وزیر اعظم عمران خان کا قوم کو بہت جلد بڑی خوشخبری دینے کا اعلان              وزیراعظم عمران خان نے نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ تشکیل دینے کی منظوری دے دی              سراج الحق جماعت اسلامی کے دوبارہ امیر منتخب              حکومت کی جانب سے دو ارب روپے کا رمضان پیکج منظور ،یوٹیلی اسٹورز کارپوریشن نے کئی اشیاءمہنگی کردیں              چیف جسٹس آصف سعید نے بریگیڈیئر (ر) اسد منیر کی مبینہ خودکشی کا نوٹس لے لیا، چیئر مین نیب سے رپورٹ طلب              سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاﺅن کر اچی کی 460ارب روپے کی پیشکش قبول کر لی              وزیر اعظم نیوز ی لینڈ کا خود کار و نیم خودکارہتھیاروں پر پابندی کا اعلان              جماعت اسلامی کا متحدہ مجلس عمل سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان              مشال قتل کیس میں مزیددو ملزمان کو عمر قید       
تازہ تر ین

امیر خراسان نے بہت سارا مال متاع حضرت سہل کو پیش کیا۔ لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکارکر دیا

حضرت سہل بن عبداللہ کی کرامت

یعقوب بن لیث امیر خراسان ایک ایسی بیماری میں مبتلا ء ہوا کہ حکیم لوگ اس کے علاج سے عاجز آگئے۔ لوگوں نے کہا یہاں ایک اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ ہے۔ جس کا نام سہل بن عبداللہ ہے اگر آپ اس کو بلالیں تو شائد وہ آپ کے لئے دعا کرے۔ یعقوب بن لیث نے کہا کہ اس کو میرے پاس لاؤ ۔ جب وہ حاضر خدمت ہوا تو امیر نے اس سے کہا ۔

            آپ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اس بیماری سے صحت دے۔ حضرت سہل بن عبداللہ نے امیر خراسان سے فرمایامیں تیرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیسے کروں حالانکہ تم تو ظلم پر ڈٹے ہوئے ہو۔ حضرت سہل کی یہ بات سن کر یعقوب بن لیث نے ظلم سے توبہ کی اور قوم کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے کا عہد کیا۔ اور قیدیوں کو رہا کردیا۔ اس کے بعد حضرت سہل بن عبداللہ نے دعا کی : اے اللہ عزوجل ، جس طرح تو نے اس کو گناہ کی ذلت دکھائی ہے اسی طرح اس کو فرمانبرداری کی لذت بھی چکھا۔ اور جو مرض اس کو تکلیف دے رہی ہے اس سے شفاء عطا فرما دے۔ تو اسی وقت امیر خراسان ٹھیک ہو گیا۔ ایسے لگا کہ جس طرح پاؤں سے رسی کھل گئ ہو۔

            امیر خراسان نے بہت سارا مال متاع حضرت سہل کو پیش کیا۔ لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکارکر دیا۔ لیکن شہر کی طرف جاتے ہوئے کسی نے راستے میں کہا کہ اگر آپ مال قبول کرکے فقراء میں تقسیم کر دیتے تو یہ بہت اچھا ہوتا۔ حضرت سہل نے زمین کی طرف دیکھا تو زمین کے روڑے اور کنکر جواہرات بن چکے تھے۔ پھر فرمانے لگے۔ جس کو یہ کمال عطاء کیا گیا ہو اسے یعقوب بن لیث کے مال کی کی کیا محتاجی ہوگی۔ لوگوں نے یہ کمال دیکھا عرض کیا ہمیں معذور جانو یعنی معاف فرما دینا۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)