اصغر خان عملدآمد کیس بند کرنے کی ایف آئی اے کی استدعا مسترد              کراچی : غلط انجکشن سے متاثرہ بچی نشوا انتقال کر گئی              العزیزیہ ریفرنس : نواز شریف نے حاضر ی سے استثنیٰ مانگ لیا،کل دو رکنی بینچ سماعت کر یگا              فیڈرل جوڈیشل کمپلیکس کے ملازمین کا 29 اپریل کو پر امن احتجاج کا فیصلہ              اصغر خان کیس،ایف آئی اے نے ایک مرتبہ پھر کیس بند کرنے کی استدعا کر دی       
تازہ تر ین

رات گئے تک جاگنا فائدہ مند یا نقصان دہ ، تحقیق نے سب کے ہوش اُڑا دیئے

اسلام آباد(نیو زڈیسک)رات گئے تک جاگنا کچھ افراد کی عادت ہوتی ہے اور ایسے افراد کے لیے یہ طرز زندگی کے معمولات کا حصہ بن جاتا ہے۔انسان سونے کے لیے اپنی مرضی کا وقت کا انتخاب کرسکتے ہیں اور وہ رات گئے تک جاگنے یا جلد سو کر علی الصبح اٹھ سکتے ہیں۔جلد اٹھنے والے صبح جلدی اٹھتے ہیں جبکہ رات گئے تک جاگنے والے علی الصبح تک خوشی سے جاگتے ہیں۔اب علی الصبح جاگنے کے اپنے فوائد ہیں مگر یہاں رات گئے تک جاگنے والوں کا ذکر کریں گے جن کے بارے میں طبی سائنس نے کیا کچھ بتایا ہے وہ درج ذیل ہے۔زیادہ تخلیقی سوچ کے حامل کسی مسئلے کا اچھا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں؟ تو اس کا جواب رات گئے تک جاگنے والے کسی فرد سے جاننے کی کوشش کریں، کم ازکم اٹلی میں ہونے والی ایک تحقیق میں تو یہی دعویٰ کیا گیا ہے۔ کیتھولک یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں وہ زیادہ تخلیقی سوچ کا اظہار کرتے ہیں۔ مختلف ذہنی آزمائشی مقابلے میں ایسے افراد نے صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ کامیابی حاصل کی۔ محققین کے مطابق ایسے افراد کے اندر غیرروایتی روح ہوتی ہے اور آسانی سے مسائل کے حل ڈھونڈ لیتے ہیں۔مضبوط ذہن ویسے تو علی الصبح جاگنے والے افراد اپنے کام جلد نمٹاتے ہیں مگر وہ ذہنی طور پر بھی رات گئے تک جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ جلدی تھکاوٹ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ بیلجیئم میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ان دونوں گروپس کے درمیان ذہنی چوکنے پن کے حوالے سے واضح فرق پایا جاتا ہے، نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ جلد اٹھتے ہیں ان کے مقابلے میں رات گئے تک جاگنے والے زیادہ طویل وقت تک ذہنی طور پر ہوشیار اور چوکنے رہتے ہیں۔زیادہ ذہین ہوسکتے ہیں لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی طور پر تمام جانداروں کے اندر ایک گھڑی یا ردھم پایا جاتا ہے جو اعصابی خلیات کو ریگولیٹ کرتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کو زیادہ فعال یا الو کی طرح جاگنے والے علی الصبح اٹھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ذہانت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ تحقیق میں امریکی نوجوانوں کے جائزے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ زیادہ ذہین افراد عام طور پر رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، یا یوں کہہ لیں کہ دیر سے سونا اور جاگنا انہیں پسند ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق اوسط ذہانت اور نیند کے سونے کے رجحان کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔خاص مضبوطی کینیڈا کی البرٹا یونیورسٹی کی تحقیق میں صبح جلد اور رات کو دیر سے سونے والے افراد کے درمیان جسمانی مضبوطی کو جانچا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ صبح جلد اٹنے والے افراد کی جسمانی مضبوطی دن بھر برقرار رہتی ہے جبکہ رات گئے تک جاگنے والوں میں یہ مضبوطی شام میں عروج پر نظر آتی ہے۔ ایسے افراد میں رات کو موٹر کورٹیکس اور ریڑھ کی ہڈی کے کام کرنے کے افعال میں اضافہ ہوجاتا ہے، اس کے مقابلے میں صبح جلد اٹھنے والوں یہ امتزاج بیک وقت عروج پر کسی وقت نظر نہیں آتا۔زیادہ جسمانی توانائی سننے میں تو بالکل عجیب لگے مگر جو لوگ زیادہ دیر تک جاگتے ہیں وہ جسمانی طور پر زیادہ توانائی کے مالک ہوسکتے ہیں، حیران کن طور پر جرمنی کی Aachen یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جب آپ سونے کے لیے دیر سے بستر پر جاتے ہیں تو اٹھنے پر خود کو زیادہ توانائی سے بھرپور پاتے ہیں اور آپ کے لیے نیند کے چکر کو مکمل کرنے کے لیے وقت زیادہ ہوتا ہے۔ہر وقت کام کے لیے تیار رات گئے جاگنے والے جب ماں یا باپ بنتے ہیں تو ان کی جسمانی گھڑی ان کے معمولات میں آنے والی تبدیلی کو آسانی سے برداشت کرلیتی ہے، جیسا سب کو معلوم ہے کہ نومولود بچے ایک وقت میں دو یا چار گھنٹوں سے زیادہ نہیں سوتے، تو والدین کو بھی بار بار اٹھنا پڑتا ہے، تاہم رات گئے تک جاگنے والوں کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہوتا کیونکہ وہ اکثر جاگ ہی رہ ہوتے ہیں۔ اسی طرح

مزید خبر یں

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں سب سے بڑا ہسپتال پمز مالی مسائل کا گڑھ بن گیا، فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے پمزہسپتال میں اسٹنٹس کی فراہمی معطل ہوگئی ہے اور دل کے آپریشن بند کردئیے گئے ہیں۔ نجی ٹی وی ... تفصیل

الریاض (نیوز ڈیسک)موٹاپے کو بڑھانے کے لیے انسان کو زیادہ کوشش نہیں کرنا پڑتی، لیکن اسے کم کرنا جان جوکھوں کا کام ہے۔سعودی عرب کی آبادی کا 50 فیصدحصہ موٹاپے کا شکار ہے اور اس سے نجات حاصل کرنے کے لیے سعودی شہریوں نے سال 2018 ... تفصیل

تھرپارکر(نیوز ڈیسک)تھرپارکر میں غذائی قلت اور مختلف امراض کے باعث چھ بچے دم توڑگئے۔تفصیلات کے مطابق تھرپارکر میں غذائی قلت اور مختلف امراض کے باعث چھ بچے زندگی کی بازی ہار گئے ہیں۔سول اسپتال مٹھی میں چار، ننگرپارکر اورچھاچھرو اسپتال میں ایک،ایک نومولود چل بسا ہے ... تفصیل