وزیر اعظم عمران خان کا قوم کو بہت جلد بڑی خوشخبری دینے کا اعلان              وزیراعظم عمران خان نے نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ تشکیل دینے کی منظوری دے دی              سراج الحق جماعت اسلامی کے دوبارہ امیر منتخب              حکومت کی جانب سے دو ارب روپے کا رمضان پیکج منظور ،یوٹیلی اسٹورز کارپوریشن نے کئی اشیاءمہنگی کردیں              چیف جسٹس آصف سعید نے بریگیڈیئر (ر) اسد منیر کی مبینہ خودکشی کا نوٹس لے لیا، چیئر مین نیب سے رپورٹ طلب              سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاﺅن کر اچی کی 460ارب روپے کی پیشکش قبول کر لی              وزیر اعظم نیوز ی لینڈ کا خود کار و نیم خودکارہتھیاروں پر پابندی کا اعلان              جماعت اسلامی کا متحدہ مجلس عمل سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان              مشال قتل کیس میں مزیددو ملزمان کو عمر قید       
تازہ تر ین

کم کھانے سے معدے پر کیا اثر ہوتا ہے ؟ تحقیقی نے سب کو غلط ثابت کردیا

اسلام آباد( نیو زڈیسک)اگر آپ کم کھانا شروع کردیں تو کیا معدہ سکڑ جائے گا تاکہ کم غذا سے بھی تسلی ہوسکے؟ہوسکتا ہے آپ نے یہ سنا ہو کہ اپنی غذا میں کمی لانا معدے کو سکیڑ دیتا ہے مگر حقیقت تو یہ ہے کہ اس میں کوئی سچائی نہیں۔ایسا کہا جاتا ہے کہ غذائی مقدار میں کمی کے نتیجے میں خوراک کی اشتہا کم ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ لچکدار معدہ سکڑنے لگتا ہے تاکہ کم غذا سے بھی بھر جائے۔اگر پڑھنے میں مضحکہ خیز لگ رہا ہے تو حقیقت میں یہ واقعی مضحکہ خیز ہی ہے۔طبی ماہرین کے مطابق یقیناً معدہ ربڑ جیسی خصوصیات رکھتا ہے اور اپنا سائز بدل سکتا ہے جو کہ زیادہ کھانے کی صورت می ناسے ہضم کرنے میں مدد دیتا ہے اور قحط سالی کے دوران زندہ رہنے میں مدد دیتا ہے۔مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ سکڑنے کے بعد عام مقدار میں کھانے کے بعد وہ دوبارہ معمول کی شکل می نآجاتا ہے اور ہاں وہ کسی صورت چھوٹا نہیں ہوسکتا چاہے آپ بہت کم ہی کھانا کیوں نہ شروع کردیں۔ایک تحقیق کے مطابق ہر انسان ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے یعنی کوئی موٹا اور کوئی پتلا مگر سب کے معدے لگ بھگ ایک ہی حجم کے ہوتے ہیں۔تحقیق کے مطابق جسم اپنے افعال کے لیے مناسب مقدار میں کیلوریز کو ذخیرہ کرتا ہے چاہے غذا بہت کم ملے۔معدے کا سائز ایک ہی ہوتا ہے چاہے وزن جو بھی ہواگر کم کھانے سے معدہ سکڑ سکتا تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ زیادہ کھانے سے وہ پھیل جانا چاہئے، مگر ایسا ہوتا نہیں، طبی جریدے Gastroenterology میں شائع ایک تحقیق کے مطابق ہمارا وزن جتنا بھی ہو، ہر ایک کا معدہ لگ بھگ یکساں حجم کا ہوتا ہے۔اگر آپ کو اب بھی شبہ ہے تو تصور کریں کہ آپ کا جسم مناسب مقدار میں کیلوریز کے لیے ڈیزائن ہوا ہے تاکہ وہ اپنا کام جاری رکھ سکے، یہاں تک اس وقت بھی جب کھانا دستیاب نہ ہو۔تو بہتر ہوگا کہ آپ یقین کرلیں کہ کم کھانے سے معدہ سکڑتا نہیں، درحقیقت انسان جب کم کھاتا ہے تو اسے بھوک کا احساس زیادہ ستانے لگتا ہے کیونکہ اسے لگتا ہے کہ غذائی قلت کا شکار ہورہا ہے اور بھوک بڑھانے والے ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے تاکہ غذا کو سامنے دیکھ کر اس سے منہ موڑنا مشکل ہوجائے۔اسی دوران جسم کا درجہ حرارت اور میٹابولک ریٹ سست ہوجاتا ہے تاکہ قیمتی توانائی کو بچایا جاسکے۔طبی ماہرین کا تو کہنا ہے کہ اپنی غذا میں کمی لانا معدے کو تو نہیں سکیڑتا بلکہ یہ موٹاپے کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ جب آپ معمول کی غذا پر واپس آتے ہیں تو جسم کو زیادہ بھوک لگتی ہے اور انسان معمول سے زیاہد غذا کھانے لگتا ہے۔اگر ڈائیٹنگ کے ذریعے جسمانی وزن کم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے غذائی مقدار میں بتدریج کمی کرنے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ جسم اچانک دباؤ کا شکار نہ ہوجائے۔

مزید خبر یں

نیویارک (نیوز ڈیسک)امریکی محققین نے ایک تحقیق سے اخذ کیا کہ وہ افراد جو 60 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد گرم اور دن بھر میں 700 ملی لیٹر تک چائے پیتے ہیں ان میں نیم گرم یا ٹھنڈی چائے پینے والوں کے مقابلے میں 90 فیصد ... تفصیل

سان فرانسسکو(نیوز ڈیسک) دنیائے انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی گوگل نے باضابطہ طور پر ویڈیو گیم اسٹریمنگ سروس کا اعلان کردیا۔ اس سروس کے لیے خصوصی گیم کنسول یا تیز رفتار کمپیوٹرز کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ عام لیپ ٹاپ، ڈیسک ٹاپ، ٹیبلٹ اور اسمارٹ ... تفصیل

واشنگٹن (نیوز ڈیسک)امریکہ میں طبی تحقیق میں کہاگیاہے کہ کولڈ ڈرنکس یا میٹھے مشروبات کا استعمال صحت کے لیے تباہ کن ہوتا ہے اور جلد موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔ہارورڈ ٹی ایچ چن اسکول آف پبلک ہیلتھ کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چینی سے ... تفصیل