اسلام آباد ہائی کورٹ کا ملزم عبد الغنی مجید کی ضمانت منظوری کا فیصلہ
ایران سے آنے والے 600 افراد کلیئر قرار، ماسک کی ذخیرہ اندوزی پر پابندی عائد : سندھ حکومت
وفاقی کابینہ نے مشتاق مہر کو آئی جی سندھ تعینات کرنے کی منظوری دے دی
نارووال اسپورٹس سٹی کیس ، احسن اقبال پیش ، عدالت کی نیب کو ایک ماہ میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت
کورونا وائرس: عمرہ زائرین کے سفر پر 15 مارچ تک پابندی عائد
تازہ تر ین

ذیابیطس میں مبتلا ہر دو میں سے ایک شخص عدم تشخیص کے باعث بیماری سے لا علم ہیں، طبی ماہرین

Diabetes

اسلام آباد (نیوزڈیسک) دنیا بھر میں ذیابیطس کا عالمی دن جمعرات کو منایا جائیگا۔ یہ عالمی سطح پرایک آگاہی مہم ہے جو ذیابیطس پر مرکوز ہے اور ہر سال 14 نومبر کو منعقد کی جاتی ہے۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال نے اس دن کی مناسبت سے آج بدھ کو ایک آگاہی سیمینار کا اہتمام کیا۔مہمانِ خصوصی سینیٹر خوش بخت شجاعت (چیئرپرسن،سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن) نے ذیابیطس کے عالمی دن کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال 2019میں اس دن کا موضوع ذیابیطس کے اثرات ،دیکھ بھال اور روک تھام کے حوالے سے آگاہی فراہم کر کے اپنے خاندان کی حفاظت کرنا ہے۔ انہوں نے غیر فعال طرز زندگی،مضر صحت غذا کھانے کی عادات، ورزش اور جسمانی سرگرمی کی کمی کے حوالے سے ذیابیطس کے مریضوں کومعلومات فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا، جو ذیابیطس کے پھیلاﺅ کو روکنے کےلئے متوقع قابو پائے جانے والے عوامل میں شامل ہیں۔شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے کنسلٹنٹ اینڈو کرینولوجسٹ ڈاکٹر اسامہ اشتیاق نے کہا کہ، پاکستان میں ذیابیطس کا مجموعی طور پر پھیلاﺅ 19 فیصد ہے اور اس وقت عالمی سطح پر52کروڑ20لاکھ سے زائد افراد ذیابیطس کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر مریض ٹائپ ٹو ذیابیطس کے ہیں، ذیابیطس کی ٹائپ ٹو قسم پر باقاعدہ ورزش، صحت مند اور متوازن غذا، اور صحت مندانہ ماحول کو فروغ دے کر بڑے پیمانے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ ٹائپ 2ذیابیطس میں مبتلامریضوں کے خاندان ذیابیطس سے بچاﺅ کیلئے ان خطرناک عوامل سے نمٹنے میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں جو قابل اصلاح ہیں اور ان مریضوں کومناسب ماحول فراہم کر کے صحت مند طرز زندگی اپنانے اور ذیابیطس کے حوالے سے ہر ممکنہ آگاہی حاصل کرنے پر ابھار سکتے ہیں۔ لیکن ٹائپ 1 ذیابیطس سے بچاﺅممکن نہیں ہے لیکن انسولین کے انجیکشن کے ذریعہ ان پر وقتی قابو پایا جاسکتا ہے۔شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے کنسلٹنٹ اینڈو کرینولوجسٹ، ڈاکٹر عمر یوسف راجہ خان نے وضاحت کی کہ، ذیابیطس ایک دائمی بیماری ہے جو اس وقت ہوتی ہے جب لبلبہ انسولین بنانے کے قابل نہیں رہتا ہے، یا جب جسم انسولین کا بہتر استعمال نہیں کرسکتا ۔ طویل مدت تک گلوکوز کی وہ سطح جو عام سطح سے تجاوز کر جائے، جسم کیلئے نقصان دہ ہے اور مختلف اعضاءاورخلیوں پر مضر اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ ذیابیطس، دل کی بیماری، فالج، نابینا پن، گردے کی خرابی، اور اعضاءکے کاٹے جانے کا بھی ایک اہم سبب بن سکتی ہے۔ذیابیطس میں مبتلا ہر دو میں سے ایک شخص عدم تشخیص کے باعث اس بیماری سے لا علم ہے۔ زیادہ ترمریض ٹائپ ٹو ذیابیطس سے متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تشخیص اور علاج، ذیابیطس کی پیچیدگیوں سے بچنے اور صحت مند نتائج کے حصول کےلئے بہت اہم ہیں۔

مزید خبر یں

لندن /تہران(نیوزڈیسک) برطانوی میڈیا نے کہاہے کہ ایران میں کرونا وائرس سے اب تک 210 افراد ہلاک ہوچکے ہیں لیکن ایرانی حکومت کرونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی اصل تعداد چھپا رہی ہے۔برطانوی میڈیا نے بتایاکہ ایران میں کرونا کے نتیجے میں دارالحکومت تہران میں 100 ... تفصیل

بیجنگ(نیوز ڈیسک) چین میں کورونا وائرس نے مزید 47 افراد کی جان لے لی، جس کے بعد چین میں اس وائرس سے اموات کی مجموعی تعداد 2 ہزار 835 ہو گئی ہے جبکہ اٹلی میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 17 ہو گئی۔میڈیارپورٹس کے مطابق ... تفصیل

جنیوا(نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کی ایسی اقسام سے تعلق رکھتا ہے جو انسانوں اور جانوروں میں تنفس یعنی سانس لینے میں دشواری جیسے انفیکشن کا سبب بنتے ہیں،لوگ قدرتی طور پر خوفزدہ ہیں کیونکہ وائرس پوری دنیا میں پھیل رہا ہے ... تفصیل