لورالائی میں سیکورٹی فورسز کا آپریشن ،کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا اہم کمانڈر 4ساتھیوں سمیت ہلاک              حکومت کا شہبازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کےفیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ              وزیر پٹرولیم نے گیس کی قیمتوں میں مزید اضافے کا عندیہ دے دیا              پاکستان نے غیرملکی سیاحوں کے ویزے کیلئے این اوسی کی شرط ختم کردی              منی لانڈرنگ کیس منتقلی کیخلاف اپیل، آصف زرداری کو جواب الجواب جمع کرانے کا حکم              لاہور ہائیکورٹ کا شہباز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کر نے کا حکم              سپریم کورٹ نے نواز شریف کی درخواست ضمانت منظور کر لی       
تازہ تر ین

اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوا ور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو

گمنام نوجوان

حضرت سہل ؓ فرماتے ہیں کہ ایک دن میں نے نماز جمعہ کےلئے وضو کیا اور جامع مسجد گیا مسجد لوگوں سے بھری ہوئی تھی تو میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا پہلی صف میں جاکر بیٹھ گیا، تو میری دائیں جانب ایک خوبصورت اور حسین وجمیل شکل والا نوجوان بیٹھا ہے ۔ اس نے مجھے کہا: اے سہل تیرا کیا حال ہے؟ تو میں نے کہا، میں خیریت سے ہوں ۔ اللہ تعالیٰ تیری بھی خیر فرمائے ۔ لیکن میں حیران تھا کہ اس کو میری پہچان کیسے ہوگئی۔

            مجھے پیشاب کی حاجت بڑی شدت سے محسوس ہونے لگی ۔ تو میں وہاں سے نکلنے کے لئے فکر مند ہوا کیونکہ وہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔تو وہ خوبصورت جوان میری طرف متوجہ ہو ا کیونکہ وہاں لوگوں کا ہجوم تھا۔ میں کیسے لوگوں کی گردنوں کو پھلانگتا۔ اور میں پیشاب کو روکنے کی سکت بھی نہیں رکھتا تھا۔ تو وہ خوبصورت جوان میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگا۔

            اے سہل : آپ کو پیشاب کی حابت ہے؟ میں نے کہا : اپنی چادر کندھے سے اتار کر میرے منہ پر ڈال دی اور مجھے کہا اےسہل اٹھ کر اپنی حاجت جلدی سے پوری کر لیجئے ۔ کیونکہ نماز تیار ہے۔ منہ پر چادر لگنے سے مجھ پر غنودگی طاری ہوگئی۔ پھر میری آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ایک دروازہ کھلا ہو اہے۔ اس کے اندر سے آواز آئی۔ اے سہل اندرداخل ہو کر اپنی حاجت پوری کر لو۔

            جب میں اندر داخل ہوا تو ایک عظیم الشان محل دیکھا ۔ جس کے اطراف میں کھجوروں کے باغ اور پانی کی نہریں تھیں۔ جس کے ساتھ ہی ایک غسل خانہ بنا ہوا تھا جس میں مسواک ، تولیہ اور پانی کا کوزہ موجود تھا۔ وہاں میں نے بیت الخلاء میں حاجت پوری کی پھر غسل اور وضو بھی کیا۔ اتنے میں آواز آئی۔ اے سہل کیا تو نے اپنی حاجت پوری کرلی۔ میں نے کہا ہاں میں نے حاجت پوری کرلی ہے۔ تو فورا ً میرے منہ سے چادر اتارلی گئی تو میں نے دیکھا کہ میں اسی جامع مسجد میں بیٹھا ہوا  ہوں ۔ اور میری صورت حال سے کسی کو بھی کوئی خبر نہیں ہوئی۔ تو میرا تجسس اور زیادہ ہو گیا۔

            میں اسی کشمش میں تھا کہ جماعت کھڑی ہو گئی۔ میں نے نماز ادا کی اور اس نوجوان کےپیچھے چل پڑا۔ لیکن میں اس کو جانتا نہیں تھا۔ تو وہ اسی محل میں داخل ہوا جس میں میں نے اپنی حاجت پوری کی تھی۔ پھر اس نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے سہل تو نے سچ دیکھا ۔ میں نے کہا ہاں۔ پھر اس نے میری آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو میں نے آنکھ کھولی تو دیکھا کہ وہاں کوئی بھی اس کےنشان نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوا ور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہو۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)