حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

موجودہ مشکل حالات میں نئی مانیٹری پالیسی مرکزی بینک کا امتحان ہو گا، میاں زاہدحسین

کراچی(نیوزڈیسک) پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینئر وائس چیئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ موجودہ مشکل عالمی اور ملکی حالات میں نئی مانیٹری پالیسی مرکزی بینک کا امتحان ثابت ہو گی۔ایک طرف کرونا وائرس عالمی اقتصادی نظام کی بنیادیں ہلا رہا ہے جبکہ دوسری طرف ملکی معیشت کے لئے بھی مسائل میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کاروباری طبقہ کی جانب سے شرح سود میں کمی کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے جسکی وجہ سے وزیر اعظم اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے حال ہی میں مانیٹری پالیسی میں نرمی کا واضح اعلان بھی کیا ہے۔ میاں زاہد حسین نے بز نس کمیونٹی سے گفتگو میں کہا کہ ایک طرف ملکی سرمایہ کار موجودہ سخت مانیٹری پالیسی کو مزید برداشت کرنے سے قاصرنظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف عالمی معاشی عدم استحکام بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو رسک لینے سے روک رہا ہے اور وہ اپنے سرمائے محفوظ رکھنے کے جتن کر رہے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے سرمایہ کار ترقی پذیر ممالک سے اپنا سرمایہ نکال رہے ہیںجس سے ان ممالک کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں زیادہ شرح سود ہونے کی وجہ سے سرمایہ کار بھی اب اپنا سرمایہ سمیٹ رہے ہیں جسکی وجہ سے ماہ رواں کے پہلے 12روز میں پاکستانی مارکیٹ سے 600 ملین ڈالر کی رقم نکالی جا چکی ہے جس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس سے زرمبادلہ کے مستحکم ہوتے ہوئے ذخائر پر منفی اثر پڑ رہا ہے جس نے اسٹیٹ بینک کی ہاٹ منی پالیسی کے بارے میں سوالات اور ملکی معیشت کے لئے نئے چیلنج کھڑے کر دئیے ہیں۔ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاﺅ بھی تشویشناک ہے جس سے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کار دونوں پریشان ہیں کیونکہ اسے دنیا بھر میں عدم استحکام کی علامت سمجھا جاتا ہے۔روپے کا چند دن میں155 روپے فی ڈالر سے بڑھ کر 160تک پہنچنا اور پھر واپسی کا سفر بہت سے سرمایہ کاروں کےلئے پریشان کن ہے۔مرکزی بینک اگر روپے کی قدر کو مستحکم کرنا چاہتا ہے جو ضروری ہے تو اسے مانیٹری پالیسی میں نرمی کا آپشن چھوڑنا ہو گا کیونکہ ملکی حالات اسکی اجازت نہیں دیتے تاہم اس سے کاروباری برادری میں مایوسی بڑھے گی۔ دنیا بھر میں مرکزی بینکوں نے کرونا وائرس کی تباہ کاریوں سے نمٹنے کے لئے مانیٹری پالیسی میں نرمی کی ہے مگر پاکستان اس عیاشی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

مزید خبر یں

اسلام آباد (نیوزڈیسک)اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے دنیا کی 20 بڑی معیشتوں کے حامل ممالک کے گروپ (جی 20) سے قرضوں کو مؤخر کرانے کا معاہدہ کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کی زیر صدارت اقتصادی ... تفصیل

نیویارک (نیوزڈیسک)عالمی بینک نے متنبہ  کیا ہے کہ عالمگیر وبا کورونا سے دنیا بھر میں 6 کروڑ افراد انتہائی غربت کا شکار ہوسکتے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے صدر ڈیوڈ میلپاس نے کہا کہ پوری دنیا کو اس وقت عالمگیر وبا ... تفصیل

اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزیر اعظم عمران خان نے 'تاریخی مالی جدت' کو سراہا جس کے تحت حکومت نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مسابقتی عمل (کمپیٹیٹو بک بلڈنگ) کے ذریعے سکوک کے اجرا سے 200 ارب روپے اکٹھے کیے۔ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے وزیر ... تفصیل