اپوزیشن کا مشترکہ حکمت عملی اپنانے اور معاشی امور پرحکومت کو ٹف ٹائم دینے کا اعلان              چمن ،پاک ،افغان سرحدی علاقے میں فورسز کی کارروائی، ایک دہشت گرد گرفتار              وزیراعظم نے اپوزیشن کے اسمبلی سے واک آﺅٹ کو این آر او لینے کی کوشش قرار دے دیا              فوادچوہدری کا ایک مرتبہ پھروزیراعلیٰ سندھ کے استعفے کا مطالبہ              کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

چنانچہ وہ زندگی بھر آتی رہی

شاہی کے بعد گدائی

محمد بن عبدالرحمان ہاشمی بیان کرتے ہیں کہ عید کی دن میں اپنی والدہ کےپاس آیا تو میں نے ان کے پاس گرد آلود لباس والی ایک خاتون کو دیکھا تو میری والدہ نے مجھے پوچھا کہ اسے پہچانتے ہو۔ میں نے عرض کیا: نہیں ، تو میری والدہ نے فرمایا کہ یہ ہارون الرشید کے وزیر جعفر برمکی کی ماں عتابہ ام جعفر برمکی ہے  چنانچہ میں نے اسے سلام کیا اور کہا کہ اپنا مختصر حال بیان کرو۔

            اس نے کہا کہ میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتی ہوں جو عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ وہ یہ کہ ایک روزمیری یہی حالت تھی جسے تم دیکھ رہے ہو اور میرے گرد چار (400) کنیزیں خدمت کےلئے حاضر تھیں اور میرا گمان تھا کہ میرا بیٹا جعفر میرا نافرمان ہو گیا ہے ۔اور اس نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے اس لیے آج عید کے دن تمہارے گھر آئی ہوں تا کہ تم مجھے بکری کی دو کھالیں  دے دو تا کہ میں ایک سے دوپٹہ اور دوسری سے بڑا کمبل بنا لوں تو میں نے اسے (500) درہم دئیے اور میں نے کہا کہ جب تک تم زندہ ہوتو جب بھی تمہیں ضرورت پڑے ہمارے پاس آنا ہم تیری ضرورت کو پورا کریں گے چنانچہ وہ زندگی بھر آتی رہی۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)