چین: کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 1500 سے تجاوز کرگئی
دہشتگردی کو کسی مذہب، قومیت اورتہذیب سے نہیں جوڑا جاسکتا، پاک ترک مشترکہ اعلامیہ
ڈیرہ اسماعیل خان ،30 دن کیلئے دفعہ 144 نافذ ،5 یا زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر پابندی
نیب نے رانا ثنااللہ کو آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں 19فروری کو دوبارہ طلب کر لیا
نیب کی ٹیم کے منی لانڈرنگ کیس میں شریف فیملی کی ملکیتی کمپنیوں کے دفاتر پر چھاپے ،اہم ریکارڈ قبضے میں لے لیا گیا
وفاقی حکومت کاچین میں پھنسے طلبہ کے والدین کواعتمادمیں لینے کا فیصلہ
تازہ تر ین

شدید ترین سمندری طوفانوں میں 3 گنا اضافہ ہوچکا، ماہرین

کوپن ہیگن(نیوزڈیسک) ماہرین کا کہنا ہے کہ شدید ترین سمندری طوفانوں میں 3 گنا اضافہ ہوچکاہے۔ڈنمارک سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران شدید طوفانوں کی تعداد میں 3 گنا اضافہ ہوچکا ہے جبکہ ان کی رفتار بھی ہلکی ہوچکی ہے جس کی وجہ سے وہ پہلے کی نسبت کہیں زیادہ تباہی پھیلا رہے ہیں۔اگرچہ یہ تحقیق صرف امریکا میں پچھلے 100 سال کے دوران آنے والے طوفانوں کے بارے میں ہے لیکن اس سے دنیا بھر میں ماحول کی بدلتی صورتِ حال اور متوقع نتائج کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔حالیہ دو عشروں میں دو بڑے سمندری طوفانوں سے امریکا میں بدترین تباہی پھیل چکی ہے: 2005ءمیں سمندری طوفان ”کترینا“ نے امریکی معیشت کو 161 ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا جبکہ 2017ءکے ”ہاروے“ سے ہونے والا مالی نقصان 125 ارب ڈالر تھا۔اب تک طوفانوں سے ہونے والی تباہی کی پیمائش کا واضح پیمانہ نہیں تھا، لیکن یونیورسٹی آف کوپن ہیگن، ڈنمارک کے ایسلاک گرنسٹیڈ اور ان کے ساتھیوں نے ایک نیا پیمانہ متعارف کروایا ہے جسے ”تباہی کا مجموعی رقبہ“ (ایریا آف ٹوٹل ڈسٹرکشن، یا ATD) کا عنوان دیا گیا ہے، جس کے تحت کسی بھی طوفان کی شدت یا ہواﺅں کی رفتار کے بجائے خشکی پر اس کے پھیلاﺅ، دورانیے اور اس سے تباہ شدہ رقبے کو مدنظر رکھا گیا ہے۔جب اس پیمانے کو بنیاد بناتے ہوئے گزشتہ سو سالہ طوفانوں کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ بیسویں صدی کے ابتدائی برسوں سے لے کر اکیسویں صدی کے پہلے دو عشروں تک، شدید اور زیادہ تباہ کن طوفانوں کی تعداد میں 330 فیصد (3.3 گنا) اضافہ ہوچکا ہے۔ یہ ایسے طوفان ہیں جو 1200 کلومیٹر یا اس سے زیادہ رقبے پر تباہی پھیلاتے ہیں۔ کترینا اور ہاروے بھی ایسے ہی دو طوفان تھے جو صرف 12 سال کے وقفے میں آئے۔حیرت انگیز طور پر، اس دوران طوفانوں کے آگے بڑھنے کی رفتار میں کمی واقع ہوئی ہے۔ اسی بناءپر وہ زیادہ لمبے عرصے تک ایک ہی علاقے پر مسلط رہتے ہیں اور وہاں پہلے کے مقابلے میں بہت زیادہ تباہی پھیلاتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پچھلے سو سال میں سمندری سطح کے درجہ حرارت میں بھی ایک درجہ فیرن ہائیٹ کا اضافہ ہوچکا ہے جس کے باعث وہاں سے بننے والے آبی بخارات (بھاپ) کی مقدار بھی بڑھ گئی ہے۔یہی وہ بھاپ ہے جو کسی سمندری طوفان (ہریکین) کے لیے ایندھن کا کام کرتی ہے۔ ہوا میں بخارات جتنے زیادہ ہوں گے، طوفان بھی اسی قدر شدید بنے گا؛ جبکہ ساحل سے ٹکرا کر وہ زیادہ تباہی پھیلائے گا تاہم یہ نکتہ ابھی تک ایک مفروضے کی شکل میں ہے جسے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

مزید خبر یں

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی حکام نے کہا ہے کہ چین میں پھیلنے والے کرونا وائرس سے مزید درجنوں افراد جاں بحق ہو گئے جس کے بعد اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق چینی حکام ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چین میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس سےمتاثرہ 103 افراد کی ہلاکت کے بعد مجموعی طورپر اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 1016 تک جا پہنچی ہے۔ دوسری طرف چینی حکام نے کہاہے کہ کرونا وائرس سے متاثرہ مزید ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک ) چین میں کورونا وائرس سے مزید 93 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جس کے بعد کورونا سے اموات کی تعداد 813 سے بڑھ کر 906 ہوگئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں بیماروں کی تعداد میں بھی3ہزار افراد کا اضافہ ہوا ہے اور ... تفصیل