برطانیہ ، پاکستانی ہائی کمیشن نے برطانوی شہریوں کیلئے ای ویزا کا اجراءشروع کر دیا              حکومت سندھ نے ایک بارپھرسرکاری ملازمتوں پرپابندی عائد کردی              مفتی تقی عثمانی حملہ: 6 افراد کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج              پشاور بس منصوبے کا افتتاح غیر معینہ مدت تک ملتوی              سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے وارنٹ گرفتار ی جاری              صدر ٹرمپ اور اتحادی افواج کا شام سے داعش کے مکمل خاتمے کا اعلان              ڈیم فنڈ: کینیڈا میں عمران خان کے دستخط شدہ 2 بلے 65 ہزار ڈالرز میں نیلام              یوم پاکستان ،مسلح افواج کی شاندار پریڈ ،ٹینکوں اور میزائلوں کی نمائش ،جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کا شاندار کرتب دکھا کر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ              بھارت نے یسین ملک کی جماعت جموں کشمیر لبریشن فرنٹ پر پابندی لگادی       
تازہ تر ین

جب فرعون کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ اس کی قوم حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے گی

فرعون کا محل

            جب فرعون کو یہ خطرہ لاحق ہوا کہ اس کی قوم حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لائے گی تو اس نے ایسا حربہ استعمال کرنا چاہا کہ جس سے اس کی سلطنت مستحکم اور اس کے ارکان مظبوط ہوں۔ بالآخر فرعون نے اپنے وزیر ہامان کو محل بنانے کا حکم دیا تو ہامان نے اینٹوں کےپکانے اور چونا تیار کرنے کاکام شروع کردیا۔

            اور ہر وہ چیز جس سے عمارت تیار کرنے کے لئے ضرورت پڑتی ہے اس کا انتظام کیا اور سارے دنیا کے کاریگر اکھٹے کئے۔ لیبر کے علاوہ صرف کاریگروں کی تعداد پچاس ہزار تھی۔ سات سال کے عرصہ میں وہ محل تیار ہوا اور اس کی اونچائی اس قدر بلند تھی کہ جب سے آسمان اور زمین پیدا ہوئے ہیں اس وقت سے اس کی مثال نہیں ملتی۔ اور وہ محل فرعون کی خواہش کے مطابق تیار ہوا تھا۔ جب اس سے فارغ ہوئے تویہ حضرت موسیٰ ؑ پر شاق گزرا۔ پس اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کی طرف وحی بھیجی کہ اس کو ترک کردو۔ کیونکہ میں اس کو ایک لمحہ میں برباد کردوں گا۔ فرعون اور اس خاص لوگ محل پر چڑھ کر آسمان کی طرف تیر پھینکنے لگے۔ جب وہ تیر واپس آئے تو وہ خون آلود تھے یہ دیکھ کر فرعون اور اس کے حواری کہنے لگے:

            تحقیق ہم نے موسیٰ ؑ کے رب کو قتل کر دیاہے تو اللہ تعالیٰ نے جبرئیل ؑ کو حکم دیا تو انہوں نے اپنے پر مار کر اس کے تین ٹکڑے کر دیئے ان میں سے ایک ٹکڑا سمندر میں گرا ایک ٹکڑا ہندوستان میں اور ایک ٹکڑا مغرب میں گرا۔

            ایک روایت میں یہ بھی آیا ہے کہ ان ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا قوم فرعون پر گراتھا جس سے دس لاکھ فرعونی لوگ ہلاک ہوگئے اور یہ بھی روایت ہےکہ جولوگ اس محل کے بنانے میں شریک تھے ان میں سے ہر ایک ڈوب کریاجل کر یاکسی آفت سے تباہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے فرعون کامحل صبح سویرے یعنی طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے درمیانے وقت میں تباہ کیا تھا۔ جب فرعون نے دیکھا اور اپنے کام کاباطل ہونا معلوم ہوا تو اس نے حضرت موسیٰ ؑ سے جنگ شروع کردی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو معجزوں سے آزمایا اور وہ یہ ہیں۔

1ٍ۔ عصائے کلیمی ۔ 2۔ ید بیضا۔ 3۔ طوفان۔ 4۔ ٹڈی ۔ 5۔ جوئیں۔ 6۔ مینڈک ۔ 7۔ خون ۔ 8۔ صورتوں کا بدل جانا۔ 9۔ دریا کا پھٹ جانا۔

تمام معجزات کتب تفسیر میں بھی موجود ہیں۔

(علامہ شہاب الدین قلیوبیؒ)