مقبوضہ کشمیر‘ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دو اور کشمیری نوجوان شہید              کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوا ور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو

گمنام نوجوان

حضرت سہل ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے نماز جمعہ کےلئے وضو کیا اور جامع مسجد گیا مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی تو میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا پہلی صف میں جاکر بیٹھ گیا، تو میری دائیں جانب ایک خوبصورت اور حسین وجمیل شکل والا نوجوان بیٹھا ہے ۔ اس نے مجھے کہا: اے سہل تیرا کیا حال ہے؟ تو میں نے کہا، میں خیریت سے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ تیری بھی خیر فرمائے ۔ لیکن میں حیران تھا کہ اس کو میری پہچان کیسے ہوگئی۔

            مجھے پیشاب کی حاجت بڑی شدت سے محسوس ہونے لگی ۔ تو میں وہاں سے نکلنے کے لئے فکر مند ہوا کیونکہ وہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔تو وہ خوبصورت جوان میری طرف متوجہ ہو ا کیونکہ وہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ میں کیسے لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا۔ اور میں پیشاب کو روکنے کی سکت بھی نہیں رکھتا تھا۔ تو وہ خوبصورت جوان میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا۔

            اے سہل : آپ کو پیشاب کی حابت ہے؟ میں نے کہا : اپنی چادر کندھے سے اتار کر میرے منہ پر ڈال دی اور مجھے کہا اےسہل اٹھ کر اپنی حاجت جلدی سے پوری کر لیجئے ۔ کیونکہ نماز تیار ہے۔ منہ پر چادر لگنے سے مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی۔ پھر میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک دروازہ کھلا ہو اہے۔ اس کے اندر سے آواز آئی۔ اے سہل اندرداخل ہو کر اپنی حاجت پوری کر لو۔

            جب میں اندر داخل ہوا تو ایک عظیم الشان محل دیکھا ۔ جس کے اطراف میں کھجوروں کے باغ اور پانی کی نہریں تھیں۔ جس کے ساتھ ہی ایک غسل خانہ بنا ہوا تھا جس میں مسواک ، تولیہ اور پانی کا کوزہ موجود تھا۔ وہاں میں نے بیت الخلاء میں حاجت پوری کی پھر غسل اور وضو بھی کیا۔ اتنے میں آواز آئی۔ اے سہل کیا تو نے اپنی حاجت پوری کرلی۔ میں نے کہا ہاں میں نے حاجت پوری کرلی ہے۔ تو فورا ً میرے منہ سے چادر اتارلی گئی تو میں نے دیکھا کہ میں اسی جامع مسجد میں بیٹھا ہوا  ہوں ۔ اور میری صورت حال سے کسی کو بھی کوئی خبر نہیں ہوئی۔ تو میرا تجسس اور زیادہ ہو گیا۔

            میں اسی کشمش میں تھا کہ جماعت کھڑی ہو گئی۔ میں نے نماز ادا کی اور اس نوجوان کےپیچھے چل پڑا۔ لیکن میں اس کو جانتا نہیں تھا۔ تو وہ اسی محل میں داخل ہوا جس میں میں نے اپنی حاجت پوری کی تھی۔ پھر اس نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے سہل تو نے سچ دیکھا ۔ میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے میری آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو میں نے آنکھ کھولی تو دیکھا کہ وہاں کوئی بھی اس کےنشان نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوا ور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)