حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

لاما میں پائے جانے والی اینٹی باڈیز سے کورونا کا علاج ممکن ہے، سائنسدانوں کا دعویٰ

واشنگٹن (نیوزڈیسک)امریکا اور بلجیم کے سائنسدانوں کے مطابق لاما جسے ونٹر بھی کہا جاتا ہے، کورونا وائرس کے شکار میں مفید ثابت ہوسکتا ہے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے ایک چھوٹے ذرے کی نشاندہی کی جو ممکنہ طور پر نئے کورونا وائرس کا راستہ روک سکتا ہے۔بیلجیئم کے وی آئی بیـیو جینٹ سینٹ برائے میڈیکل بائیو ٹیکنالوجی اور آسٹن کے یونیورسٹی آف ٹیکساس کے سائنسدانوں نے جرنل سیل میں تحقیق شائع کی جس میں لاما ان کی تحقیق کا مرکز رہا۔اس گروہ نے 4 سال قبل 2003 میں پھیلنے والے سارس اور 2012 میں سامنے آنے والے مرس وائرس سے لڑنے والے اینٹی باڈیز کی تلاش کا آغاز کیا تھا۔اس شراکت میں بلجیم کے لیڈر ڑیویئر سالنز کا کہنا تھا کہ 2016 میں اس کا آغاز ہم نے سائیڈ پروجیکٹ کے طور پر کیا تھا، ہمیں لگا تھا کہ یہ دلچسپ ہوگا، پھر ایک نیا وائرس آگیا اور یہ ضروری اور اہم ہوگیا۔لاما کو سارس اور میرس وائرس کی محفوظ قسم دی گئی اور بعد میں ان کے خون کے نمونے لیے گئے تھے۔اونٹ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے لاما اور دیگر جانور معیاری اینٹی باڈیز اور چھوٹی اینٹی باڈیز بنانے میں بہتر ہے جس کے ساتھ سائنسدان با آسانی کام کرسکتے ہیں۔تحقیقیی ٹیم کے بیلجیئم کے حصے نے، جس کی سربراہی برٹ شیپینس نے بھی کی، نے چھوٹے اینٹی باڈیز کے ٹکڑوں کی نشاندہی کی جنہیں نانو باڈیز کے نام سے جانا جاتا ہے، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ کون وائرس کے سامنے زیادہ مضبوط رہتا ہے۔ڑیویئر سالنز نے نئے کورونا وائرس کو سارس وائرس کا کزن بتایا ہے اور کہا بتایا کہ دونوں میں پروٹین اسپائکس کے ساتھ کورونا یا تاج کی شکل ہوتے ہیں جس پر ایک اینٹی باڈی لگایا جاسکتا ہے۔اس ٹیم کا ارادہ ہے کہ سال کے آخر تک انسانوں کے ساتھ آزمائشیں شروع ہوسکیں، اس مقصد کے تحت جانوروں پر ٹیسٹ شروع کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ دواساز کمپنیوں کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔اونٹوں یا لاما سے ماخوذ نینو باڈیز میں کی جانے والی یہ تحقیق پہلی نہیں ہے۔ اس سے قبل فرانسیسی فارماسیوٹیکل کمپنی سنوفی نے نینو باڈی میں ماہر کمپنی ابلینکس کو خریدنے کے لیے 2018 میں 3 ارب 90 کروڑ یورو ادا کیے تھے۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل