حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

کورونا وائرس سے ہلاکتیں اندازوں سے کم ہیں، تحقیق

نیویارک (نیوزڈیسک)کورونا وائرس سے 31 مارچ کی دوپہر تک دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 38 ہزار کے قریب جا پہنچی تھی تاہم ایک حالیہ تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وبا سے ہلاکتیں ماضی میں کیے گئے اندازوں سے کہیں کم ہو رہی ہیں۔بیماریوں اور وباؤں پر تحقیقی رپورٹس شائع کرنے والے طبی سائنسی جرنل دی لیکنٹ میں شائع تحقیق میں دعویٰ کیا ہے کہ اب تک دنیا بھر میں کورونا وائرس سے اندازوں سے کہیں کم ہلاکتیں ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق دی لیکنٹ میں شائع تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ حالیہ ہلاکتوں، متاثرہ افراد اور ان کے علاج و معالجے کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس سے ہلاکتیں ایک ماہ قبل لگائے گئے اندازوں سے کم ہو رہی ہیں۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اگرچہ کورونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں ماضی میں لگائے گئے اندازوں سے کم ہو رہی ہیں تاہم اب بھی ان کی تعداد سیزنل انفلوئنزا سے ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ اس وقت کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ کورونا وائرس کی وجہ سے 0.66 فیصد ہلاکتیں ہوں گی جو کہ ایک اعشاریہ سے بھی کم ہیں۔ماضی میں امریکی ماہرین صحت سمیت دیگر افراد کہ چکے تھے کہ اندازے کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد میں سے 2 فیصد افراد موت کے منہ میں چلے جائیں گے۔ابتدائی طور پر ماہرین یہ کہتے سنائی دیتے تھے کہ کورونا وائرس کے 98 فیصد افراد صحت یاب ہوجاتے ہیں جبکہ دو فیصد افراد ہلاک ہوجاتے ہیں، تاہم تحقیق سے پتہ چلا کہ ہلاکتوں کی تعداد ان اندازوں سے بہت کم ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی ہلاکتیں اگرچہ اندازوں سے کم ہیں تاہم یہ عام طور پر انفلوئنزا سے ہونے والی ہلاکتوں سے زیادہ ہیں۔رپورٹ کے مطابق حالیہ تحقیق صرف کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاک ہونے والے افراد کے اعداد و شمار پر کی گئی ، اس تحقیقات میں وہ ہلاکتیں شامل نہیں کی گئیں جو کورونا سمیت دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہوئیں۔ماہرین نے بتایا کہ دنیا بھر میں کورونا کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتوں میں دیگر بیماریوں اور مسائل کی وجہ سے ہونے والی ہلاکتیں بھی شامل کی گئی ہیں، کیوں کہ انہیں کورونا بھی لاحق تھا مگر صرف کورونا کی ہلاکتوں کو دیکھا جائے تو اس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اندازوں سے کم ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی بتائی گئی کہ کورونا کی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں 80 سال کی عمر کے افراد کی ہوتی ہیں جبکہ 9 سال کے بچوں کے مرنے کی شرح بھی بہت کم ہے۔بتایا گیا کہ 40 سال کی عمر میں کورونا کا شکار ہونے والے ہر ایک ہزار افراد میں سے بمشکل 2 افراد کی ہی موت ہوتی ہے۔اسی طرح عمر کے حساب بتایا گیا کہ اگر کورونا کا شکار ہونے والے مریض کی عمر 50 سال سے زائد ہوگی تو اسے صحت یاب ہونے میں کچھ زیادہ وقت لگے گا اور ایسے مریضوں کو صحت مند ہونے میں 25 دن بھی لگ سکتے ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ اکر کسی مریض کو کورونا کی علامات کچھ دن تک ظاہر نہ ہوں اور وہ کورونا کا شکار ہو تو اس کی موت ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور پھر اچانک تیز علامات ظاہر ہونے پر کسی بھی مریض کی موت 18 دن میں ہو سکتی ہے۔تحقیق میں واضح طور پر کہا گیا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے ہلاکتیں انفلوئنزا سے زیادہ ہیں مگر یہ ہلاکتیں ایک ماہ قبل بتائے گئے اندازوں سے کم ہیں اور مجموعی طور پر کورونا سے ایک فیصد ہلاکتیں بھی نہیں ہو رہیں۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل