حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

کووڈ 19 کے سنگین کیسز کے علاج کے لیے نئی رپورٹ سے مثبت پیشرفت کی توقع پیدا ہوگئی

واشنگٹن (نیوزڈیسک)نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے سنگین کیسز کے علاج کے لیے ایک نئی رپورٹ سے مثبت پیشرفت کی توقع پیدا ہوئی ہے۔طبی جریدے جرنل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن شائع تحقیق میں چین کے ہسپتال میں قریب المرگ مریضوں پر اس طریقہ کار کے استعمال کے بارے میں بتایا گیا۔کووڈ 19 کے ان مریضوں کو تجرباتی بلڈ پلازما ٹرانسفیوژن کا تجربہ کیا گیا اور ان کی حالت میں کافی حد تک بہتری دیکھی گئی۔اگرچہ یہ تحقیق محدود اور بہت چھوٹے پیمانے پر ہوئی اور حتمی طور پر کچھ طے کرنا مشکل ہے مگر نتائج سے اس طریقہ کار کی افادیت کے خیال کو مزید تقویت ملتی ہے۔امریکا میں اس بیماری سے سب سے زیادہ متاثر ریاست نیویارک میں رواں ہفتے اس پلازما ٹرانسفیوژن کو سنگین کیسز کے لیے آزمانے کا اعلان کیا گیا۔چین کے شینزن ہاسپٹل میں اس تحقیق کے لیے ڈاکٹروں نے 20 جنوری سے 25 مارچ تک 36 سے 73 سال کے 5 مریضوں پر بلڈپلازما استعمال کیا۔ان مریضوں کو یہ پلازما ہسپتال میں داخل ہونے کے 10 سے 22 دن کے دوران دیا گیا۔پلازما ٹرانسفیوژن کے بعد 3 دن کے اندر 5 میں سے 4 مریضوں کا جسمانی درجہ حرارت معمول پر آگیا، 5 میں 4 مریضوں میں 12 دن کے اندر سانس کی شدید تکلیف بھی ختم ہوگئی۔شائع ہونے والی تحقیق کے نتاجج میں بتایا گیا کہ 3 مریضوں کو ہسپتال سے ڈسچارج کردیا گیا ،2 کی حالت مستحکم تھی، مگر فی الحال انہیں وینٹی لیٹر کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔تحقیق پر دیگر طبی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ محدود تھی، ان مریضوں کو تجرباتی اینٹی وائرل ادویات اور اسٹرائیڈز بھی استعمال کرائے جارہے تھے، جس سے بھی پلازما ٹرانسفیوژن کی افادیت کے بارے میں حتمی طور پر کچھ کہنا مشکل ہے۔تحقیق میں شامل چینی سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ نتائئج سے پلازما تھراپی کے لیے صحت یاب افراد کے اینٹی باڈیز کے استعمال کے امکان پر روشنی ڈالی گئی جو کہ زیادہ بیمار افراد کو وائرس سے نجات دلانے کے ساتھ ان کی حالت بہتر بناسکتا ہے،اس قسم کا طریقہ کار 2002 سارز وائرس کی وبا اور 2009 میں سوائن فلو کی وبا کے دوران بھی استعمال کیا گیا تھا۔اس نئی تحقیق میں کووڈ 19 کے صحت یاد افراد سے خون کے عطیات حاصل کرکے یہ تجرباتی طریقہ کار آزمایا گیا تھا اور ان کے خون سے حاصل پلازما حاصل کرکے اسی روز سنگین حد تک بیمار مریضوں میں منتقل کیا گیا۔اگر یہ طریقہ کار بڑے ہیمانے پر موثر ثابت ہوا تو اس کے لیے بڑا چیلنج صحت یاب افراد سے خون کے عطیات کا حصول ہوگا۔ابھی رواں ہفتے امریکا کی واشنگٹن یونیورسٹی اسکول آف میڈیسین کی تحقیق میں کہا گیا تھا کہ کووڈ 19 سے صحت یاب ہونے والے افراد کا خون سنگین حد تک بیمار مریضوں کے علاج بلکہ دیگر کو اس کا شکار ہونے سے بچا سکے گا۔اس طریقہ کار کو 1918 کے اسپینش فلو کی وبا کے دوران ویکسین یا اینٹی وائرل ادویات کی دستیابی سے پہلے استعمال کیا گیا تھا۔اس طریقہ کار میں اس حقیقت کو مدنظر رکھا جاتا ہے کہ صحت مند مریضوں کے خون میں ایسے طاقتور اینٹی باڈیز ہوتے ہیں جو وائرس کو لڑنے کی تربیت رکھتے ہیں۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل