برطانیہ ، پاکستانی ہائی کمیشن نے برطانوی شہریوں کیلئے ای ویزا کا اجراءشروع کر دیا              حکومت سندھ نے ایک بارپھرسرکاری ملازمتوں پرپابندی عائد کردی              مفتی تقی عثمانی حملہ: 6 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج              پشاور بس منصوبے کا افتتاح غیر معینہ مدت تک ملتوی              سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتار ی جاری              صدر ٹرمپ اور اتحادی افواج کا شام سے داعش کے مکمل خاتمے کا اعلان              ڈیم فنڈ: کینیڈا میں عمران خان کے دستخط شدہ 2 بلے 65 ہزار ڈالرز میں نیلام              یوم پاکستان ،مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا شاندار کرتب دکھا کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ              بھارت نے یسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی لگادی       
تازہ تر ین

اس کےقریب مذکورہ جانوروں کی ہلاکت میں واقعہ بہتری ہوئی

تباہ ہونے سے بچ گیا

            ایک شخص جنگل میں رہتا تھا:  اس کے پاس ایک مرغا تھا جو اس کو نماز کے لئے جگاتاتھا۔ اور ایک کتا تھا جو اس کی چوروں سے حفاظت کرتا تھا۔ ایک گدھا تھا جس پر وہ اپناپانی اور دیگر سامان لاتا تھا۔ اور اس کا خیمہ بھی وہاں تھا۔ وہ شخص اپنے قریبی قبیلوں میں سے کسی قبیلے کےپاس گپ شپ لگانے کے لئے آیا اس مجلس میں اس کے پاس یہ خبر آئی کہ لومڑی اسکے مرغ کو کھا

گئی ہے۔ اس نےکہا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس میں کوئی بہتری ہوگی ۔ پھر اس کو خبر پہنچی  کہ بھیڑیا نے اس کے گدھے کو پھاڑ دیاہے۔ اس نے پھر اسی طرح کہا: کہ قریب ہے کہ اس میں بھی اگر اللہ نے چاہا تو کوئی بہتری ہو گی۔ حالانکہ اس قنیلے کے لوگوں نے دھوکہ سے اس کے مرغ، کتا اور گدھا کو غائب کیا تھا۔ جب رات آئی تو یہ شخص اپنے گھر واپس آیا۔

            چنانچہ جب صبح ہوئی تو اس نے ان قبائل کو دیکھا کہ دشمن نےان کو قیدی بنا لیا اور مال لوٹ لیا۔ اس نقصان کا سبب اس کےمرغ کا بولنا، کتے کا بھونکنا اور گدھے کا آواز نکالنا تھا۔ اس شخص نے اپنے خیمہ میں سلامتی کیساتھ رات بسر کی اور اس کےقریب مذکورہ جانوروں کی ہلاکت میں واقعہ بہتری ہوئی۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)