حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

پاکستان میں صحت کے شعبے کو انقلابی لیڈرز کی ضرورت ہے، ڈاکٹر عبدالباری

کراچی (نیوزڈیسک) انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے سربراہ اور معروف پاکستانی معالج ڈاکٹر عبدالباری خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے کو مینیجرز کے بجائے انقلابی لیڈرز کی ضرورت ہے، لیڈر شپ کے نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان میں صحت کے شعبے کا برا حال ہے، چند سالوں میں ایک اسپتال سے بارہ اسپتالوں پر مشتمل انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کا قیام اور سالانہ 130 ملین ڈالر کا بجٹ رکھنے والا ہیلتھ نیٹ ورک پاکستان میں صحت کے شعبے کے لیے مشل راہ ہے، بین الاقوامی ٹریننگ انسٹیٹیوٹ فرینکلن کووی کے پاکستان میں آنے سے صحت کے شعبے میں انقلاب آ جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز بین الاقوامی ٹریننگ اور ریسرچ کے ادارے فرینکلن کووی اور انسٹیٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس پاکستان کے درمیان مفاہمت کی یادداشت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔تقریب کا اہتمام انسٹیٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس کی جانب سے کراچی اسکول آف بزنس اینڈ لیڈرشپ میں کیا گیا تھا جس سے پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی رہنما عندلیب عباس، فرینکلن کووی کے جنرل مینیجر اسٹیون فٹزگیرالڈ، پیشنٹ سیفٹی کے بین الاقوامی ماہر پروفیسر ڈاکٹر پال باراش، انسٹیٹیوٹ آف لیڈرشپ ایکسیلینس کے ڈاریکٹر ڈاکٹر ذکی الدین احمد، فرینکلن کووی کی پاکستان کی منیجر مریم وزیرزادہ، ہارون قاسم، سید جمشید احمد اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔انڈس ہیلتھ نیٹ ورک کے سربراہ پروفیسر عبدالباری خان کا کہنا تھا کہ اس وقت صحت کے شعبے اور بڑے اسپتالوں کو مینیجرز چلا رہے ہیں جن میں اتنی صلاحیت ہی نہیں کہ وہ بڑے فیصلے کر سکیں اور صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا سکیں، ان کا کہنا تھا کہ اگر اسپتالوں اور صحت کے شعبے کو انقلابی قائدین مل جائیں تو موجودہ وسائل میں رہتے ہوئے صحت کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں جس کی ایک مثال انڈس ہیلتھ نیٹ ورک ہے جو کہ چند سالوں میں ایک ہسپتال سے بارہ اسپتالوں کے وسیع نیٹ ورک میں تبدیل ہوچکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے انڈس ہسپتال قائم کرنے کا خواب دیکھا تو لوگوں نے اسے ‘دیوانے کی بڑ’ قرار دیا اور کسی نے کہا کہ یہ ماڈل چھے مہینے یا زیادہ سے زیادہ ایک سال تک ہی چل سکتا ہے لیکن اللہ کے فضل و کرم سے اس وقت انڈس اسپتال کا بجٹ 130 ملین ڈالر سالانہ ہے جہاں پر ہر سال 30 لاکھ سے زائد مریضوں کو صحت کی سہولیات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل