کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

اس کےقریب مذکورہ جانوروں کی ہلاکت میں واقعہ بہتری ہوئی

تباہ ہونے سے بچ گیا

            ایک شخص جنگل میں رہتا تھا:  اس کے پاس ایک مرغا تھا جو اس کو نماز کے لئے جگاتاتھا۔ اور ایک کتا تھا جو اس کی چوروں سے حفاظت کرتا تھا۔ ایک گدھا تھا جس پر وہ اپناپانی اور دیگر سامان لاتا تھا۔ اور اس کا خیمہ بھی وہاں تھا۔ وہ شخص اپنے قریبی قبیلوں میں سے کسی قبیلے کےپاس گپ شپ لگانے کے لئے آیا اس مجلس میں اس کے پاس یہ خبر آئی کہ لومڑی اسکے مرغ کو کھا

گئی ہے۔ اس نےکہا: اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا تو اس میں کوئی بہتری ہوگی ۔ پھر اس کو خبر پہنچی  کہ بھیڑیا نے اس کے گدھے کو پھاڑ دیاہے۔ اس نے پھر اسی طرح کہا: کہ قریب ہے کہ اس میں بھی اگر اللہ نے چاہا تو کوئی بہتری ہو گی۔ حالانکہ اس قنیلے کے لوگوں نے دھوکہ سے اس کے مرغ، کتا اور گدھا کو غائب کیا تھا۔ جب رات آئی تو یہ شخص اپنے گھر واپس آیا۔

            چنانچہ جب صبح ہوئی تو اس نے ان قبائل کو دیکھا کہ دشمن نےان کو قیدی بنا لیا اور مال لوٹ لیا۔ اس نقصان کا سبب اس کےمرغ کا بولنا، کتے کا بھونکنا اور گدھے کا آواز نکالنا تھا۔ اس شخص نے اپنے خیمہ میں سلامتی کیساتھ رات بسر کی اور اس کےقریب مذکورہ جانوروں کی ہلاکت میں واقعہ بہتری ہوئی۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)