مقبوضہ کشمیر‘ بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں دو اور کشمیری نوجوان شہید              کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

تم ایسے دین کے متلاشی ہوجو اس وقت روئے زمین پر نہیں ہے

حق کے متلاشی

زید بن عمروبن نفیل  یہ حضرت عمر ؓ کے چچا زاد بھائی تھے ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے دین ابراہیم کے طالب تھے۔ یہ بتوں کے لئے نہ جانوز ذبح کرتے تھے اور نہ ہی مردار اور خون کھاتے تھے۔ ایک مرتبہ ورقہ بن نوفل کے ساتھ دین ابراہیم کی تلاش میں گھر سے نکلے۔ چنانچہ یہود نے ان دونوں پر اپنا دین پیش کیا تو زید کے علاوہ ورقہ بن نوفل یہودی ہوگئے ۔ پھر یہ دونوں نصاری سے ملے انہوں نے اپنا دین ان پر پیش کیا تو زید کے علاوہ ورقہ بن نوفل نصرانی ہو گیا۔ تو زید نے کہا : یہ سب ادیان تو ہماری قوم کے دین کی طرح ہیں جو مشرک ہو گئی ہے۔ پھر زید ایک تارک الدنیا راہب کے پاس گئے تو راہب نے کہا: تم ایسے دین کے متلاشی  ہوجو اس وقت روئے زمین پر نہیں ہے۔ زید نے پوچھا ہو کون سادین ہے؟

            تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرواور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ اور کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے رہو۔ چنانچہ زید اسی طریقہ پر قائم رہا حتیٰ کہ فوت ہو گیا۔

            ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ زید بعثت سے پہلے ایک دن نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ابوسفیان کے ساتھ دسترخوان پر ابھی کھانا کھا نےلگے تھے تو ابو سفیان نے زید کو کھانے کے لئے بلایا ۔ لیکن زید نے کہا اے بھتیجے ، میں اس جانور کو نہیں کھاتا جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ جب نبی پا ک ﷺ نے اس سے یہ سنا تو آپ نے بھی وہ کھانا نہیں کھایا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔

            (علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)