وزیر اعظم عمران خان کا قوم کو بہت جلد بڑی خوشخبری دینے کا اعلان              وزیراعظم عمران خان نے نیشنل ٹورازم کوآرڈینیشن بورڈ تشکیل دینے کی منظوری دے دی              سراج الحق جماعت اسلامی کے دوبارہ امیر منتخب              حکومت کی جانب سے دو ارب روپے کا رمضان پیکج منظور ،یوٹیلی اسٹورز کارپوریشن نے کئی اشیاءمہنگی کردیں              چیف جسٹس آصف سعید نے بریگیڈیئر (ر) اسد منیر کی مبینہ خودکشی کا نوٹس لے لیا، چیئر مین نیب سے رپورٹ طلب              سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاﺅن کر اچی کی 460ارب روپے کی پیشکش قبول کر لی              وزیر اعظم نیوز ی لینڈ کا خود کار و نیم خودکارہتھیاروں پر پابندی کا اعلان              جماعت اسلامی کا متحدہ مجلس عمل سے علیحدگی کا باضابطہ اعلان              مشال قتل کیس میں مزیددو ملزمان کو عمر قید       
تازہ تر ین

تم ایسے دین کے متلاشی ہوجو اس وقت روئے زمین پر نہیں ہے

حق کے متلاشی

زید بن عمروبن نفیل  یہ حضرت عمر ؓ کے چچا زاد بھائی تھے ۔ یہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے دین ابراہیم کے طالب تھے۔ یہ بتوں کے لئے نہ جانوز ذبح کرتے تھے اور نہ ہی مردار اور خون کھاتے تھے۔ ایک مرتبہ ورقہ بن نوفل کے ساتھ دین ابراہیم کی تلاش میں گھر سے نکلے۔ چنانچہ یہود نے ان دونوں پر اپنا دین پیش کیا تو زید کے علاوہ ورقہ بن نوفل یہودی ہوگئے ۔ پھر یہ دونوں نصاری سے ملے انہوں نے اپنا دین ان پر پیش کیا تو زید کے علاوہ ورقہ بن نوفل نصرانی ہو گیا۔ تو زید نے کہا : یہ سب ادیان تو ہماری قوم کے دین کی طرح ہیں جو مشرک ہو گئی ہے۔ پھر زید ایک تارک الدنیا راہب کے پاس گئے تو راہب نے کہا: تم ایسے دین کے متلاشی  ہوجو اس وقت روئے زمین پر نہیں ہے۔ زید نے پوچھا ہو کون سادین ہے؟

            تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرواور اس کا کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ ۔ اور کعبہ کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے رہو۔ چنانچہ زید اسی طریقہ پر قائم رہا حتیٰ کہ فوت ہو گیا۔

            ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ زید بعثت سے پہلے ایک دن نبی پاک ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ابوسفیان کے ساتھ دسترخوان پر ابھی کھانا کھا نےلگے تھے تو ابو سفیان نے زید کو کھانے کے لئے بلایا ۔ لیکن زید نے کہا اے بھتیجے ، میں اس جانور کو نہیں کھاتا جو بتوں کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔ جب نبی پا ک ﷺ نے اس سے یہ سنا تو آپ نے بھی وہ کھانا نہیں کھایا۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔

            (علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)