لاہور ہائیکورٹ: وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدلیہ مخالف تقاریر کرنے پر توہین عدالت کی درخواست مسترد
اینٹی کرپشن قوانین کی خلاف ورزی پر عمر اکمل معطل، پی ایس ایل سے باہر
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 7 ماہ میں 72 فیصد کم ہوگیا
حکومت کا مہنگائی کنٹرول نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ
مشرف غداری کیس کا فیصلہ سنانےوالی عدالت کی تشکیل کالعدم قراردینے کےخلاف درخواست دائر
لاہور ہائیکورٹ :ہم ٹی وی کے ڈرامے ‘عہد وفا’ پر پابندی کے لیے دائر درخواست مسترد
تازہ تر ین

پاکستان میں صحت کے شعبے کو انقلابی لیڈرز کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عبدالباری

کراچی (نیوزڈیسک) انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے سربراہ اور معروف پاکستانی معالج ڈاکٹر عبدالباری خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کو مینیجرز کے بجائے انقلابی لیڈرز کی ضرورت ہے، لیڈر شپ کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں صحت کے شعبے کا برا حال ہے، چند سالوں میں ایک اسپتال سے بارہ اسپتالوں پر مشتمل انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کا قیام اور سالانہ 130 ملین ڈالر کا بجٹ رکھنے والا ہیلتھ نیٹ ورک پاکستان میں صحت کے شعبے کے لیے مشل راہ ہے، بین الاقوامی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ فرینکلن کووی کے پاکستان میں آنے سے صحت کے شعبے میں انقلاب آ جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز بین الاقوامی ٹریننگ اور ریسرچ کے ادارے فرینکلن کووی اور انسٹیٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس کی جانب سے کراچی اسکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ میں کیا گیا تھا جس سے پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما عندلیب عباس، فرینکلن کووی کے جنرل مینیجر اسٹیون فٹزگیرالڈ، پیشنٹ سیفٹی کے بین الاقوامی ماہر پروفیسر ڈاکٹر پال باراش، انسٹیٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس کے ڈاریکٹر ڈاکٹر ذکی الدین احمد، فرینکلن کووی کی پاکستان کی منیجر مریم وزیرزادہ، ہارون قاسم، سید جمشید احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے سربراہ پروفیسر عبدالباری خان کا کہنا تھا کہ اس وقت صحت کے شعبے اور بڑے اسپتالوں کو مینیجرز چلا رہے ہیں جن میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ بڑے فیصلے کر سکیں اور صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا سکیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر اسپتالوں اور صحت کے شعبے کو انقلابی قائدین مل جائیں تو موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں جس کی ایک مثال انڈس ہیلتھ نیٹ ورک ہے جو کہ چند سالوں میں ایک ہسپتال سے بارہ اسپتالوں کے وسیع نیٹ ورک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے انڈس ہسپتال قائم کرنے کا خواب دیکھا تو لوگوں نے اسے ‘دیوانے کی بڑ’ قرار دیا اور کسی نے کہا کہ یہ ماڈل چھے مہینے یا زیادہ سے زیادہ ایک سال تک ہی چل سکتا ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے اس وقت انڈس اسپتال کا بجٹ 130 ملین ڈالر سالانہ ہے جہاں پر ہر سال 30 لاکھ سے زائد مریضوں کو صحت کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

مزید خبر یں

تہران (نیوز ڈیسک) ایران میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد 25 ہوگئی ہے۔ بی بی سی فارسی سروس کے مطابق کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کو ایران کے قم شہر کے ایک اسپتال میں الگ تھلگ رکھا گیا ہے۔ادھر قم شہر میں ڈسپنسریوں پر ... تفصیل

اسلام آباد /بیجنگ (نیوز ڈیسک) چین میں کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے 4 پاکستانی طلبہ صحتیاب ہوگئے ،بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے کی دو رکنی اسپیشل ٹاسک فورس ووہان پہنچ گئی،ٹاسک فورس ممبران کو پاکستان کی خصوصی درخواست پر ووہان جانے کی اجازت دے دی گئی ... تفصیل

جنیوا (نیوز ڈیسک)عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او نے چین سے پھوٹنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے ہنگامی خریداری، تقاریب کی منسوخی کے علاوہ کروز شپ سے سفر پر تحفظات کو حد سے زیادہ عالمی ردعمل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے۔خبر رساں ادارے اے ... تفصیل