برطانیہ ، پاکستانی ہائی کمیشن نے برطانوی شہریوں کیلئے ای ویزا کا اجراءشروع کر دیا              حکومت سندھ نے ایک بارپھرسرکاری ملازمتوں پرپابندی عائد کردی              مفتی تقی عثمانی حملہ: 6 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج              پشاور بس منصوبے کا افتتاح غیر معینہ مدت تک ملتوی              سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتار ی جاری              صدر ٹرمپ اور اتحادی افواج کا شام سے داعش کے مکمل خاتمے کا اعلان              ڈیم فنڈ: کینیڈا میں عمران خان کے دستخط شدہ 2 بلے 65 ہزار ڈالرز میں نیلام              یوم پاکستان ،مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا شاندار کرتب دکھا کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ              بھارت نے یسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی لگادی       
تازہ تر ین

پھر دوسرے فرشتے نے کہا کہ اللہ عزوجل نے مجھے بھی ایک عجیب کام کے لئے بھیجا ہے

چوتھے آسمان میں دو فرشتوں کا واقعہ

             چوتھے آسامان پر دو فرشتوں کی ملاقات ہوئی ایک نے دوسرے سے پوچھا کہاں جارہے ہو؟ اس نے جواب دیا کہ ایک عجیب کام ہے اور کام یہ ہے کہ فلاں شہر میں ایک یہودی شخص ہے جس کے مرنے کا وقت نزدیک آچکا ہے لیکن اس نے مچھلی کھانے کی  تمنا کی ہے اور دریا میں مچھلی نہیں ہے۔

            مجھے میرے اللہ عزوجل نے حکم دیا ہے کہ : میں مچھلیوں کو دریا کی طرف ہانکوں تاکہ لوگ ان میں سے ایک مچھلی یہودی کے لئے شکار کرلیں۔ اس کی وجہ یہ ہےکہ یہودی کی کوئی نیکی ایسی باقی رہتی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کی خواہش کی چیز اس تک پہنچا دے تاکہ وہ دنیا سے اس حال میں جائے کہ اس کے کھاتے میں کوئی نیکی باقی نہ ہو۔

            پھر دوسرے فرشتے نے کہا کہ اللہ عزوجل نے مجھے بھی ایک عجیب کام کے لئے بھیجا ہے اور وہ کام یہ ہے کہ فلاں شہر میں ایک نیک آدمی ہے اس نے دنیا میں جو بھی برائی کی ہے اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ اسے دنیا میں ہی دے دیا ہے ۔ اب اس کے فوت ہونے کا وقت نزدیک آچکا ہے۔اس نے روغن زیتون کھانے کی آرزو کی ہے اور اس کے کھاتے میں صرف ایک گناہ باقی ہے۔ میرے رب عزوجل نے مجھےحکم دیا ہے: میں زیتون کو نیچے گرادوں تاکہ اس زیتون کے گرنے سے جو اس کو تکلیف پہنچے گی اللہ تعالیٰ اس سے اسکے گناہوں کو مٹادے گا۔ حتی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ باقی نہ ہو ۔

            محمد بن کعب فرماتے ہیں کہ ارشاد خداوندی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ کافر دنیا میں ذرہ برابرنیکی کرے گا تو اس کا بدلہ دنیا میں ہی اس کومل جائے گا اور آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں ہو گا۔ اور ایمان والا دنیا میں جو ذرہ برابرگناہ کرتاہے تو اس کی سزا دنیا میں ہی دیکھ لیتا ہے۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)