کھیل کے میدان سے افسوسناک خبر اہم ترین عہدیدار نے تنگ آکر استعفیٰ دیدیا              قطر جانے کے خواہشمند افراد کیلئے بڑی خوشخبری آگئی پاکستانی پروفیشنلز اور ہنرمند افراد متوجہ ہوں، پھر نہ کہنا خبر نہ ہوئی              یو اے ای میں رہائش پذیر پاکستانیوں کیلئے دھماکے دار خبر آگئی ، عام تعطیل کا اعلان کردیاگیا              سیاحوں کی بس میں دھماکہ ، ہلاکتیں ، متعدد زخمی ، افسوسناک واقعہ کہاں پیش آیا ؟ جانئے              پارسل بھیجنا ہو تو دورنہ جائیں، اب ڈاکخانے کا عملہ ہی گھر بلا لیں ایسی سہولت متعارف جان کرآپ بھی دانتوں تلے انگلیاں دبا لینگے              باکمال لوگ ، لاجواب سروس کے شاندار اقدام نے شہریوں کے دل جیت لیئے ،جان کر آپ بھی داد دیئے بغیر نہ رہ سکیں گے              اہم ترین ساہم ترین سیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئےیاسی رہنما رشتہ ازدوج میں منسلک ہوگئے، لڑکی کون؟ کس بڑی شخصیت کی بیٹی ہیں ؟ جانئے              خوفناک حادثے نے سب کو رُلادیا ، ایک ہی خاندان کے 4 افراد جاں بحق ،ہر طرف چیخ وپکار       
تازہ تر ین

عرش سرخ یاقوت کا بنا ہو ہے اور دوسری روایت میں سبزیاقوت سے بنا ہوا بھی ملتاہے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے کان اور اس کے کندھے کے درمیان کافاصلہ پانچ سوسال کی مسافت ہے

عرش الہٰی کی شان

            حضرت وہب بن منبہ ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عرش کو کرسی سے دو ہزار سال پہلے بنایااور عرش کےلئے تین سو برج بنائے۔ اور ہر دو برجوں کے درمیان تین سو سال کی مسافت ہے۔ ہر برج کی لمبائی ایک ہزار سال کی راہ ہے اور دوبرجوں کے درمیان میں انسانوں اورجنوں کی طرح فرشتے ہیں۔ جو سرکار دو عالم ؐ کی گناہ گار اور نافرمان امت کے لوگوں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔

            علامہ نسفی فرماتے ہیں کہ عرش کے لئے تین سو ساٹھ پائے پیدا کیے گئے ہیں ہر پایا دنیا کے برابر ہے ۔ اور ہردوپایوں کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت کا فاصلہ ہے۔

            ایک روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوح کو کرسی اور عرش کے درمیان پیدا کیا ۔ اور اپنے نور سے کچھ انوار پیدا کیے۔ ان میں سے ایک نور سے عرش پیدا کیا اور اس کے لئے ساٹھ ہزار تین سو ستون کی لمبائی ہزار برس کی مسافت ہے اور ہر دو ستون کے درمیان ستر ہزار شہر ہیں اور ہر شہر میں ستر ہزار محل ہیں اور ہرمحل میں فرستوں کی ستر ہزار صفیں ہیں اور اس کی لمبائی اور چوڑائی کی کوئی حد نہیں ہے۔ اور ستر ہزار انوار کی کپڑے ہرروز پہنائے جاتے ہیں اور کوئی اس کی طرف دیکھنے کی طاقت نہیں رکھتا، اس کی صورت کی قبہ کی طرح ہے اور اس کے دائرہ میں اتنی قندلیں لٹک رہی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی ان کی تعداد کو نہیں جانتا اور اس میں تمام مخلوقات کی خواہ وہ جاندار ہوں یا غیر جاندار ہوں ۔ ان تمام صورتوں کو چار فرشتے اٹھائیں گے اور آخرت میں آٹھ فرشتے ۔

            ایک روایت یہ بھی ہے کہ عرش کے لئے ستر ہزار زبانیں ہیں وہ ان زبانوں سے طر ح طرح کی بولیوں میں اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتاہے۔

            ایک روایت کے مطابق عرش سرخ یاقوت کا بنا ہو ہے اور دوسری روایت میں سبزیاقوت سے بنا ہوا بھی ملتاہے عرش کو اٹھانے والے فرشتوں کے کان اور اس کے کندھے کے درمیان کافاصلہ پانچ سوسال کی مسافت ہے۔

            ایک روایت میں سات سو سال اور ایک روایت میں آیا ہے کہ چار فرشتے عرش کواٹھائے ہوئے ہیں ان میں سے ایک فرشتہ ان کی شکل پر دوسرابیل کی صورت میں تیسرا گدھ اور چوتھا شیر کی شکل میں ہے۔

            اور کہا گیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عرش کو پیدا کیا تو وہ بطور فخر خرکت میں آ گیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے مجھ سے بڑئی کوئی مخلوق پیدا نہیں فرمائی۔ تو اللہ تعالیٰ  نے اس کو ایک ایسا سانپ کا طوق پہنا دیا کہ جس کے ستر ہزار بازو ہیں اور ہر بازو میں ستر ہزار پر ہیں اور ہر پر میں ستر ہزار منہ ہیں اور ہر منہ میں ستر ہزار زبانیں ہیں اور ہر زبان سے ہر تعد اد اور ان تمام چیزوں کی تعداد کے برابر اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتاہے تو وہ سانپ عرش کو لپٹ گیا تو عرش اس کے نصف تک ہوا۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)