برطانیہ ، پاکستانی ہائی کمیشن نے برطانوی شہریوں کیلئے ای ویزا کا اجراءشروع کر دیا              حکومت سندھ نے ایک بارپھرسرکاری ملازمتوں پرپابندی عائد کردی              مفتی تقی عثمانی حملہ: 6 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج              پشاور بس منصوبے کا افتتاح غیر معینہ مدت تک ملتوی              سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتار ی جاری              صدر ٹرمپ اور اتحادی افواج کا شام سے داعش کے مکمل خاتمے کا اعلان              ڈیم فنڈ: کینیڈا میں عمران خان کے دستخط شدہ 2 بلے 65 ہزار ڈالرز میں نیلام              یوم پاکستان ،مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا شاندار کرتب دکھا کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ              بھارت نے یسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی لگادی       
تازہ تر ین

پیدائشی بچوں میں یرقان کی حیران کن وجہ سامنے آگئی ، حل جاننے کیلئے یہ خبر ضرور پڑھ لیں ، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی

اسلام آباد(نیو زڈیسک)نومولود بچوں میں سب سے عمومی بیماری یرقان (پیلیا) ہے اور زیادہ تر معاملات میں یہ بغیر کسی خصوصی علاج کے 2 ہفتوں کے اندر خود ہی ٹھیک ہوجاتا ہے۔ مکمل دورانیے کے زیادہ تر بچوں میں یرقان ایک ہفتے سے زیادہ باقی نہیں رہتا۔یرقان تب ہوتا ہے جب بلی روبن نامی کیمیکل کی اضافی تعداد بچوں کے خون میں شامل ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ خون کے سرخ خلیوں کی تباہی ہوتی ہے۔ یرقان کی طبیعیاتی وجوہات بھی ہوسکتی ہیں (مثلاً بچوں کے جگر کا مکمل نشونما تک نہ پہنچنا)، 9 ماہ کی مدت سے پہلے بچے کی پیدائش، بلڈ گروپ کے مسائل (آر ایچ یا اے بی او بلڈ گروپ)، یا پھر ہیپاٹائٹس بھی اس کی وجہ ہوسکتی ہے مگر اس کے امکانات نہایت کم ہوتے ہیں۔چھاتی کے دودھ پر پلنے والے بچوں کی ایک چھوٹی سی تعداد کو چھاتی کے دودھ کا یرقان بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی وجوہات اب تک مکمل طور پر واضح تو نہیں مگر سمجھا جاتا ہے کہ ماں کے دودھ کی ساخت اس کی وجہ ہوسکتی ہے۔ چھاتی کے دودھ پر پلنے والے بچوں کے لیے فارمولا دودھ پر پل رہے بچوں کے مقابلے میں زیادہ بلی روبن ہونا عام ہے مگر اس کے
باوجود ماؤں کو اپنے بچوں کو چھاتی کا دودھ پلاتے رہنا چاہیے۔یرقان کی علامات یرقان عموماً زندگی کے دوسرے یا تیسرے دن سے شروع ہوتا ہے۔ پہلے بچے کا چہرہ پیلا نظر آتا ہے اور اس کے بعد یہ پیلاہٹ سینے اور ٹانگوں تک پھیل جاتی ہے۔ آنکھوں کی سفیدی بھی پیلی پڑسکتی ہے۔یرقان کا پتہ چلانے کے لیے بچے کے ناک یا پیشانی پر اپنی انگلی سے دباؤ ڈالیں۔ اگر جلد سفید ہوجائے (چاہے بچے کی رنگت جو بھی ہو) تو یرقان نہیں ہے۔ اگر جلد میں پیلاہٹ دکھائی دے تو فوراً اپنے بچے کے ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ چونکہ کئی بچوں کو یرقان ہونے سے پہلے ہی ہسپتال سے ڈسچارج کردیا جاتا ہے اس لیے اس کا پتہ لگانا والدین کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ یاد رکھیے کہ یرقان بچوں کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے جس سے عموماً بہرا پن، سیریبرل پالسی (cerebral palsy) یا دماغ کو نقصان ہوسکتا ہے جبکہ یہ ہیپاٹائٹس کی موجودگی کی علامت بھی ہوسکتا ہے۔اگر ڈاکٹر کو شک ہو کہ آپ کے بچے کو یرقان ہے تو وہ خون کے ٹیسٹ یا بلی روبینومیٹر کا استعمال کرتے ہوئے خون میں بلی روبن کی مقدار جانچ سکتے ہیں۔ خون کا ٹیسٹ عموماً صرف تب استعمال کیا جاتا ہے جب یرقان پیدائش کے 24 گھنٹے کے اندر ہوجائے۔ ٹیسٹ سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ آیا یرقان ہے یا نہیں اور یہ کہ علاج کی ضرورت ہے یا نہیں۔اگر ڈاکٹر بلڈ ٹیسٹ کے بعد بچے کے لیے علاج تجویز کرے تو بچے کو خصوصی روشنی میں رکھا جاتا ہے۔ اس علاج کو فوٹو تھیراپی کہتے ہیں۔ اگر یرقان طویل ہوجائے یا ہاضمے سے متعلق کوئی اور بیماری بھی شامل ہو تو مزید اقدامات بھی ضروری ہوسکتے ہیں۔

مزید خبر یں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سونے سے پہلے نیم گرم پانی پینا صحت کے لیے بہت فائد مند ہے۔مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر کوئی شخص سونے سےقبل پانی پینے سے گریزکرتا ہے تو جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ... تفصیل

نیویارک(نیوز ڈیسک) معروف سوشل میڈیا ویب سائٹ فیس بک نے پاکستان سمیت 5 ممالک کے ماہرین کے ساتھ شراکت داری کرتے ہوئے بغیر اجازت کے نامناسب تصاویر اپ لوڈ یا شیئر کرنے والے صارفین کو بلاک کے نئے اقدامات کا اعلان کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق فیس بک ... تفصیل

نیو یارک (نیوز ڈیسک) فیس بک کے ملازمین کو سوشل میڈیا سائٹ کے کروڑوں صارفین کے پاسورڈتک رسائی حاصل ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیس بک کے کروڑوں صارفین کے پاسورڈ تک کمپنی کے ملازمین کو رسائی حاصل ہو چکی ہے۔انٹرنیٹ سیکیورٹی محقق ... تفصیل