حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

کورونا وائرس کی 3 اقسام لوگوں کو بیمار کررہی ہیں، تحقیق

برلن/لندن(نیوزڈیسک)نئے نوول کورونا وائرس کی 3 بنیادی اقسام لوگوں کو متاثر کررہی ہیں اور یہ اندازوں سے زیادہ پہلے انسانوں میں پھیلنا شروع ہوچکا تھا۔یہ بات ایک نئی تحقیق میں سامنے آئی۔جرمنی اور برطانیہ کے سائنسدانوں کی اس تحقیق میں 24 دسمبر 2019 سے 4 مارچ مارچ 2020 تک کورونا وائرس کے 160 مکمل جینومز کو دیکھا گیا جن کا سیکوئنس انسانی مریضوں سے تیار کیا گیا تھا۔محققین نے دریافت کیا کہ وائرس کی 3 اقسام ہیں جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں۔محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ چین کے شہر ووہان اور مشرقی ایشیا میں پھیلنے والا کورونا وائرس درحقیقت اس کی اصل قسم نہیں بلکہ یہ ٹائپ بی قسم ہے جو اوریجنل سارس کوو 2 وائرس یا ٹائپ اے سے بنا۔یہ ٹائپ اے وائرس ممکنہ طور پر چمگادڑوں سے براستہ پینگولین انسانوں میں چھلانگ لگا کر پہنچا تھا۔حیران کن طور پر اب ٹائپ اے ورڑن امریکا اور آسٹریلیا میں زیادہ پایا جارہا ہے جبکہ ایک تیسری قسم ٹائپ سی ہے جو ٹائپ بی سے بنی اور سنگاپور کے راستے یورپ میں پھیل گئی۔سائنسدانوں کے مطابق اس وائرس میں تسلسل سے تبدیلیاں آرہی ہیں جس سے وہ مختلف اقوام میں مدافعتی نظام کی مزاحمت کو گراتا چلاجارہا ہے۔سائنسدانوں نے پہلی بار اس وائرس کی بنیاد جاننے کے لیے قدم زمانے کے انسانوں کی ہجرت کے لیے استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی کو استعمال کرکے وائرس کے پھیلائو کو ٹریک کیا۔کیمبرج یونیورسٹی کے ڈاکٹر پیر فورسٹر نے تحقیقی ٹیم کی قیادت کی اور ان کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کے شجرہ نسب میں بہت تیزی سے تبدیلیوں کو دیکھا گیا، اس مقصد کے لیے ہم نے ریاضیاتی نیٹ ورک الگورتھم کو استعمال کیا، اس تکنیک کو عموماً زمانہ قدم کی انسانی آبادی کی ہجرت کی میپنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، ہمارے خیال میں یہ پہلی بار ہے کہ کسی انفیکشن کی بنیاد جاننے کے لیے اسے استعمال کیا گیا۔سائنسدانوں نے جن جینومز کو دیکھا گیا، ان میں 3 اقسام کو دریافت کیا گیا اور انہوں نے دریافت کیا کہ ٹائپ اے کورونا وائرس اس سے ملتا جلتا ہے جو چمگادڑوں میں پایا جاتا ہے۔یہ وائرس ووہان کے وائرس جینوم میں دیکھا گیا مگر حیران کن طور پر شہر میں بالادست قسم نہیں تھی۔اس ٹائپ کی مزید تبدیل شدہ اقسام ان امریکی شہریوں میں رپورٹ ہوئی جو ووہان میں مقیم تھے اور اب اس کے زیادہ تر مریض امریکا اور آسٹریلیا میں موجود ہیں۔ووہان میں زیادہ تر مریضوں میں ٹائپ بی وائرس دریافت ہوا جو مشرقی ایشیا میں پھیلا تاہم یہ قسم اس خطے سے باہر نہیں گئی، جس کی ممکنہ وجہ اس قسم کے خلاف مشرقی ایشیا سے باہر لوگوں میں مزاحمت ہوسکتی ہے۔ٹائپ سی قسم یورپ کی بنیادی قسم ہے جو فرانس، اٹلی، سوئیڈن اور انگلینڈ کے ابتدائی مریضوں میں دیکھی گئی، جو کہ چین کے نمونوں میں موجود نہیں تھی مگر سنگاپور، ہانگ کانگ اور جنوبی کوریا میں نظر آئی۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ اٹلی میں یہ وائرس 27 جنوری کو پہلے جرمن انفیکشن کے ذریعے پہنچا جبکہ ایک اور ابتدائی اٹالین مریض میں یہ سنگاپور کے وائرس کا نتیجہ قرار پایا۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل