حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

سونگھنے یا چکھنے کی حس سے اچانک محرومی کورونا وائرس کی علامت،تحقیق

واشنگٹن(نیوزڈیسک)حالیہ دنوں میں اچانک سونگھنے یا چکھنے کی حس سے اچانک محرومی کا سامنا کرنے والے افراد میں کسی اور انفیکشن کے مقابلے میں نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کا امکان 10 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اس سے پہلے بھی سونگھنے اور چکھنے کی صلاحیت سے محرومی کو کووڈ 19 انفیکشن سے منسلک کیا گیا ہے مگر یہ پہلی ٹھوس سائنسی تحقیق میں جن میں ان دونوں کو کووڈ 19 سے جوڑا گیا ہے۔کیلیفورنیا یونیورسٹی سان ڈیاگو کی تحقیق میں شامل کارول یان نے کہا کہ ہماری تحقیق کے مطابق، اگر آپ سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محروم ہوگئے ہیں، تو آپ میں کووڈ 19 کی تشخیص کا امکان 10 گنا زیادہ ہوتا ہے، اس وائرس کی سب سے عام علامت بخار ہی ہے مگر تھکاوٹ اور سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی بھی اس کی چند دیگر ابتدائی عام علامات میں شامل ہیں،انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ کووڈ 19 بہت متعدد مرض ہے اور تحقیق ان شواہد کو سپورٹ کرتی ہے جن کے مطابق سونگھنے یا چکھنے کی حس سے محرومی کو اس وائرس کی ابتدائی علامات میں شامل کیا جانا چاہیے۔تحقیق کے دوران 1480 مریضوں کو شامل کیا گیا تھا جن میں فلو جیسی علامات موجود تھیں اور خدشہ تھا کہ وہ کووڈ 19 کا شکار ہیں۔ان افراد کا جائزہ کیلیفورنیا یونیورسٹی سان ڈیاگو میں 3 سے 29 مارچ تک لیا گیا تھا اور ان میں سے 102 میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی جبکہ 1378 کا ٹیسٹ نیگیٹو رہا۔تحقیق کے دوران 102 میں سے 59 مریضوں کے نتائج کا تجزیہ بھھی کیا گیا اور معلوم ہوا کہ ان میں سے 68 فیصد کی سونگھنے کی حس جبکہ 71 فیصد کی چکھنے کی حس ختم ہوگئی تھی۔محققین نے بتایا کہ سونگھنے یا چکھنے کی حس کی محرومی والے کیسز کی صحتیابی کی شرح بہت زیادہ ہوتی ہے اور عموما 2 سے 4 ہفتے میں وہ ریکور کرلیتے ہیں۔کارول یان نے بتایاکہ ہماری تحقیق سے نہ صرف یہ ثابت ہوتا ہے کہ سونگھنے اور چکھنے کی حس سے محرومی کووڈ 19 کے مریضوں میں عام علامات ہیں بلکہ خوش قسمتی سے ہم نے یہ بھی دریافت کیا کہ ایسے افراد عموما بہت تیزی سے صحتیاب ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سونگھنے کی حس سے محروم ہونے والے 70 فیصد سے زیادہ مریضوں کے سونگھنے کی صلاحیت ریکوری کے ساتھ بہتر ہوگئی تھی۔محققین نے یہ حیران کن طور پر یہ بھی دریافت کیا کہ جو لوگ گلے میں سوجن کی شکایت کرتے ہیں، ان میں اکثر کووڈ 19 کی تشخیص نیگیٹو ہوتی ہے۔محققین نے کہا کہ وائرس کے پھیلنے کی شرح میں کمی کے للیے سونگھنے اور چکھنے کی حسوں سے محرومی کو بھی کووڈ 19 کی علامات میں شامل کیا جانا چاہیے۔اس بیماری کی دیگر عام علامات میں بخار، تھکاوٹ، خشک کھانسی اور سانس لینے میں مشکلات شامل ہیں اور اس تحقیق میں جو افراد شامل تھے، ان میں مرض کی شدت بہت کم تھی اور انہیں ہسپتال داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی۔محققین کا کہنا تھا کہ کووڈ 19 کی ابتدائئی علامات کی شناخت سے متاثرہ افراد سے دیگر میں اس کی منتقلی کا خطرہ بھی کم ہوگا۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل