آصف زرداری نے نیب کا کال اپ نوٹس چیلنج کر دیا              بلاول کا نیب میں پیش ہونے کافیصلہ              پیرا گون ہاﺅسنگ کیس:خواجہ برادران کے ریمانڈ میں توسیع              وزیر خزانہ اسد عمر نے اپوزیشن کاالیکشن میں کالعدم تنظیموں کی حمایت لینے کا الزام مستردکردیا              سرکاری درس گاہوں میں 12ویں تک نیا نصاب پڑھانے کا فیصلہ       
تازہ تر ین

اسی دوران کنوئیں کا منہ کھلا اور کسی نے اپنا پاؤں لٹکا یا اور گرج دار آواز سے مجھ سے کہا اس سےلٹک جاؤ

دشمن کے ذریعے مدد

ابو حمزہ خراسانی کہتے ہیں کہ  میں ایک مرتبہ حج سے واپس آرہا تھا تو اچانک میں کنوئیں میں گر پڑا ۔ میرے دل میں خیال آیا کہ میں کس سے مدد چاہوں۔ پھرمیرے دل میں خیا ل آیا کہ قسم بخدا : میں کسی ے مدد نہیں چاہوں گا۔ یہ خیال ابھی پورا نہیں ہوا تھا کہ دو آدمی اس کنوئیں کے قریب سے گزرے ۔ ایک نے دوسرے سے کہا۔ آؤ ہم اس کنوئیں کا منہ بند کر دیتے ہیں کہ اس میں کوئی گرنہ جائے۔ چنانچہ وہ بانس اور چٹائی لائے اور اس کنوئین کا منہ بند کردیا۔ میں نے یہ دیکھ کر چیخ مارنے کا ارادہ کیا لیکن پھر دل میں خیال آیا کہ میں اس پاک ذات کی طرف چیخ کر فریاد کروں جو ان دونوں سے زیادہ میرے قریب ہے۔

 یہ سوچ کر میں چپ رہا۔ اسی دوران کنوئیں کا منہ کھلا اور کسی نے اپنا پاؤں لٹکا یا اور گرج دار آواز سے مجھ سے کہا اس  سےلٹک جاؤ، میں اس کے ساتھ لٹک گیا۔ جب اس نے مجھے باہر نکالا تو میں دیکھتا ہوں کہ وہ ایک درندہ تھا اور وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا۔ لیکن ھاطف عیبی سے آواز آئی کہ اسے ابو حمزہ کیا یہ ٹھیک نہیں ہو اکہ میں نے تجھے ضائع ہونے سے اس درندے کے ذریعہ سے بچا لیا جو تیرا دشمن تھا۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)