کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

امیر خراسان نے بہت سارا مال متاع حضرت سہل کو پیش کیا۔ لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکارکر دیا

حضرت سہل بن عبداللہ کی کرامت

یعقوب بن لیث امیر خراسان ایک ایسی بیماری میں مبتلا ء ہوا کہ حکیم لوگ اس کے علاج سے عاجز آگئے۔ لوگوں نے کہا یہاں ایک اللہ تعالیٰ کا نیک بندہ ہے۔ جس کا نام سہل بن عبداللہ ہے اگر آپ اس کو بلالیں تو شائد وہ آپ کے لئے دعا کرے۔ یعقوب بن لیث نے کہا کہ اس کو میرے پاس لاؤ ۔ جب وہ حاضر خدمت ہوا تو امیر نے اس سے کہا ۔

            آپ میرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے اس بیماری سے صحت دے۔ حضرت سہل بن عبداللہ نے امیر خراسان سے فرمایامیں تیرے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کیسے کروں حالانکہ تم تو ظلم پر ڈٹے ہوئے ہو۔ حضرت سہل کی یہ بات سن کر یعقوب بن لیث نے ظلم سے توبہ کی اور قوم کے ساتھ اچھے اخلاق سے پیش آنے کا عہد کیا۔ اور قیدیوں کو رہا کردیا۔ اس کے بعد حضرت سہل بن عبداللہ نے دعا کی : اے اللہ عزوجل ، جس طرح تو نے اس کو گناہ کی ذلت دکھائی ہے اسی طرح اس کو فرمانبرداری کی لذت بھی چکھا۔ اور جو مرض اس کو تکلیف دے رہی ہے اس سے شفاء عطا فرما دے۔ تو اسی وقت امیر خراسان ٹھیک ہو گیا۔ ایسے لگا کہ جس طرح پاؤں سے رسی کھل گئ ہو۔

            امیر خراسان نے بہت سارا مال متاع حضرت سہل کو پیش کیا۔ لیکن انہوں نے قبول کرنے سے انکارکر دیا۔ لیکن شہر کی طرف جاتے ہوئے کسی نے راستے میں کہا کہ اگر آپ مال قبول کرکے فقراء میں تقسیم کر دیتے تو یہ بہت اچھا ہوتا۔ حضرت سہل نے زمین کی طرف دیکھا تو زمین کے روڑے اور کنکر جواہرات بن چکے تھے۔ پھر فرمانے لگے۔ جس کو یہ کمال عطاء کیا گیا ہو اسے یعقوب بن لیث کے مال کی کی کیا محتاجی ہوگی۔ لوگوں نے یہ کمال دیکھا عرض کیا ہمیں معذور جانو یعنی معاف فرما دینا۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)