خلیل اور اس کا خاندان بے گناہ ہے، جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ میں سی ٹی ڈی افسران قتل کے ذمہ دار قرار              نیواسلام آباد ائیر پورٹ سی اے اے سے لیکر پی آئی اے کو دینے کا فیصلہ              پاکستان اور یو اے ای کے درمیان 3 ارب ڈالر قرض کیلئے معاہدہ طے پاگیا              مقبوضہ کشمیر‘ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دو اور کشمیری نوجوان شہید              کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

جب وہ کنوئیں میں اترے تو اس کے پیچھے سے آواز دی

بیوقوف کی حماقت

1          : حمزہ مدائنی کہتے ہیں کہ ایک بے وقوف آدمی تھا جس کا نام حجی تھا اس کی بے وقوفیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ ایک صحراء میں ایک جگہ زمین  کھودرہا تھا۔ ایک آدمی اس کے پاس سے گزرا تو اس نے پوچھا یہ کیوں کھودرہے ہو؟ اس بے وقوف نے کہا: میں نے اس میں درھم دفن کئے تھے وہ اس جگہ مجھے مل نہیں رہے۔ اس نے بے وقوف سے پوچھا تونے اس کی کوئی نشانی رکھی تھی۔ کہنے لگا، میں نے یہ یہ (نشانی) رکھی تھی۔ اس نے پوچھا یہ کون سی نشانی تھی۔ تو بے وقوف نے جواب دیا: بادل مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھا جب میں نے درہموں کو فن کیا تھا۔ وہ آدمی مسکرایا اور اس کو چھوڑ کر چلا گیا۔

2:           حجی کی بے وقوفیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ رات کے آخری پہر میں اندھیرے میں گھر کےدلان سے نکلا تو اس نے ایک مقتول سے ٹھوکر کھائی جو دالان میں پڑا ہوا تھا۔ تو اس بے وقوف نے اس کو اٹھا کر ایک کنواں میں ڈال دیا جو وہاں پر تھا ۔ پھر اس کے باپ کو خبردی تو اس نے مقتول کو کنوئیں سے نکال کر دفن کر دیا ۔ پھر اس پاگل نے ایک مینڈھے کا گلا دبا کر کنوئیں میں ڈال دیا۔

            اتنے میں اس مقتول کے وارث گھر سے نکل کر کوفے کی گلیوں میں اس پاگل کو تلاش کررہے تھے۔  لوگ اس بے وقوف کے گھر پہنچے تو اس سے مینڈھے کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا کہ میں نے اس کنوئیں میں پھینک دیا ہے۔ جب وہ کنوئیں میں اترے تو اس کے پیچھے سے آواز دی: اے مقتول کے ورثاء کیا تمہارے مقتول کے سینگ تھے تو لوگ یہ بات سن کر ہنسے اور وہاں سے چلے گئے۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)