سرکاری درس گاہوں میں 12ویں تک نیا نصاب پڑھانے کا فیصلہ       
تازہ تر ین

پس وہ بیٹھ گیا اور ایسا کھانا کھایا کہ اس جیسا کھانا اس نے کبھی نہیں کھایا تھا

شراب شہد اور گھی میں تبدیل

حکایت بیان کی جاتی ہے کہ شیخ عیسیٰ ہتان ایک زانیہ عورت سے ملے تو اس سے کہنے لگے۔ آج رات میں تیرے پاس آؤں گا۔ وہ یہ بات سن کر بہت خوش ہوئی اور اپنا میک اپ کر کے اپنے آپ کو خوبصورت بنایا۔ چنانچہ عشاء کے بعد شیخ عیسیٰ اس عورت کے پاس آئے ۔ اور اس کے گھر میں داخل ہو کر دورکعت نماز ادا کی پھر وہ واپس چلے گئے۔ بدکارہ عورت کہنے لگی۔ آپ یہاں سے باہر کیوں جارہے ہیں؟ اس بزرگ نے کہا : اللہ تعالیٰ کے چاہنے سے میرا مقصود حاصل ہو گیا ہے اس بات سے اس عورت پر ایسا اثر ہوا کہ وہ پریشان ہو گئی۔ چنانچہ وہ عورت شیخ کے پیچھے چل پڑی اور اس کے ہاتھ پر توبہ کی ۔ پھر شیخ نے ایک فقیر کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا۔ اور فرمایا کہ حلوا نما چیز کے ساتھ ولیمہ کرو اور اس کے لئے سالن نہ خریدنا۔ چنانچہ لوگوں نے ایساہی کیا۔

            جب یہ خبر اس عورت کے آشنا کو پہنچی تو اس نے دو بوتلیں شراب کی شیخ عیسیٰ کو بطور مذاق بھیجیں ۔ اور قاصد سے کہا کہ شیخ سے کہنا جو تم نے کیا ہے اس کی خبر مجھے مل چکی ہے۔ ہمیں اس سے خوشی ہوئی ہے۔ یہ سالن پکڑو اور اس سے سالن بناؤ۔ شیخ عیسیٰ نے کہا کہ تو نے ہمارے پاس آنے میں دیر کردی ہے۔ اس نے دونوں بوتلوں میں سے ایک کو پکڑا کر ہلایا تو اس سے شہد نکلا اور دوسری کو ہلایا تو اس سے گھی نکلا۔ قاصد سے کہا تو بیٹھ جا اور ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ – پس وہ بیٹھ گیا اور ایسا کھانا کھایا کہ اس جیسا کھانا اس نے کبھی نہیں کھایا تھا۔ پھر اس نے واپس آکر امیر کو اس کی خبر دی۔

            تو امیر بھی حاضر ہوا تاکہ وہ بھی دیکھ سکے ۔ (کہ واقعہ ہی شراب شہد اور گھی بن چکی ہے) پس جب اس نے کھا تو بہت حیران ہوا اور شیخ عیسیٰ سے معذرت کی اور اس کےہاتھ پر توبہ کی۔ شیخ عیسیٰ کی وجہ سے توبہ قبول ہوئی۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)