وزیراعظم کا 27 مارچ سے غربت کے خاتمے سے متعلق جامع پروگرام شروع کرنے کا اعلان              سونے کی قیمت ملکی بلند ترین سطح پر ،مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ 70ہزار 500روپے              آصف زرداری کی بریت کے خلاف نیب کی درخواست سماعت کے لئے مقرر              ڈاکٹر سعید کے بیرون ملک جانے پر پابندی ختم              اسد منیر مبینہ خودکشی ،چیئر مین نیب کا انکوائر ی خود کر نے کا فیصلہ              چین سے 2ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہو گئے              نقیب اﷲقتل کیس میں راﺅ انوار سمیت دیگر ملزمان پر فرد جر م عائد              نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ نارمل، پنجاب حکومت کو بھجوادی              کرائسٹ چرچ واقعہ: جیسنڈا آرڈرن کا حملے کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان       
تازہ تر ین

کیونکہ حج کا وقت گزر چکا تھا۔ جب حاجی لوگ حج سے واپس مڑے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس اپنے شہر لوٹ آیا

غریب کی مدد کرنے کا صلہ

             حضرت عبداللہ بن مبارک ؒ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حج کے ارادہ سے چلا لیکن شہر کوفہ میں داخل ہوا۔ وہاں میں نے ایک عورت دیکھی جو مردہ بط کے پر اور بال اتار رہی ہے۔ میں نے اپنے دل میں سوچا کہ یہ بط تو مردہ ہے  تو اس عورت کے پاس ٹھہر گیا۔ اور اس سے کہا اے بی بی یہ بط مردہ ہے یا ذبح شدہ ؟ اس نے جواب میں کہا کہ یہ بط مردہ ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ میں اور میرے بچے اس کو کھائیں۔

            حضرت عبداللہ بن مبارکؒ نے اس سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تو مردار کو حرام قرار دیا اور تو اسے اس شہر میں کھائے گی ۔ عورت نے کہا کہ اے شخص  تم مجھ سے ہٹ جاؤ ۔ لیکن میں اس سے مسلسل سوال وجواب کرتا رہا۔ بالآخر اس نےکہا۔ میرے بچے ہیں اور ان کو تین دن ہوگئے ہیں اور میں کوئی ایسی چیز نہیں پکاسکی جو ان کو کھلا سکوں۔ حضرت عبداللہ بن مبارک یہ سن کروہاں گئے اور اپنی خچر پر کھانے کا سامان ، کپڑا اور دیگر سامان لاد کر اس عورت کے دروازے پر لائے ۔ اور وہاں دستک دی۔ جب عورت نے دروازہ کھولا تو سامان سمیت خچر کو میں نے اندرلے  جاکر عورت سے کہا کہ یہ خرچہ ، کپڑا اور سامان خوردونوش سب کچھ تیرے لئے لایا ہوں۔ اس کے بعد میں نے قیام کی نیت کی اور حج کے سفر کا ارادہ ختم کردیا۔

            کیونکہ حج کا وقت گزر چکا تھا۔ جب حاجی لوگ حج سے واپس مڑے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس اپنے شہر لوٹ آیا ۔ تو  لوگ حج کی مبارک دینے میری طرف دوڑے ۔ آپ نے ان سے کہا کہ میں نے اس سال حج نہیں کیا۔ یہ سن کر ایک شخص نےکہا کہ میں نے تیرے پاس اتنا زادے راہ ودیعت نہیں رکھا تھا۔ اورہم مکہ مکرمہ جارہے تھے۔ پھر میں نے اپنا خرچ تم سے لے لیا تھا اور دوسرے شخص نے کہا کیا آپ نے فلاں  جگہ پر مجھے پانی نہیں پلایا تھا۔ آخری شخص نےکہا کہ کیا آپ نے میرے لئے فلاں فلاں چیز نہیں خریدی تھی۔ حضرت عبداللہ بن مبارکؒ فرمانے لگے میں نہیں جانتا ہوں کہ آپ لوگ کیا کہہ رہے ہیں کیونکہ  میں نے اس سال حج نہیں کیا۔ جب رات ہوئی تو حضرت عبداللہ بن مبارک نے خواب میں دیکھا کہ کوئی کہنے والا کہہ رہا ہے کہ : اے عبداللہ بن مبارک: اللہ تعالیٰ نےتیرے صدقہ کو قبول فرما لیا ہے اور تیری شکل کا ایک  فرشتہ بھیجا ، اس نے تیری طرف سے حج ادا کیا ہے۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)