حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

کرونامریضوں میں ایک اور جان لیوا پیچیدگی کا انکشاف،گردے فیل ہونے کا خطرہ

واشنگٹن (نیوزڈیسک )نئے نوول کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کووڈ 19 کے مریضوں میں گردے فیل ہونے کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ اکیوٹ کڈنی فیلیئر یا اے کے آئی کووڈ 19 کی ایک سنگین پیچیدگی ہے جس پر زیادہ توجہ نہیں گئی اور اچھی طرح سمجھا بھی نہیں گیا۔تحقیق کے مطابق گردے فیل ہونے کا سامنا کرنے والے مریضوں میں کووڈ 19 کے نتیجے میں اموات کی شرح 50 فیصد ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ ہسپتالوں میں خصوصاً آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں میں اے کے آئی کا خطرہ ہوتا ہے، درحقیقت 25 سے 30 فیصد مریضوں میں اس کا خطرہ ہوتا ہے۔اس تحقیق کے لیے سائنسدانوں نے چین میں حال ہی میں ہونے والی 2 تحقیقی رپورٹس کا تجزیہ کیا جس میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے مریضوں کے گردوں کے نمونوں کی تفصیلات دی گئی تھیں۔اس نئی تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں اے کے آئی کی جو قسم نظر آرہی ہے وہ بہت پیچیدہ اور اس میں ایسے متعدد عناصر موجود ہیں جو عام اے کے آئی مریضوں میں نظر نہیں آتے۔ان منفرد عناصر میں کورونا وائرس کا گردوں پر حملہ، خون کے لوتھڑے بننا اور ورم قابل ذکر ہیں۔اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل آف دی امریکن سوسائٹی آف نیفرولوجی میں شائع ہوئے اور پہلی بار اس ممکنہ میکنزم پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح گردے فیل ہونے کا مسئلہ کووڈ 19 کے مریضوں کو شکار کرسکتا ہے۔محققین کا کہنا تھا کہ نئے نتائج سے طبی عملے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے کہ وہ کووڈ 19 کے مریضوں کے گردوں پر توجہ بڑھائیں اور گردوں کے افعال اور ساخت کے حوالے سے مناسب معلومات جمع کرنی چاہیے، کہ کس طرح اے کے آئی ان مریضوں میں نمودار ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس میکنزم کو زیادہ بہتر سمجھنے سے موثر علاج کی تشکیل میں مدد مل سکے گی خاص طور پر آئی سی یو میں زیرعلاج مریضوں کے لیے یہ بہت اہم ہے، کیونکہ ان میں سے بیشتر مریضوں کو ڈائیلاسز کی ضرورت ہوسکتی ہے۔اس سے قبل اپریل میں چینی سائنسدانوں کی جریدے جرنل کڈننی انٹرنیشنل میں شائع تحقیق میں کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے افراد کا بعد از مرگ پوسٹمارٹم کیا گیا اور 26 میں سے 9 میں گردوں کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا۔

مزید خبر یں

جنیوا (نیوزڈیسک)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو ... تفصیل

بیجنگ (نیوزڈیسک) چینی سائنسدانوں نے یقین کا اظہار کیا کہ کورونا وائرس کا علاج دوا سے ممکن ہو گا۔ اس وباء کیلئے ویکسین کی ضرورت نہیں ہو گی۔تفصیلات کے مطابق چین کی ایک لیبارٹری میں کورونا وائرس کے علاج کے لیے دوا تیار کی جا رہی ... تفصیل

اسلام آباد(نیوزڈیسک)معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہاہے کہ کورونا وبا پر کوئی بھی ملک اکیلے قابو نہیں پاسکتا ، عالمی ادارہ صحت کے رکن ممالک مشترکہ طور پر بہتر طریقے سے وبا سے نمٹ سکتے ہیں ،آبادی کے لحاظ سے دنیا کے پانچویں ... تفصیل