دفترخارجہ کانیوزی لینڈ سانحے میں شہید ہونے والے 4 افراد کے ورثا کے لئے ویزہ کی سہولت کا اعلان              پیپلزپارٹی نے رابطہ عوام مہم شروع کرنے کا اعلان کردیا              سابق وفاقی وزیر کامران مائیکل پر سفری پابندی عائد              سینیٹ کمیٹی: سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان میں آنے والے اخراجات کی تفصیلات طلب              سانحہ نیوزی لینڈ : شہید پاکستانیوں کی تعداد 6 ہوگئی              پاک فوج نے بھارت کاجاسوس ڈرون مار گرایا              شیخ رشید کا وزیر اعظم کی جانب سے مزدوروں کےلئے تین ، تین ہزار روپے انعام کا اعلان              کرائسٹ چرچ مساجد پر حملہ کرنے والا انتہا پسند عدالت میں پیش،قتل کا الزام عائد              آصف زرداری نے میگا منی لانڈرنگ کیس کی اسلام آباد منتقلی کا فیصلہ چیلنج کردیا       
تازہ تر ین

وہ ایسا کھاناتھا جس کو اللہ تعالیٰ نے صرف تمہارے لئے بھیجا تھا تاکہ تم خوب پیٹ بھر کر کھاو

اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق

حضرت ابوموسیٰ اشعری ، ابو مالک اور ابو عامر نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی اور دوران ہجرت زاد راہ یعنی کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا ۔ انہوں نے  نبی پاک ﷺ کے پاس قاصد بھیجا تاکہ وہ نبی پاک ﷺ سے ان کے لئے زادہ مانگے۔ جب وہ ہاں پہنچا تو اس نے سنا کہ سرکار دو عالم یہ آیت تلاوت فرما رہے ہیں۔

            ترجمہ: زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں ہے مگر اس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔

 قاصد نے سوچا کہ اشعریوں کا رزق  بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔ وہ بنی پاک ﷺ کے پاس حاضر ہوئے بغیر واپس آگیا اورکہنے لگا: تم کو خوشخبری ہوکہ تمہارے پاس غوث آگیا ۔ یعنی فریادرس۔ اشعریوں نے سمجھا کہ اس نے رسول ﷺ کو اطلاع دی ہے۔  اسی اثناء میں ان کے پاس دو آدمی آئے۔ جن کے پاس ایک لکڑی کا پیالہ تھا جو روٹی اور گوشت سے بھرا ہوا تھا۔ پس ان لوگوں نے جتنا چاہاوہ کھایا۔ ان میں سے بعض لو گوں نےکہاکہ بقیہ کھانا رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیج دیا جائے۔ پھر وہ لوگ سرکاردو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا:

            اے اللہ کے پیارے رسول اللہ ﷺ جو کھانا آپ نے ہمارے پاس بھیجا تھا اس سے اچھا اور بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا۔ سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا : میں نے تو تمہارے پاس کوئی چیز نہیں بھیجی۔ انہوں نے عرض کیا: انہوں نے ایک قاصد آپ کی طرف بھیجا تھاتاکہ وہ آپ سے کھانا کے بارے میں سوال کرے۔ پھر نبی پاک ﷺ نے قاصد سے پوچھا ۔ تو اس نے سارا واقعہ بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا: وہ ایسا کھاناتھا جس کو اللہ تعالیٰ نے صرف تمہارے لئے بھیجا تھا تاکہ تم خوب پیٹ بھر کر کھاو۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)