کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

اس نے ابھی اپنی بات پوری ختم نہیں کی تھی کہ آسمان سے بارش برسنا شروع ہو گئی تھی

حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کی نجات اور ایک اعرابی

            حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ  کے دور خلافت میں سخت قحط پڑا ۔ تو عرب سے ایک وفد خلیفہ سے بات چیت کرنے لگا۔ چنانچہ اس شخص نے خلیفہ سے عرض کیا اے امیر المؤ منین ہم آپ کے پاس ایک بہت بڑی مجبوری کی وجہ سے آئے ہیں۔ کہ کھانا نہ ملنے کیوجہ سے ہمارے جسموں پر چمڑے خشک ہو گئے  ہیں۔ بیت المال سے ہماری ضرورت پوری کرو۔ کیونکہ یہ مال تین حال سے خالی نہیں ہے۔

            1:یا تو یہ مال اللہ تعالیٰ کا ہے۔ 2: یا پھر یہ مال آپ کا ہے ۔ 3: یا پھر اللہ کے بندوں کا ہے۔

1: اگر یہ مال اللہ تعالیٰ کا ہےتو اللہ تعالیٰ اس مال سے بے نیاز ہے۔

2: اگریہ مال آپ کا ہے تو اسے ہم پر صدقہ کر دو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو بہتر بدلہ دے گا۔

3: اگریہ اللہ کے بندوں کے لئے ہے تو اس سے ان کا حق ان کو عطا کر دو۔

یہ گفتگو سن کر حضرت عمر بن عبدالعیزیز کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں۔ پھر آپ نے فرمایا اے شخص بات تو اسی طرح ہے، جس طرح تو نے بیان کی ہے آپ نے بیت المال سے ان کی ضرورت کو پورا کرنے کا حکم دیا۔ جب اس عر بی وفد نےوہاں سے نکلنے کا پروگرام بنایا تو حضرت عمر بن  عبدالعزیز ؓ نے ان کےخطیب سے فرمایا: اے آزاد مرد، جس طرح تو نے اللہ کے بندوں کی ضرورتو ں کو ہم تک پہچایا ہے اور ہم کو ان کا کلام سنایا ہے۔ اسی طرح میرا کلام اورمیری حاجت بھی اللہ تعالیٰ تک پہنچا دے۔ اس عربی دیہاتی شخص نے آسمان کی طرف چہرہ کر کے عرض کیا:

            اے الہٰی : اپنی عزت وجلال کے وسیلے سے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ وہی معاملہ فرما جو اس نے تیرے بندوں کے ساتھ فرمایا ہے ۔ اس نے ابھی اپنی بات پوری ختم نہیں کی تھی کہ آسمان سے بارش برسنا شروع ہو گئی تھی۔ اور ایک بڑا برف کا اولہ مٹکے پر پڑا تو وہ ٹوٹ گیا۔ تو اس سے ایک کاغذ نکلا۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگ سے نجات پا گیا۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)