سرکاری درس گاہوں میں 12ویں تک نیا نصاب پڑھانے کا فیصلہ       
تازہ تر ین

اس شخص کی ایک لڑکی تھی جس کا نام طبقہ تھا۔ باپ نے شن کی باتیں اپنی بیٹی کو بتائیں

عقل مند لڑکی

            عرب کے عقل مندوں میں سے ایک شخص تھا جس کو (شن) کہا جاتا تھا ۔ اس نے قسم کھا رکھی تھی کہ وہ صرف اسی عورت سے نکاح کریگا جو اس کے موافق ہوگی۔ وہ اسی عورت کی تلاش میں مختلف شہروں اور قبیلوں کا سفر کرتا تھا۔ ایک سفر میں ایک شخص اس کا رفیق سفر ہوا جب ان پر سفر مشکل ہوا تو (شن ) نے اپنے ہمسفر ساتھی سے کہاکیا تو مجھے آٹھائے گایا میں تجھے اٹھاؤں ؟ اس نے جواب دیا اے جاہل آدمی کیا سوار شخص سوار کو اپنے اوپر اٹھا سکتاہے۔ شن چپ ہو گیا  اس کے بعد وہ دونوں ایک کھیتی کے پاس آئے جو ابھی کھڑی تھی۔ شن نے اس سے کہا کیا تم دیکھتے ہو کہ زراعت کھائی گئی ہے یا نہیں ؟

            اس آدمی نے شن سے کہا اے جاہل: کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ یہ کھیتی اپنی بالی میں ابھی باقی ہے ۔ یہ سن کرشن پھر خاموش ہو گیا۔ پھر ان کے سامنے سے ایک جنازہ آیا ۔ شن نے اپنے ہمسفر سےکہا: کیا تم دیکھتے ہو کہ جس صاحب کا یہ جنارہ ہے وہ زندہ ہے یا نہیں ؟ اس کے ساتھی نےکہا اے شن میں نے تجھ سے بڑا جاہل آج تک نہیں دیکھا کہ وہ قبرستان کی طرف جارہے ہیں اور کیا وہ زندہ ہو گا۔ جب وہ دونوں اس شخص کے گاؤں کےپاس پہنچے تو شن کا ہمسفر اس کو اپنے گھر لے گیا۔

           اس شخص کی ایک لڑکی تھی جس کا نام طبقہ تھا۔ باپ نے شن کی باتیں اپنی بیٹی کو بتائیں ۔ تو بیٹی نےکہا کہ اس نے بالکل ٹھیک کہا ہے۔ اس نے آپ سے ایسی باتیں پوچھیں جو کسی ایسے ہی آدمی سے پوچھی جا سکتی تھیں۔ کیونکہ اس کا یہ کہنا کہ تم مجھے اٹھاؤ گے یا میں تم کو اٹھاؤں۔ اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ تم مجھ سے باتیں کرو گے یا میں تم سے باتیں کروں۔ اس سے ہم سفر جلدی طے کرلیں گے۔ پھر اس کا یہ کہنا کہ کھیتی کھائی گئی ہےیا نہیں اس سے اس کا مطلب یہ تھا کہ آیا زراعت کےمالکوں نے اس کی قیمت طے کرلی ہے یا نہیں۔ پھر اس کا جنازہ کے متعلق یہ کہنا کہ وہ زندہ یا نہیں۔ اس سے مراد یہ تھی کہ کیا اس نے پیچھے اولاد چھوڑی ہے جس سے اس کا ذکر زندہ رہے گا یا نہیں۔ جب وہ شخص گھر سے باہر نکلا تو اس نے لڑکی کی ساری باتیں شن کو بتائیں۔ جو اس نے وضاحت کی تھی۔ یہ سن کر شن نے اس سے نکاح کرنا پسند کیا ۔ اور اسکے باپ کو اس کے نکاح کا پیغام دیا اور اس سے نکاح کیا پھر اس  کو اپنےقبیلے میں لے آیا تو لوگوں نے ان دونوں کےحالات کو معلوم کیا کہ شن نے طبقہ سے موافقت کی ہے ۔ چنانچہ یہ ان کی ضرب المثل بن گئی۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)