نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ نارمل، پنجاب حکومت کو بھجوادی              کرائسٹ چرچ واقعہ: جیسنڈا آرڈرن کا حملے کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان       
تازہ تر ین

حضرت اصمعی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے اس لڑکی کے پاس جا کر جو کچھ میسر تھا دیا اور اس کوچھوڑ

اللہ تعالیٰ کے کرم سے وسیلہ ملتاہے

            حضرت اصمعی ؒ فرماتے ہیں کہ میں حج کے موسم میں مدینہ منورہ حاضر ہوا ہر طرف سے جنگل کے فقراء ہمارے پاس آئے تو میں نے وہاں نہایت خوبصورت ایک لڑکی دیکھی جو مردوں کے درمیاں آتی جاتی تھی اور ایسے شیرین انداز میں گفتگو کرتی جو ہوا سے زیادہ نرم اور گردوغبار سے زیادہ باریک تھا۔

            جب میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کے حسن نے میری آنکھوں کو حسن وجمال سے بھر دیا۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اللہ رتعالیٰ کی پناہ مانگی شیطان سے۔ پھر میں نے کہا : اے لڑکی ۔ اتنی حسین و جمیل کا اس موسم میں مخلوق کے ساتھ سفر کرنا جائزہے؟  یہ سن کر وہ رو پڑی اور یہ اشعار پڑھے۔

ترجمہ: میں نے اپنا حیلہ ٹوٹنے تک اپنے چہرے کا ظاہر نہیں کیا ۔ میں نے اس چہرے کو ظاہر کیا حالانکہ وہ عزیز اور بزرگ ہے۔

اس چہرے کو چھپا نا مجھ پر مشکل ہو گیا تھا کیونکہ زمانہ جو جفا کرتا ہے جیسا کہ تم اس کو دیکھتے ہو۔

میں نے اس چہرے کو حجاب میں رکھا  حتی کہ میرے لئے کوئی پناہ نہ رہی اور میرا باپ ہیثم بھی فوت ہو گیا۔

تو میں نے مجبور اً اس کو پردے سے ظاہر کر دیا اور اس پر اللہ تعالیٰ مجھ پر گواہ ہے۔ جو خوب جانتا ہے۔

زمانے نے اس چہرے کو ایسے شہر میں کھولا جس میں دوست کم اور درہم عزیز  ہو گئے۔

اور میں حجاز کی سرزمین میں مسافر ہوگئی اور ابوربیعہ (شاعرہ کے شوہر کا نام) دوراور خیمہ والا ہو گیا یعنی مقیم ہے۔

حضرت اصمعی ؒ فرماتے ہیں کہ میں نے  اس لڑکی کے پاس جا کر جو کچھ میسر تھا دیا اور اس کوچھوڑ اور مسجد کے کھلے میدان میں حاضر ہونے کا اتفاق ہوا۔ میں نے ابو کلثوم طوق بن مالک بن طوق سے اس کا واقعہ بیان کیا ۔ پھر دوسرے سال ابو کلثوم کی مجھ سے ملاقات ہو ئی۔ میں اس کے حاضر ہوا اور چند دن ٹھہرا تو میرے پاس خوبصورت چہرے والا ایک خادم آیا اور اس کے ساتھ کپڑوں کا جوڑا اور ایک تھیلا بھی تھا۔ اس نے ان کو میرے پا س رکھا۔ لیکن مجھے اس کے متعلق کوئی علم نہیں تھا۔ ابو کلثوم نے میری طرف دیکھ کرکہا اے ابو العباس (یہ حضرت اصمعی ؒ کی کنیت ہے) یہ تمہارے پتہ بتانے کا بدلہ ہے اور یہ متمناہ بنت ریشم کا ہدیہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہای برکتوں کا وجہ سے ان پر لطف و کرم کیا۔ جب تم نے اس کے متعلق مجھے بتلایا تو میں اس شخص کو بھیجا جو اس کو لایا اور میں نے اس سے نکاح کر لیا اور میں نے تمہاری اس کو خبر دی تو اس نے تمہارا شکرادا کیا اور میں اس سے بڑھ کر تمہارا شکریہ ادا کرتاہوں۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)