حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

موبائل فون کورونا وائرس کا شکار بناسکتا ہے، تحقیق

سڈنی (نیوزڈیسک)موبائل فون میں ہر طرح کے جراثیم موجود ہوسکتے ہیں اور ان کو اکثر صاف کرنا نئے کورونا وائرس کی منتقلی کا خطرہ کم کرسکتا ہے۔یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔تحقیق میں 56 طبی تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا گیا تھا کہ تاکہ جائزہ لیا جاسکے کہ موبائل فونز کس حد تک بیکٹریا اور وائرس وغیرہ کی آلودگی کا خطرہ ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے دوران 2006 سے 2019 کے دوران 24 ممالک میں تحقیقات کی گئی تھی اور یہ کووڈ 19 کی وبا سے پہلے ہوئی تھی۔بونڈ یونیورسٹی کی تحقیق کے نتائج سے ثابت ہوا کہ موبائل فونز میں صرف بیکٹیریا ہی نہیں ہوتے بلکہ وائرسز اور فنگی سمیت ہزاروں جراثیم موجود ہوتے ہیں۔محققین نے دریافت کیا کہ اوسطاً 68 فیصد موبائل فونز میں متعدد اقسام کے جراثیم موجود ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ اینٹی بائیوٹیکس کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں۔محققین نے فونز پر نئے نوول کورونا وائرس کی موجودگی پر کوئی نیا ٹیسٹ نہیں کیا مگر ان کا کہنا تھا کہ ایسا ٹھوس امکان ہے کہ موبائل فونز کووڈ 19 کے تیزی سے پھیلنے کا ذمہ دار ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کووڈ 19 کا باعث بننے والا وائرس گلاس، پلاسٹک اور اسٹین لیس اسٹیل پر کئی دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور موبائل فونز جراثیموں کے میزبان ثابت ہوتے ہیں کیونکہ ہم انہیں صاف نہیں کرتے اور ہم انہیں ہر جگہ لے جاتے ہیں اور ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔اس میں کھانے کا عمل بھی شامل ہے، سونے کی جگہ اور بلکہ متعدد افراد تو ٹوائلٹ بھی لے جاتے ہیں جبکہ طیاروں اور ٹرینوں میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے تسلیم کیا کہ روزمرہ کی تمام اشیا کسی نہ کسی حد تک جراثیموں سے آلودہ ہوتی ہیں مگر جراثیموں کی آلودگی کے حوالے سے موبائل فونز کا مقابلہ کوئی چیز نہیں کرسکتی۔انہوں نے مشورہ دیا کہ اپنے ہاتھوں کو دھونے سے قبل فون کو صاف کریں۔انہوں نے کہاکہ محفوظ رہنے کے لیے ہر ایک کو سمجھنا چاہیے کہ موبائل فون جراثیمی آلودگی کا ایک ذریعہ ہے اور انہیں اپنا ہاتھ سمجھ کر ہی صاف کرنا چاہیے۔ان کے بقول موبائل فونز کو دیگر افراد سے بھی بہت زیادہ شیئر کیا جاتا ہے اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو وائرس کی منتقلی کا امکان کم ہوسکتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل ٹرویل میڈیسین اینڈ انفیکشیز ڈیزیز میں شائع ہوئے۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل