دفترخارجہ کانیوزی لینڈ سانحے میں شہید ہونے والے 4 افراد کے ورثا کے لئے ویزہ کی سہولت کا اعلان              پیپلزپارٹی نے رابطہ عوام مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا              سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل پر سفری پابندی عائد              سینیٹ کمیٹی: سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان میں آنے والے اخراجات کی تفصیلات طلب              سانحہ نیوزی لینڈ : شہید پاکستانیوں کی تعداد 6 ہوگئی              پاک فوج نے بھارت کاجاسوس ڈرون مار گرایا              شیخ رشید کا وزیر اعظم کی جانب سے مزدوروں کےلئے تین ، تین ہزار روپے انعام کا اعلان              کرائسٹ چرچ مساجد پر حملہ کرنے والا انتہا پسند عدالت میں پیش،قتل کا الزام عائد              آصف زرداری نے میگا منی لانڈرنگ کیس کی اسلام آباد منتقلی کا فیصلہ چیلنج کردیا       
تازہ تر ین

اکثر افراد کی رگیں بہت زیادہ نمایاں کیوں ہوتی ہیں؟جانئے

اسلام آباد(نیو زڈیسک)ہماری رگیں ایک اسمارٹ نظام کی طرح کام کرتی ہیں جو کہ آکسیجن ملے خون کی منتقلی کا کام کرتی ہیں۔عام طور پر لوگ رگوں کے بارے میں کچھ زیادہ غور اس وقت تک نہیں کرتے جب تک وہ اچانک جلد کے اندر سے ابھر کر نمایاں نہیں ہوجاتیں۔اگر اچانک رگیں ہاتھ پر موٹی ہوکر نمایاں ہوجائیں تو اس کی وجہ کیا ہوتی ہے؟درحقیقت عام طور پر رگوں کا اس طرح ابھرنا فکرمندی کی بات نہیں ہوتی مگر کبھی کبھار یہ مخصوص طبی مسائل کا اشارہ بھی کرتی ہیں۔مگر جیسا لکھا جاچکا ہے کہ اکثر اوقات اس کی وجوہات قدرتی ہوتی ہیں اور یہ صحت کے لیے خطرہ نہیں ہوتیں۔جلد بھی وجہ ہوسکتی ہےدرحقیقت شفاف جلد کے مالک افراد میں رگوں کے ابھرنے کا امکان گہری رنگت کی جلد والے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے، اسی طرح پتلی جلد ہونا بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے، کیونکہ عمر بڑھنے سے جلد کے اندر چربی کی تہہ پتلی ہوجاتی ہے جس کے نتیجے میں یہ رگیں ابھرنے لگتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اکثر بزرگ افراد کے ہاتھوں یا پیروں میں رگیں کافی نمایاں نظر آتی ہیں۔ ایک دلچسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ کچھ افراد کی رگیں قدرتی طور پر جلد کی سطح کے بہت قریب ہوتی ہیں۔ورزش بھی وجہ ہوسکتی ہےورزش کے دوران رگوں کا اچانک ابھرنا عام ہوتا ہے، جسمانی سرگرمیوں کے درمیان جب مسلز حرکت میں آتے ہیں تو رگیں جلد کی سطح کی جانب ابھر کر نمایاں ہوتی ہیں۔ ورزش کے بعد جب مسلز دوبارہ قدرتی شکل میں جاتے ہیں تو رگیں بھی غیرنمایاں ہوجاتی ہیں۔حاملہ خواتین میں بھی عام ہےبیشتر حاملہ خواتین کو رگوں کے ابھرنے کا سامنا ہوتا ہے اور یہ فکرمندی کی علامت نہیں۔ درحقیقت حاملہ خواتین میں خون کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے اور یہ رگیں اس مقدار کے بڑھنے سے مطابقت پیدا کرنے کی کوششیں کررہی ہوتی ہیں۔ آسان الفاظ میں خون کی شریانوں کو حاملہ خواتین کے جسم کے اندر دوران خون کی منتقلی کے اوور ٹائم کرنا پڑتا ہے، جس کے نتیجے میں رگیں اکثر نمایاں ہوجاتی ہیں، جو کہ بچے کی پیدائش کے بعد ممکنہ طور پر غائب بھی ہوجاتی ہیں۔جسمانی کمزوری جسم میں چربی کی سطح کم ہونا بھی رگوں کے ابھرنے کا باعث بنتی ہے، پتلے افراد کی جلد کے اندر چربی کی تہہ بھی پتلی ہوتی ہے اور یہ پتلی تہہ رگوں کو چھپا نے کی بجائے زیادہ نمایاں کردیتی ہے۔کب ڈاکٹر سے رجوع کریں؟بیشتر حالات میں تو رگوں کا ابھرنا عام معمول اور صحت کے لیے فائدہ مند ہی ہوتا ہے جس پر فکرمند ہونے کی بات نہیں، تاہم اگر رگیں ابھرنے کے ساتھ چند دیگر علامات جیسے سینے میں درد، سانس لینے میں مشکل، رگوں کے قریب ناسور یا سوجن ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے، کیونکہ یہ مختلف طبی مسائل کا عندیہ ہوسکتا ہے۔

مزید خبر یں

کراچی (نیوز ڈیسک) ملکی و غیر ملکی طبی ماہرین نے کہا ہے کہ بیماریوں کی جلد تشخیص مریضوں کو مستقل معذوری سے بچا سکتی ہے ، لوگوں کو چاہیے کہ وہ طبی ماہرین سے رجوع کریں ، سنی سنائی باتوں ، از خود ادویات کے استعمال ... تفصیل

کراچی (نیوزڈیسک) ملکی اور غیر ملکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ موٹاپا غیر صحت مندانہ طرز زندگی ، غیر متوازن غذا کا استعمال ، جوڑوں اور پٹھوں کے امراض کا سبب بن رہا ہے ، دن کا بہت زیادہ وقت بند کمروں میں گزارنا ، ... تفصیل

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) دھنیا ایسی چیز ہے جو کہ لگ بھگ ہر گھر میں ہی موجود ہوتا ہے اور اس خوشبودار بوٹی کو کھانوں یا چٹنی وغیرہ کی تیاری کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ویسے اس کے پتے کچے بھی کھائے جاسکتے ہیں جو کہ ... تفصیل