وزیراعظم کا 27 مارچ سے غربت کے خاتمے سے متعلق جامع پروگرام شروع کرنے کا اعلان              سونے کی قیمت ملکی بلند ترین سطح پر ،مقامی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ 70ہزار 500روپے              آصف زرداری کی بریت کے خلاف نیب کی درخواست سماعت کے لئے مقرر              ڈاکٹر سعید کے بیرون ملک جانے پر پابندی ختم              اسد منیر مبینہ خودکشی ،چیئر مین نیب کا انکوائر ی خود کر نے کا فیصلہ              چین سے 2ارب ڈالر پاکستان کو موصول ہو گئے              نقیب اﷲقتل کیس میں راﺅ انوار سمیت دیگر ملزمان پر فرد جر م عائد              نوازشریف کی میڈیکل رپورٹ نارمل، پنجاب حکومت کو بھجوادی              کرائسٹ چرچ واقعہ: جیسنڈا آرڈرن کا حملے کی تحقیقات کے لیے رائل کمیشن بنانے کا اعلان       
تازہ تر ین

تاجر نےکہا اگر ضروریہ ہی چاہیے تو ان میں سے کوئی ایک قالین لے لیں۔ بالآخر بزرگ ان دونوں میں ایک قالین لے کر باہر نکلا

ڈوبتے کی مددکرنا

             شیوخ میں سے ایک بزرگ اسکندریہ کے تاجر کے پاس تشریف لائے ۔ تاجر نے انہوں خوش آمدید کہا اور ان کی عزت کی ۔ تو اس بزرگ نے اس محل میں جہاں وہ تاجر بیٹا تھا روم کی سلطنت کے قیمتی قالین دیکھے اور ان قالینوں کو دیکھ کر تاجر سے وہ قالین طلب کرلیے۔ یہ معاملہ تاجر پر کافی گراں تھا تو اس نےکہا اے میرے سردار اس کے بدلہ جو چیز بھی آپ کو چاہیے میں آپ کو دے دیتا ہوں ۔ بزرگ نے انکار کرتے ہوئے۔ کہا میں ان قالینوں کے علاوہ کوئی چیز نہیں طلب کرتا۔ تاجر نےکہا اگر ضروریہ ہی چاہیے تو ان میں سے کوئی ایک قالین لے لیں۔ بالآخر بزرگ ان دونوں میں ایک قالین لے کر باہر نکلا۔ اس تاجر کے دو بیٹے تھے جو ہندوستان کے شہروں میں سفر کر رہے تھے۔ اور وہ دونوں الگ الگ کشتی پر سوار تھے ۔ کافی عرصہ کے بعد  ان کو خبر ملی کہ ان میں سے ایک بیٹا اپنی کشتی اور سازو سامان سمیت ڈو گیا ہے اور دوسرا لڑکا صحیح سلامت رہا وہ کچھ عرصہ کے بعد اسکندریہ کے قریب پہنچا۔ اس کا باپ اسے وہاں  خوشی خوشی شہر کے باہر ملنے کے لئے گیا۔ جب وہ اس سے ملا تو اس کےپاس بعینہ اُ سی طرح کا قالین اونٹ پر لدا ہوا دیکھا۔ اور اپنے لڑکے سے اس قالین کے متعلق پوچھا کہ تم کو یہ کہاں سے ملاہے؟

            بیٹے نے کہا کہ اے میرے باپ اس قالین کا عجیب و غریب قصہ اور عظیم نشانی ہے۔ تاجر نے کہا کہ بیٹا آپ مجھ سے بیان کریں ۔ بیٹے نے کہا کہ میں نے اور میرے بھائی نے ہوا کے موافق ہندوستان کے شہروں کا سفر کیا اور ہم الگ الگ کشتی میں سوار تھے ۔  جب ہم دریا کے درمیان پہنچے تو تیز ہوا چلی اور معاملہ سنگین ہو گیا اور دونوں کشتیاں ٹو ٹ گیئں۔ اور ہر شخص اپنی کشتی کو ٹھیک کرنے میں مشغول ہو گیا۔ اور ان میں سے ہر ایک نے اپنا کام اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا۔ اسے کے بعد ہمارے لئے ایک بزرگ ظاہر ہوا اور اس کے ہاتھ یہ قالین تھا انہوں نے اس قالین کے ساتھ ہماری کشتی ایک بندرگاہ میں لنگر دی  ۔ اور جو سامان میں تھا اس کو الٹ پھینکا اور اپنی حالت ٹھیک کی۔ تاجر نے اپنے بیٹے سےکہا اے بیٹا تم اس بزرگ کو دیکھ کر پہچان لو گے؟ اس نے عرض کیا: ہاں ۔ تاجر اپنے بیٹے کو بزرگ کےپاس لے گیا۔

          جب اس نے بزگ کو دیکھا تو زور سے سخت چیخ ماری۔ اور عرض کیا اے میرے باپ ، اللہ کی قسم یہ وہی بزرگ ہے ۔ پھر اس لڑکے پر بے ہوشی طاری ہوگئی۔ پھر اس بزرگ نے اپنا ہاتھ اس پر پھیرا تو اس کو افاقہ ہو گیا اور اس کے دل کو سرور آگیا۔ اس کے بعد تاجر نے بزرگ سے عرض کیا۔ اے میرے سردار آپ نے اس واقعہ کی حقیقت مجھے کیوں نہیں بتائی؟ یہاں تک کہ میں دونوں قالین آپ کے حوالے کردیتا۔ اس بزرگ نے فرمایا پس اللہ تعالیٰ کا ارادہ ہی کچھ ایسا تھا۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)