برطانیہ ، پاکستانی ہائی کمیشن نے برطانوی شہریوں کیلئے ای ویزا کا اجراءشروع کر دیا              حکومت سندھ نے ایک بارپھرسرکاری ملازمتوں پرپابندی عائد کردی              مفتی تقی عثمانی حملہ: 6 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج              پشاور بس منصوبے کا افتتاح غیر معینہ مدت تک ملتوی              سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتار ی جاری              صدر ٹرمپ اور اتحادی افواج کا شام سے داعش کے مکمل خاتمے کا اعلان              ڈیم فنڈ: کینیڈا میں عمران خان کے دستخط شدہ 2 بلے 65 ہزار ڈالرز میں نیلام              یوم پاکستان ،مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا شاندار کرتب دکھا کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ              بھارت نے یسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی لگادی       
تازہ تر ین

جب وہ کنوئیں میں اترے تو اس کے پیچھے سے آواز دی

بیوقوف کی حماقت

1          : حمزہ مدائنی کہتے ہیں کہ ایک بے وقوف آدمی تھا جس کا نام حجی تھا اس کی بے وقوفیوں میں سے ایک یہ بھی تھی کہ وہ ایک صحراء میں ایک جگہ زمین  کھودرہا تھا۔ ایک آدمی اس کے پاس سے گزرا تو اس نے پوچھا یہ کیوں کھودرہے ہو؟ اس بے وقوف نے کہا: میں نے اس میں درھم دفن کئے تھے وہ اس جگہ مجھے مل نہیں رہے۔ اس نے بے وقوف سے پوچھا تونے اس کی کوئی نشانی رکھی تھی۔ کہنے لگا، میں نے یہ یہ (نشانی) رکھی تھی۔ اس نے پوچھا یہ کون سی نشانی تھی۔ تو بے وقوف نے جواب دیا: بادل مجھ پر سایہ کئے ہوئے تھا جب میں نے درہموں کو فن کیا تھا۔ وہ آدمی مسکرایا اور اس کو چھوڑ کر چلا گیا۔

2:           حجی کی بے وقوفیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ رات کے آخری پہر میں اندھیرے میں گھر کےدلان سے نکلا تو اس نے ایک مقتول سے ٹھوکر کھائی جو دالان میں پڑا ہوا تھا۔ تو اس بے وقوف نے اس کو اٹھا کر ایک کنواں میں ڈال دیا جو وہاں پر تھا ۔ پھر اس کے باپ کو خبردی تو اس نے مقتول کو کنوئیں سے نکال کر دفن کر دیا ۔ پھر اس پاگل نے ایک مینڈھے کا گلا دبا کر کنوئیں میں ڈال دیا۔

            اتنے میں اس مقتول کے وارث گھر سے نکل کر کوفے کی گلیوں میں اس پاگل کو تلاش کررہے تھے۔  لوگ اس بے وقوف کے گھر پہنچے تو اس سے مینڈھے کے بارے میں پوچھا۔ تو اس نے کہا کہ میں نے اس کنوئیں میں پھینک دیا ہے۔ جب وہ کنوئیں میں اترے تو اس کے پیچھے سے آواز دی: اے مقتول کے ورثاء کیا تمہارے مقتول کے سینگ تھے تو لوگ یہ بات سن کر ہنسے اور وہاں سے چلے گئے۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)