حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

شدید ترین سمندری طوفانوں میں 3 گنا اضافہ ہوچکا، ماہرین

کوپن ہیگن(نیوزڈیسک) ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید ترین سمندری طوفانوں میں 3 گنا اضافہ ہوچکاہے۔ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران شدید طوفانوں کی تعداد میں 3 گنا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ ان کی رفتار بھی ہلکی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے وہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ تباہی پھیلا رہے ہیں۔اگرچہ یہ تحقیق صرف امریکا میں پچھلے 100 سال کے دوران آنے والے طوفانوں کے بارے میں ہے لیکن اس سے دنیا بھر میں ماحول کی بدلتی صورتِ حال اور متوقع نتائج کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔حالیہ دو عشروں میں دو بڑے سمندری طوفانوں سے امریکا میں بدترین تباہی پھیل چکی ہے: 2005ءمیں سمندری طوفان ”کترینا“ نے امریکی معیشت کو 161 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا جبکہ 2017ءکے ”ہاروے“ سے ہونے والا مالی نقصان 125 ارب ڈالر تھا۔اب تک طوفانوں سے ہونے والی تباہی کی پیمائش کا واضح پیمانہ نہیں تھا، لیکن یونیورسٹی آف کوپن ہیگن، ڈنمارک کے ایسلاک گرنسٹیڈ اور ان کے ساتھیوں نے ایک نیا پیمانہ متعارف کروایا ہے جسے ”تباہی کا مجموعی رقبہ“ (ایریا آف ٹوٹل ڈسٹرکشن، یا ATD) کا عنوان دیا گیا ہے، جس کے تحت کسی بھی طوفان کی شدت یا ہواﺅں کی رفتار کے بجائے خشکی پر اس کے پھیلاﺅ، دورانیے اور اس سے تباہ شدہ رقبے کو مدنظر رکھا گیا ہے۔جب اس پیمانے کو بنیاد بناتے ہوئے گزشتہ سو سالہ طوفانوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں سے لے کر اکیسویں صدی کے پہلے دو عشروں تک، شدید اور زیادہ تباہ کن طوفانوں کی تعداد میں 330 فیصد (3.3 گنا) اضافہ ہوچکا ہے۔ یہ ایسے طوفان ہیں جو 1200 کلومیٹر یا اس سے زیادہ رقبے پر تباہی پھیلاتے ہیں۔ کترینا اور ہاروے بھی ایسے ہی دو طوفان تھے جو صرف 12 سال کے وقفے میں آئے۔حیرت انگیز طور پر، اس دوران طوفانوں کے آگے بڑھنے کی رفتار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی بناءپر وہ زیادہ لمبے عرصے تک ایک ہی علاقے پر مسلط رہتے ہیں اور وہاں پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ تباہی پھیلاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے سو سال میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں بھی ایک درجہ فیرن ہائیٹ کا اضافہ ہوچکا ہے جس کے باعث وہاں سے بننے والے آبی بخارات (بھاپ) کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے۔یہی وہ بھاپ ہے جو کسی سمندری طوفان (ہریکین) کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے۔ ہوا میں بخارات جتنے زیادہ ہوں گے، طوفان بھی اسی قدر شدید بنے گا؛ جبکہ ساحل سے ٹکرا کر وہ زیادہ تباہی پھیلائے گا تاہم یہ نکتہ ابھی تک ایک مفروضے کی شکل میں ہے جسے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل