ساہیوال ، کار پر پولیس کی مبینہ فائرنگ سے 4 افراد جاں بحق ، تین بچے زخمی              کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

وہ ایسا کھاناتھا جس کو اللہ تعالیٰ نے صرف تمہارے لئے بھیجا تھا تاکہ تم خوب پیٹ بھر کر کھاو

اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق

حضرت ابوموسیٰ اشعری ، ابو مالک اور ابو عامر نے رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کی اور دوران ہجرت زاد راہ یعنی کھانے پینے کا سامان ختم ہو گیا ۔ انہوں نے  نبی پاک ﷺ کے پاس قاصد بھیجا تاکہ وہ نبی پاک ﷺ سے ان کے لئے زادہ مانگے۔ جب وہ ہاں پہنچا تو اس نے سنا کہ سرکار دو عالم یہ آیت تلاوت فرما رہے ہیں۔

            ترجمہ: زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں ہے مگر اس کا رزق اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔

 قاصد نے سوچا کہ اشعریوں کا رزق  بھی اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے۔ وہ بنی پاک ﷺ کے پاس حاضر ہوئے بغیر واپس آگیا اورکہنے لگا: تم کو خوشخبری ہوکہ تمہارے پاس غوث آگیا ۔ یعنی فریادرس۔ اشعریوں نے سمجھا کہ اس نے رسول ﷺ کو اطلاع دی ہے۔  اسی اثناء میں ان کے پاس دو آدمی آئے۔ جن کے پاس ایک لکڑی کا پیالہ تھا جو روٹی اور گوشت سے بھرا ہوا تھا۔ پس ان لوگوں نے جتنا چاہاوہ کھایا۔ ان میں سے بعض لو گوں نےکہاکہ بقیہ کھانا رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں بھیج دیا جائے۔ پھر وہ لوگ سرکاردو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور عرض کیا:

            اے اللہ کے پیارے رسول اللہ ﷺ جو کھانا آپ نے ہمارے پاس بھیجا تھا اس سے اچھا اور بہتر کھانا کبھی نہیں کھایا۔ سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا : میں نے تو تمہارے پاس کوئی چیز نہیں بھیجی۔ انہوں نے عرض کیا: انہوں نے ایک قاصد آپ کی طرف بھیجا تھاتاکہ وہ آپ سے کھانا کے بارے میں سوال کرے۔ پھر نبی پاک ﷺ نے قاصد سے پوچھا ۔ تو اس نے سارا واقعہ بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا: وہ ایسا کھاناتھا جس کو اللہ تعالیٰ نے صرف تمہارے لئے بھیجا تھا تاکہ تم خوب پیٹ بھر کر کھاو۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)