آصف زرداری نے نیب کا کال اپ نوٹس چیلنج کر دیا              بلاول کا نیب میں پیش ہونے کافیصلہ              پیرا گون ہاﺅسنگ کیس:خواجہ برادران کے ریمانڈ میں توسیع              وزیر خزانہ اسد عمر نے اپوزیشن کاالیکشن میں کالعدم تنظیموں کی حمایت لینے کا الزام مستردکردیا              سرکاری درس گاہوں میں 12ویں تک نیا نصاب پڑھانے کا فیصلہ       
تازہ تر ین

اس نے ابھی اپنی بات پوری ختم نہیں کی تھی کہ آسمان سے بارش برسنا شروع ہو گئی تھی

حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ کی نجات اور ایک اعرابی

            حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ  کے دور خلافت میں سخت قحط پڑا ۔ تو عرب سے ایک وفد خلیفہ سے بات چیت کرنے لگا۔ چنانچہ اس شخص نے خلیفہ سے عرض کیا اے امیر المؤ منین ہم آپ کے پاس ایک بہت بڑی مجبوری کی وجہ سے آئے ہیں۔ کہ کھانا نہ ملنے کیوجہ سے ہمارے جسموں پر چمڑے خشک ہو گئے  ہیں۔ بیت المال سے ہماری ضرورت پوری کرو۔ کیونکہ یہ مال تین حال سے خالی نہیں ہے۔

            1:یا تو یہ مال اللہ تعالیٰ کا ہے۔ 2: یا پھر یہ مال آپ کا ہے ۔ 3: یا پھر اللہ کے بندوں کا ہے۔

1: اگر یہ مال اللہ تعالیٰ کا ہےتو اللہ تعالیٰ اس مال سے بے نیاز ہے۔

2: اگریہ مال آپ کا ہے تو اسے ہم پر صدقہ کر دو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ صدقہ کرنے والوں کو بہتر بدلہ دے گا۔

3: اگریہ اللہ کے بندوں کے لئے ہے تو اس سے ان کا حق ان کو عطا کر دو۔

یہ گفتگو سن کر حضرت عمر بن عبدالعیزیز کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہو گئیں۔ پھر آپ نے فرمایا اے شخص بات تو اسی طرح ہے، جس طرح تو نے بیان کی ہے آپ نے بیت المال سے ان کی ضرورت کو پورا کرنے کا حکم دیا۔ جب اس عر بی وفد نےوہاں سے نکلنے کا پروگرام بنایا تو حضرت عمر بن  عبدالعزیز ؓ نے ان کےخطیب سے فرمایا: اے آزاد مرد، جس طرح تو نے اللہ کے بندوں کی ضرورتو ں کو ہم تک پہچایا ہے اور ہم کو ان کا کلام سنایا ہے۔ اسی طرح میرا کلام اورمیری حاجت بھی اللہ تعالیٰ تک پہنچا دے۔ اس عربی دیہاتی شخص نے آسمان کی طرف چہرہ کر کے عرض کیا:

            اے الہٰی : اپنی عزت وجلال کے وسیلے سے عمر بن عبدالعزیز کے ساتھ وہی معاملہ فرما جو اس نے تیرے بندوں کے ساتھ فرمایا ہے ۔ اس نے ابھی اپنی بات پوری ختم نہیں کی تھی کہ آسمان سے بارش برسنا شروع ہو گئی تھی۔ اور ایک بڑا برف کا اولہ مٹکے پر پڑا تو وہ ٹوٹ گیا۔ تو اس سے ایک کاغذ نکلا۔ جس پر لکھا ہوا تھا۔ عمر بن عبدالعزیز ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے آگ سے نجات پا گیا۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)