وزیراعظم عمران خان نے سندھ سے 2 ہندو لڑکیوں کے اغوا کا نوٹس لے لیا              برطانیہ ، پاکستانی ہائی کمیشن نے برطانوی شہریوں کیلئے ای ویزا کا اجراءشروع کر دیا              حکومت سندھ نے ایک بارپھرسرکاری ملازمتوں پرپابندی عائد کردی              مفتی تقی عثمانی حملہ: 6 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج              پشاور بس منصوبے کا افتتاح غیر معینہ مدت تک ملتوی              سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتار ی جاری              صدر ٹرمپ اور اتحادی افواج کا شام سے داعش کے مکمل خاتمے کا اعلان              ڈیم فنڈ: کینیڈا میں عمران خان کے دستخط شدہ 2 بلے 65 ہزار ڈالرز میں نیلام              یوم پاکستان ،مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا شاندار کرتب دکھا کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ              بھارت نے یسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی لگادی       
تازہ تر ین

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے نبی ؑ کو وحی بھیجی کہ اس نیک شخص اور اس کی بیوی سے کہدو کہ جب تمہاری نیت ہماری عبادت کرنے میں خالص ہے

نیک نیتی کا صلہ

            بنی اسرائیل میں سے ایک نیک شخص تھا اور اس کی بیوی بھی نیک تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس زمانے کے نبی ؑ کو وحی کی کہ فلاں نیک شخص سے کہو کہ میں تجھے آدھی عمرمال عطا کرتا ہوں اور آدھی عمر فقیر کر دیتا ہوں ۔ اگر جوانی میں مال دار ہونا چاہتا ہے تو اسے جونی میں مال دے دیتا ہوں ۔ اور بڑھاپے میں فقیر کردوں گا۔ اور اگر مال کو بڑھاپے میں پسند کرتا ہے تو اسے میں بڑھاپے میں مال عطا کردیتا ہوں ۔ اور جونی میں فقیر کردوں گا۔

            چنانچہ نبی ؑ نے اس نیک آدمی کو اس بات کی اطلاع دی۔ وہ اپنی بیوی کے پاس آیا اور اس کو سارا واقعہ بتایا  ۔ اور اس سے کہا کہ اس بارے تیری کیا رائے ہے؟ بیوی نے عرض کیا کہ جس طرح تیری مرضی ۔ شوہر نے اس سے کہا کہ میری رائے یہ ہے کہ میں جوانی میں غربت کو اختیار کر لیتا ہوں ۔ کیونکہ اس وقت میں غربت اور اپنے رب کی عبادت پر کمر بستہ رہنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔ اور جب میں بوڑھا ہو جاؤں گا اور میرے پاس مال ہوگا جس سے میں کھاؤں گا تو اپنے رب تعالیٰ کی عبادت پر قادر ہو جاؤں گا۔ بیوی نے سن کر عرض کیا : اے اللہ کے بندے  اگر تم جونی میں فقیر ہو گے تو اطاعت پر قادر نہیں ہو سکتے کیونکہ ہم رزق کےکمانے کھانے میں مشغول ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت نہیں کر پائیں گے۔ اور نہ ہی صدقہ خیرات کر سکیں گے۔ ہاں، اگر جونی میں مالداری کو اختیار کرو گے تو عبادت پر قادر ہوں گے کیونکہ اس وقت ہمارے جسموں میں طاقت ہوگی، تو شوہر نےکہا کہ جس طرح تیری مرضی ہے وہ ہی اچھی ہے۔ اورہم ایساہی کریں گے۔

            اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس وقت کے نبی ؑ کو وحی بھیجی کہ اس نیک شخص اور اس کی بیوی سے کہدو کہ جب تمہاری نیت ہماری عبادت کرنے میں خالص ہے۔ اور تم دونوں اس بات پر متفق ہو تو: میں نے تم دونو ں کو ساری عمر کے لئے مالدار کر دیا۔ اب تم دونوں میری عبادت کرتے رہو۔ اور جو چاہو صدقہ کرتے رہو۔ تاکہ تم دونوں کا حصہ دنیا اور آخرت میں ہو اور اللہ تعالیٰ ہی تما م خزانوں کا مالک ہے۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)