اسلام آباداحتساب عدالت نے فریال تالپور کی بینک اکائونٹس غیر منجمد کرنے کی درخواست مسترد کردی گئی
وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کے پیش نظر افغان مہاجرین کیلئے ریلیف پیکج لانے کا فیصلہ کرلیا
ایل پی جی کی قیمت میں 39روپے فی کلوگرام کمی،مارچ کیلئے 11.8کلو گرام گھریلو سلنڈر کی قیمت 1067.39روپے مقرر
نواز شریف کی صحت کو کورونا سے شدید خطرہ، آئسولیشن میں رہنے کی ہدایت
وفاقی کابینہ نے کورونا وبا کے باعث عوام کیلئے 1200 ارب روپے کے ریلیف پیکج کی منظوری دیدی
چیئرمین ، پرنٹر اور پبلشر جنگ گروپ میر جاوید رحمن انتقال کر گئے
کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 1865ہوگئی ،25افراد جاں بحق …58صحت یاب ہوگئے
تازہ تر ین

انسانی دماغ میں بالکل نئے طرح کے حیران کن سگنل دریافت

برلن(نیوزڈیسک) سائنس دانوں نے انسانی دماغی میں خلیات (نیورون) کے درمیان بالکل نئے انداز میں سگنل بھیجنے کا عمل دریافت کیا ہے جو اس سے قبل سائنس کے علم سے باہر تھا۔اس دریافت سے معلوم ہوا ہے کہ ایک جانب انسانی دماغ خود ہماری اب تک سمجھ سے بھی بالاتر ہے اور اس کی کمپیوٹنگ قوت بھی غیرمعمولی ہوتی ہے۔یہ دریافت جرمنی اور یونان کے ماہرین نے کی ہے۔ انہوں نے دماغی کی بیرونی جانب کارٹیکل سیلز (خلیات) پر غور کیا تو انکشاف ہوا کہ وہ اپنے بل پر بعض سگنل خارج کررہے ہیں۔ اس طرح دماغ میں انفرادی خلیات ایک بالکل نئے طریقے سے آگے بڑھتے ہیں جس سے دماغ بہت سے منطقی (لاجیکل) عمل انجام دیتا ہے۔سائنس دانوں نے مرگی کے شکار ایک مریض کے دماغ میں روشنی خارج کرنے والا کیمیکل ڈالا اور وہاں خلیاتی سرگرمی کو خردبین سے دیکھا۔ انہوں نے دیکھا کہ قشر یعنی کارٹیکس کے دماغی خلیات نہ صرف سوڈیم آئن خارج کررہے تھے بلکہ کیلشیئم کے آئن بھی فائر کررہے تھے۔اس طرح مثبت چارج والے آئن کچھ اس طرح چارج خارج کررہے ہیں جو اس سے قبل پہلے نہیں دیکھے گئے۔ ماہرین نے اس نودریافت عمل کو کیلشیئم میڈیٹڈ ڈینڈرٹکِ ایکشن پوٹینشل یا dCaAPs کا نام دیا ہے۔انسانی دماغ کو اکثر کمپیوٹر سے بھی تشبیہہ دی جاتی ہے۔ اگرچہ اس میں بھی بعض حدود ہیں لیکن بعض سطحوں پر کمپیوٹر عین انسانی دماغ کی طرح ہی کام کرتا ہے۔ انسانی دماغ اور کمپیوٹر دونوں ہی مختلف امور کے لیے برقی سگنل استعمال کرتے ہیں۔ انسانی دماغ میں نیورن یہ کام کرتے ہیں اور کمپیوٹروں میں چپس اور ٹرانسسٹر الیکٹران فائر کرتے ہیں۔دوسری جانب دماغ خلیات یا نیورون، برقی ٹرانسسٹر کے برخلاف خلیات کے شاخ دار ابھار کے کناروں سے کیمیائی پیغامات آگے روانہ کرتے ہیں۔ ان ساختوں کو ڈینڈرائٹس کہا جاتا ہے۔ انہیں سمجھ کر ہم دماغ کو اچھی طرح جان سکتے ہیں کیونکہ ایک نیورون کی قوت کو بھی بڑھانے میں ان کا اہم کردار ادا ہوتا ہے۔ہمبولٹ یونیورسٹی کے سائنس داں میتھیو لارکم کے مطابق ڈینڈرائٹس خود ٹریفک سگنل کی طرح کام کرتے ہیں۔ اگر یہ اجازت دیتے ہیں تو سگنل دیگر اعصاب تک آگے پہنچتا ہے۔ اسی طرح انسانی قشریا سریبرل کارٹیکس سے پیچیدہ شے دماغ میں کوئی اور نہیں۔ یہاں شاخ در شاخ ڈینڈرائٹس احساس، خیال، حرکت اور دیگر اہم امور کو قابو کرتے ہیں۔سائنس دانوں کے مطابق یہ پہلا خوشگوار موقع ہے جب ڈینڈرائٹ کی یہ حیرت انگیز صلاحیت سامنے آئی ہے۔

مزید خبر یں

نیویارک (نیوزڈیسک)کورونا وائرس سے 31 مارچ کی دوپہر تک دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 38 ہزار کے قریب جا پہنچی تھی تاہم ایک حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وبا سے ہلاکتیں ماضی میں کیے گئے اندازوں سے کہیں کم ہو رہی ہیں۔بیماریوں ... تفصیل

اسلام آباد (نیوزڈیسک)وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز نے ملک کے طول و عرض میں کورونا کے بارے میں تمام ضروری معلومات حاصل کرنے کے لئے وٹس ایپ پر حکومت پاکستان کورونا ہیلپ لائن قائم کر دی ہے۔ وزارت کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق یہ ... تفصیل

کراچی(نیوزڈیسک)پاکستانی معروف سائنسدان ڈاکٹر عطاالرحمن نے کہاکہ عالمی وبا کورونا وائرس پر پاکستان میں ہونے والی تحقیق میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹر عطاالرحمن نے کہاکہ پاکستان میں کی جاننے والی کورونا وائرس پر تحقیق میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، پاکستان میں کورونا ... تفصیل