حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

انسانی دماغ میں بالکل نئے طرح کے حیران کن سگنل دریافت

برلن(نیوزڈیسک) سائنس دانوں نے انسانی دماغی میں خلیات (نیورون) کے درمیان بالکل نئے انداز میں سگنل بھیجنے کا عمل دریافت کیا ہے جو اس سے قبل سائنس کے علم سے باہر تھا۔اس دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ ایک جانب انسانی دماغ خود ہماری اب تک سمجھ سے بھی بالاتر ہے اور اس کی کمپیوٹنگ قوت بھی غیرمعمولی ہوتی ہے۔یہ دریافت جرمنی اور یونان کے ماہرین نے کی ہے۔ انہوں نے دماغی کی بیرونی جانب کارٹیکل سیلز (خلیات) پر غور کیا تو انکشاف ہوا کہ وہ اپنے بل پر بعض سگنل خارج کررہے ہیں۔ اس طرح دماغ میں انفرادی خلیات ایک بالکل نئے طریقے سے آگے بڑھتے ہیں جس سے دماغ بہت سے منطقی (لاجیکل) عمل انجام دیتا ہے۔سائنس دانوں نے مرگی کے شکار ایک مریض کے دماغ میں روشنی خارج کرنے والا کیمیکل ڈالا اور وہاں خلیاتی سرگرمی کو خردبین سے دیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ قشر یعنی کارٹیکس کے دماغی خلیات نہ صرف سوڈیم آئن خارج کررہے تھے بلکہ کیلشیئم کے آئن بھی فائر کررہے تھے۔اس طرح مثبت چارج والے آئن کچھ اس طرح چارج خارج کررہے ہیں جو اس سے قبل پہلے نہیں دیکھے گئے۔ ماہرین نے اس نودریافت عمل کو کیلشیئم میڈیٹڈ ڈینڈرٹکِ ایکشن پوٹینشل یا dCaAPs کا نام دیا ہے۔انسانی دماغ کو اکثر کمپیوٹر سے بھی تشبیہہ دی جاتی ہے۔ اگرچہ اس میں بھی بعض حدود ہیں لیکن بعض سطحوں پر کمپیوٹر عین انسانی دماغ کی طرح ہی کام کرتا ہے۔ انسانی دماغ اور کمپیوٹر دونوں ہی مختلف امور کے لیے برقی سگنل استعمال کرتے ہیں۔ انسانی دماغ میں نیورن یہ کام کرتے ہیں اور کمپیوٹروں میں چپس اور ٹرانسسٹر الیکٹران فائر کرتے ہیں۔دوسری جانب دماغ خلیات یا نیورون، برقی ٹرانسسٹر کے برخلاف خلیات کے شاخ دار ابھار کے کناروں سے کیمیائی پیغامات آگے روانہ کرتے ہیں۔ ان ساختوں کو ڈینڈرائٹس کہا جاتا ہے۔ انہیں سمجھ کر ہم دماغ کو اچھی طرح جان سکتے ہیں کیونکہ ایک نیورون کی قوت کو بھی بڑھانے میں ان کا اہم کردار ادا ہوتا ہے۔ہمبولٹ یونیورسٹی کے سائنس داں میتھیو لارکم کے مطابق ڈینڈرائٹس خود ٹریفک سگنل کی طرح کام کرتے ہیں۔ اگر یہ اجازت دیتے ہیں تو سگنل دیگر اعصاب تک آگے پہنچتا ہے۔ اسی طرح انسانی قشریا سریبرل کارٹیکس سے پیچیدہ شے دماغ میں کوئی اور نہیں۔ یہاں شاخ در شاخ ڈینڈرائٹس احساس، خیال، حرکت اور دیگر اہم امور کو قابو کرتے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق یہ پہلا خوشگوار موقع ہے جب ڈینڈرائٹ کی یہ حیرت انگیز صلاحیت سامنے آئی ہے۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل