حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

صحت یابی کے بعد بھی مریضوں کے جسم میں کورونا وائرس ہوسکتا ہے، تحقیق

نیویارک (نیوزڈیسک)نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے مریضوں میں اس کی علامات کلیئر ہونے کے بعد بھی وائرس 8 دن تک موجود رہ سکتا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس دوران وہ دیگر افراد کو اس سے متاثر کردیں۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔تحقیق میں چین سے تعلق رکھنے والے 16 کووڈ 19 کے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں معتدل علامات ظاہر ہوئی تھیں اور بیجنگ کے ایک ہسپتال سے انہیں 28 جنوری سے 9 فروری کے دوران اس وقت ڈسچارج کیا گیا جب کم از کم 2 بار ٹیسٹ نیگیٹو آئے۔جریدے امریکن جرنل آف ریسپیرٹری اینڈ کلینیکل کیئر میڈیسین میں شائع تحقیق میں بتایا گیا کہ ان میں سے نصف افراد کے جسمانی نظام یہ وائرس علامات ختم ہونے کے بعد بھی موجود تھا۔ان میں سے 14 افراد کو بخار، 11 کو کھانسی، 11 کو گلے میں تکلیف اور 2 کو سانس میں مشکلات جیسی علامات کا سامنا ہوا۔ان افراد کا وائرل ٹیسٹ ہسپتال میں آنے کے بعد ہر دوسرے دن اس وقت تک ہوا جب تک وہ نیگیٹو نہیں ہوا اور ان لوگوں کو 2 ہفتے تک گھروں میں قرنطینہ میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔اس کے بعد ہسپتال میں ایک بار پھر ان کا نوول کورونا وائرس کا ٹیسٹ ہوا اور 8 مریضوں میں ٹیسٹ مثبت ہوا حالانکہ وہ بیمار نظر نہیں آرہے تھے اور ایسا ایک سے 8 دن تک ہوا۔محققین کا کہنا تھا کہ اس وقت جسم میں وائرس آگے منتقل ہوسکتا ہے۔امریکا کے یالے اسکول آف میڈیسن کی اس تحقیق میں شامل سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ نتائج کا سب سے اہم حصہ یہ تھا کہ 50 فیصد مریض علامات کے علاج کے بعد بھی وائرس کو جسم سے کارج کررہے تھے، اوسطاً علامات ختم ہونے کے 2 دن تک ٹیسٹ مثبت آئے، جبکہ مجموعی طور پر یہ دورانیہ ایک سے 8 دن تک رہا۔ان کا کہنا تھا کہ زیادہ سنگین کیسز میں وائرس جھڑنے کا دورانیہ زیادہ طویل بھی ہوسکتا ہے۔محققین کے مطابق یہ وائرس بہت زیادہ متعدی ہوسکتا ہے کیونکہ یہ اس وقت ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوسکتا ہے جب علامات ظاہر نہیں ہوتیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ یہ تحقیق محدود ہے کیونکہ اس میں زیادہ مریض شامل نہیں تھے اور ان سب میں علامات معتدل تھیں جو بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے۔انہوں نے کہا کہ صحت یاب افراد کو زیادہ وقت کے لیے ازخود آئسولیشن کے بارے میں سوچنا چاہیے تاکہ دیگر افراد اس وائرس کا شکار نہ ہوسکیں۔انہوں نے کہا اس حوالے سے مزید تحقیق کی جانی چاہیے کہ تاکہ تصدیق ہوسکے کہ صحت یابی کے بعد بھی مریض دیگر کو اس وائرس کا شکار بناسکتاہے یا نہیں۔اس سے قبل مارچ کے وسط میں ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ اس وائرس کو شکست دینے والے افراد 37 دن تک کسی صحت مند افراد میں منتقل کر سکتے ہیں، یہ دورانیہ سابقہ اندازوں سے کہیں زیادہ طویل ہے۔چین کے چائنا جاپان فرینڈشپ ہسپتال اور کیپیٹل میڈیکل یونیورسٹی کے پروفیسر بن کائو نے بتایا کہ وائرس کے جھڑنے کے دورانیے میں اضافے کو ہماری تحقیق کے دوران دیکھا گیا جو مصدقہ کیسز میں الگ رکھنے کی احتیاطی تدابیر اور اینٹی وائرل علاج کے حوالے سے رہنمائی میں اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مریضوں کو ہسپتال سے گھر جانے کی اجازت دینے سے قبل کووڈ 19 کے نیگیٹو ٹیسٹ لازمی قرار دیئے جانے چاہیے۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل