اشرف غنی دوسری بار افغان صدر بننے میں کامیاب ہوگئے
پاکستان کا جدید ٹیکنالوجی سے لیس کروز میزائل رعد ٹو کا کامیاب تجربہ
خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ کیس کی سماعت 9مارچ تک ملتوی
زینب الرٹ بل کا دائرہ پورے ملک تک بڑھانے کا فیصلہ
مسلم لیگ(ن ) کا مارچ میں حکومت کیخلاف تحریک چلانے کا اعلان
احساس اثاثہ جات پروگرام :حکومت کا مستحقین کو مویشی، رکشے اور ٹھیلے مفت فراہم کرنے کا فیصلہ
ترک صدرطیب اردوان کا کشمیر سے متعلق بیان، بھارت نے ترک سفیر کو طلب کرلیا
کیپٹن (ر) صفدر کی ضمانت منسوخی کیلیے پنجاب حکومت کی درخواست مسترد
حمزہ شہباز نے اثاثوں میں اضافے کا ثبوت نہیں دیا: درخواست ضمانت مسترد ہونے کا تفصیلی فیصلہ
کراچی: کیماڑی میں مبینہ زہریلی گیس کے اخراج سے ہلاکتوں کی تعداد 14 ہوگئی
تازہ تر ین

سائنس دانوں نے کروڑوں سال قبل گم ہوجانے والا براعظم دریافت کرلیا گیا

ایمسٹرڈیم(نیوزڈیسک) سائنسدانوں نے اسپین سے ایران تک کے پہاڑی سلسلوں میں اس گمشدہ براعظم کے حصوں کو دریافت کرلیا۔نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق ہماری زمین کی 24 کروڑ سال پرانی تاریخ کو دوبارہ تیار کیا گیا اور بحیرہ روم کی ٹیکٹونیک یا ارضیاتی تاریخ کو بیان کیا گیا۔نیشنل جیوگرافک کی رپورٹ کے مطابق گریٹر ایڈریا نامی یہ براعظم یورپ سے ٹکرانے کے بعد زمین اور سمندر کے اندر دفن گیا ہوگیا جبکہ اس کا ملبہ پہاڑوں کی شکل اختیار کرگیا اور کروڑوں سال بعد بھی یہ باقیات موجود ہیں۔سائنسدانوں نے اسپین سے ایران تک کے پہاڑی سلسلوں میں اس گمشدہ براعظم کے حصوں کو دریافت کیا ہے۔تحقیق سے انکشاف ہوا کہ گریٹر ایڈریا سے ٹکراﺅ کے بعد ممکنہ طور پر اٹلی، ترکی، یونان اور جنوب مشرقی یورپ میں پہاڑی سلسلے بنے۔تحقیقی ٹیم کے قائد اور نیدرلینڈز کی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈووی وان ہینسبرگن نے بتایا کہ بحیرہ روم کا خطرہ درحقیقت ارضیاتی ملغوبہ ہے، ہر چیز جھکی، ٹوٹی ہوئی اور بکھری ہوئی ہے۔گریٹر ایڈریا کبھی زمانہ قدیم کے سپر براعظم گونڈوانا کا حصہ تھا جو بعد ازاں تقسیم ہوکر افریقہ، انٹارکٹیکا، جنوبی امریکا، آسٹریلیا اور ایشیا و مشرق وسطیٰ کے بڑے حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔24 کروڑ سال پہلے گریٹر ایڈریا گونڈوانا سے الگ ہوا اور خود براعظم کی شکل اختیار کرلی، مگر اس کا بیشتر حصہ سمندر کے اندر ڈوبا ہوا تھا اور سائنسدانوں کے خیال میں اس براعظم میں مختلف جرائز کا گروپ بن گیا جو کہ برطانیہ یا فلپائن جیسے ہوں گے۔24 کروڑ سال پہلے یہ براعظم شمال کی جانب بڑھنے لگا اور 10 سے 12 کروڑ سال قبل اس کا ٹکراﺅ یورپ سے ہوا اور وہ نیچے کی جانب دھنسنے لگا، مگر چونکہ اس کی کچھ چٹانیں بہت ہلکی تھیں تو زمین کی پرت میں غائب نہیں ہوئیں۔ان دونوں کے ٹکڑاﺅں سے پہاڑی سلسلے جیسے الپس کی بنیاد بنی اور یہ ٹکڑاﺅ لاکھوں یا کروڑوں برسوں میں مکمل ہوا کیونکہ ہر براعظم ہر سال محض 4 سینٹی میٹر ہی آگے بڑھتا تھا۔اس سست رفتاری کے باوجود اس ٹکڑا ﺅنے 60 میل موٹے براعظم کو زمین کے قطر کی گہرائی میں پہنچادیا اور اب اس کی باقیات ایک اسرار ہیں۔یہ حقیقت کہ اس کی باقیات مغربی یورپ سے مشرق وسطیٰ تک پھیلی ہوئی ہیں، نے سائنسدانوں کے لیے حالات بہت مشکل بنادیئے تھے۔

مزید خبر یں

اسلام آباد /بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین میں کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے 4 پاکستانی طلبہ صحتیاب ہوگئے ،بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کی دو رکنی اسپیشل ٹاسک فورس ووہان پہنچ گئی،ٹاسک فورس ممبران کو پاکستان کی خصوصی درخواست پر ووہان جانے کی اجازت دے دی گئی ... تفصیل

جنیوا (نیوز ڈیسک)عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے چین سے پھوٹنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے ہنگامی خریداری، تقاریب کی منسوخی کے علاوہ کروز شپ سے سفر پر تحفظات کو حد سے زیادہ عالمی ردعمل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ... تفصیل

پشاور (نیوزڈیسک) خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پولیو کے 5 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد رواں برس کے ابتدائی ڈیڑھ ماہ میں ملک کے مختلف حصوں میں سامنے آنے والے پولیو کیسز کی تعداد 17 ہوگئی۔ایمرجنسی آپریشن سینٹر خیبر پختونخوا کے مطابق صوبے ... تفصیل