وزیراعظم کا 27 مارچ سے غربت کے خاتمے سے متعلق جامع پروگرام شروع کرنے کا اعلان              سونے کی قیمت ملکی بلند ترین سطح پر ،مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ 70ہزار 500روپے              آصف زرداری کی بریت کے خلاف نیب کی درخواست سماعت کے لئے مقرر              ڈاکٹر سعید کے بیرون ملک جانے پر پابندی ختم              اسد منیر مبینہ خودکشی ،چیئر مین نیب کا انکوائر ی خود کر نے کا فیصلہ              چین سے 2ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہو گئے              نقیب اﷲقتل کیس میں راﺅ انوار سمیت دیگر ملزمان پر فرد جر م عائد              نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ نارمل، پنجاب حکومت کو بھجوادی              کرائسٹ چرچ واقعہ: جیسنڈا آرڈرن کا حملے کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان       
تازہ تر ین

چنانچہ وہ زندگی بھر آتی رہی

شاہی کے بعد گدائی

محمد بن عبدالرحمان ہاشمی بیان کرتے ہیں کہ عید کی دن میں اپنی والدہ کےپاس آیا تو میں نے ان کے پاس گرد آلود لباس والی ایک خاتون کو دیکھا تو میری والدہ نے مجھے پوچھا کہ اسے پہچانتے ہو۔ میں نے عرض کیا: نہیں ، تو میری والدہ نے فرمایا کہ یہ ہارون الرشید کے وزیر جعفر برمکی کی ماں عتابہ ام جعفر برمکی ہے  چنانچہ میں نے اسے سلام کیا اور کہا کہ اپنا مختصر حال بیان کرو۔

            اس نے کہا کہ میں تمہیں ایک ایسی بات بتاتی ہوں جو عقل مندوں کے لیے عبرت ہے۔ وہ یہ کہ ایک روزمیری یہی حالت تھی جسے تم دیکھ رہے ہو اور میرے گرد چار (400) کنیزیں خدمت کےلئے حاضر تھیں اور میرا گمان تھا کہ میرا بیٹا جعفر میرا نافرمان ہو گیا ہے ۔اور اس نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے اس لیے آج عید کے دن تمہارے گھر آئی ہوں تا کہ تم مجھے بکری کی دو کھالیں  دے دو تا کہ میں ایک سے دوپٹہ اور دوسری سے بڑا کمبل بنا لوں تو میں نے اسے (500) درہم دئیے اور میں نے کہا کہ جب تک تم زندہ ہوتو جب بھی تمہیں ضرورت پڑے ہمارے پاس آنا ہم تیری ضرورت کو پورا کریں گے چنانچہ وہ زندگی بھر آتی رہی۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)