اپریل تک توسیع              پنجاب حکومت کا بڑا رمضان پیکیج دینے کا اعلان              حکومت ملک میں ویلیو ایڈڈ ٹیکس کے نفاذ کیلئے آئی ایم ایف کی شرط پر رضامند       
تازہ تر ین

پاناما پیپرز کے بعد 22 ممالک کوایک ارب ڈالر سے زائد ٹیکس و جرمانہ وصول

لندن(نیوز ڈیسک)آف شور کمپنیوں سے متعلق پاناما پیپرز اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد سے اب تک 22 ممالک کی حکومتوں نے اس اسکینڈل میں نامزد سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات سمیت متعدد افراد سے ٹیکس اور جرمانے کی مد میں مجموعی طور پر ایک ارب 20 کروڑ ڈالر وصول کرلیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انٹرنیشنل کنسورشیئم آف انوسٹیگیٹو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے)نے بتایا کہ برطانیہ نے اسکینڈل کے بعد 25 کروڑ 30 لاکھ ڈالر، فرانس نے 13 کروڑ 60 لاکھ ڈالر، آسٹریلیا نے 9 کروڑ 30 لاکھ ڈالر ٹیکس و جرمانے کی مد میں وصول کیے۔پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات کرنے والے جرمن اخبار نے اپنی ایک رپورٹ نے بتایا کہ جرمنی ٹیکس و جرمانے کی مد میں اب تک 18 کروڑ 30 لاکھ ڈالر وصول کر لیے ۔آئی سی آئی جے کا اپنی ویب سائٹ پر کہنا تھا کہ جبکہ لوگوں کے ان چھپے ہوئے اثاثہ جات کے خلاف کارروائی حکومت کے لیے فائدہ دے رہی ہے وہیں پاناما پیپرز کا لوگوں کے رویے پر اثر انداز ہونے کا تاثر بھی عوام میں ابھر رہا ہے۔خیال رہے کہ پاناما پیپرز لیکس منظر عام پر آنے کے بعد دنیا کے مختلف ممالک کے ٹیکسیشن ادارے منظم انداز میں ہونے والی اس ٹیکس چوری کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے متحرک ہوگئے تھے۔دنیا کے 100 سے زائد میڈیا اداروں نے اس تحقیقات میں حصہ لیا جس میں 140 ٹیکس نادہندہ گان سیاست دان، فٹبال اسٹارز اور عرب پتی شخصیات شامل تھیں۔دنیا میں تہلکہ مچانے والے پاناما پیپرز ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات پر مشتمل تھے جن میں دنیا کی 2 لاکھ 14 ہزار 4 سو 88 کمپنیوں کا ریکارڈ موجود تھا۔ان دستاویزات کو بنانے کا سلسلہ 1970 کی دہائی پاناما کی لا فرم موساک فونیسکا نے شروع کیا تھا تاہم ان دستاویزات کو نامعلوم ذرائع نے 2015 میں لیک کردیا تھا۔یہ دستاویزات پاناما سے جاری ہوئیں تھیں جس کی وجہ سے انہیں پاناما لیکس کا نام دیا گیا، تاہم پاناما حکومت نے ان دستاویزات سے ان کے ملک کا نام جوڑنے پر اعتراض اٹھایا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ اس کی وجہ سے حکومت اور ملک کی ساکھ خراب ہورہی ہے۔

مزید خبر یں

کراچی(نیوزڈیسک)کراچی کاٹن ایسوسی ایشن کی اسپاٹ ریٹ کمیٹی نے اسپاٹ ریٹ 8800 روپے کے بھا وپر مستحکم رکھا۔کراچی کاٹن بروکرزفورم کے چیئرمین نسیم عثمان نے بتایا کہ رواں سیزن کی روئی ایک کروڑ 8 لاکھ گانٹھوں کے لگ بھگ ہوگی جو گزشتہ سال کی پیداوار 1 ... تفصیل

اسلام آباد (نیوزڈیسک) صدر پاکستان اکانومی واچ ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے کہا ہے ملکی معیشت کو سٹہ بازوں، منافع خوروں اوراقتصادی دھاندلی کے ماہر بزنس مینوں نے ہائی جیک کیا ہوا ہے۔سٹے بازی سب سے زیادہ منافع بخش جبکہ صنعت لگانا مصیبت بن گیا ہے سکی ... تفصیل

کراچی (نیوزڈیسک) یونائٹیڈ بزنس گروپ کے سرپرست اعلیٰ ایس ایم منیر،چیئرمین افتخار علی ملک،سیکریٹری جنرل زبیرطفیل اورمرکزی ترجمان گلزار فیروز نے وزیراعظم عمران کی جانب سے ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کو ملکی خزانے کا نگراں مقرر کرنے اورمشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو وزارت خزانہ،ریونیو اور اقتصادی امور کا ... تفصیل