حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

کرونا وئرس کا اگلا بڑا نشانہ افریقہ بن سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت کا انتباہ

نیویارک (نیوزڈیسک )عالمی ادارہ صحت نے انتباہ کیا ہے کہ افریقہ کے دیہی علاقوں میں کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اگر براعظم افریقہ کے کمزور اور خستہ صحت کے نظام پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو حالات مزید ابتر ہو سکتے ہیں۔ افریقہ میں اب تک 8300 کیسیز رجسٹر ہو چکے ہیں اور 400 کے قریب اموات ہوئی ہیں۔ اب تک دنیا میں جس بڑی تعداد میں کرونا پھیلا ہے، اس کے مقابلے میں یہ تعداد بظاہر کم نظر آتی ہے۔ تاہم یہ خطرہ موجود ہے کہ وائرس اس علاقے کو اپنے چنگل میں لے سکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں عالمی ادار صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس نے انتباہ کیا کہ اگر افریقی ملکوں کو بر وقت بین الاقوامی مدد فراہم نہ کی گئی تو افریقہ میں یہ وبا قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 16 افریقی ملکوں کے الگ الگ حصوں میں اس وائرس کی موجودگی کی اطلاعات ملی ہیں۔ خاص طور پر دیہی علاقوں کے بارے میں ہمیں زیادہ فکر ہے، کیوں کہ وہاں صحت کا نظام پہلے ہی ناکافی اور کمزور ہے۔ شہروں کے مقابلے میں دیہی علاقے ضروری طبی سہولتوں سے محروم ہیں۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ یورپ میں جس شدت سے اس وائرس نے حملہ کیا تھا، اس میں اب جزوی کمی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ یہ وہ ممالک ہیں جنہوں نے الگ تھلگ رہنے اور سماجی فاصلے کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا۔ اس طرح سے انہوں وائرس کو ایک دوسرے منتقل ہونے نہیں دیا۔ٹیڈروس کے مطابق ان اقدامات کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں۔ تاہم انہوں اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ بعض ملک ان پابندیوں کو نرم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ان کا ادارہ بھی ان پابندیوں کو ختم کرنے کے حق میں ہے، لیکن قبل از وقت ایسا کرنے سے اس وبا کا دوسرا ریلا سخت ہلاکت خیز ہو سکتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس نے کہا کہ پابندیوں کو ہٹانے سے قبل مغربی ملکوں کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ وبا پر مکمل طور سے قابو پا لیا گیا ہے۔ اس کے انسداد کے لیے مناسب طبی سہولتیں موجود ہیں اور نرسنگ ہومز جیسے خصوصی مقامات میں اس وبا کے دوبارہ پھیلنے کے امکانات کم سے کم ہو گئے ہیں۔ٹیڈروس نے کہا اس عالم گیر وبا کو پھیلنے سے روکنے میں دنیا کے ہر فرد کا کردار ہے اور حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام میں اس مرض سے بچنے کے بارے میں زیادہ زیادہ سے زیادہ آگہی پیدا کریں۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل