وفاقی کابینہ نے مشتاق مہر کو آئی جی سندھ تعینات کرنے کی منظوری دے دی
لاہور کی بینکنگ عدالت کا شہباز شریف کے داماد کی جائیداد نیلام کرنے کا حکم
مشتاق مہر نئے آئی جی سندھ تعینات، وفاقی کابینہ نے منظوری دیدی
نارووال اسپورٹس سٹی کیس ، احسن اقبال پیش ، عدالت کی نیب کو ایک ماہ میں ریفرنس دائر کرنے کی ہدایت
رمضان شوگر مل کیس : حمزہ شہباز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 6 مارچ تک توسیع ۔ رمضان شوگر ملز میں فرد جرم عائد نہ کی جا سکی
اسلام آباد ہائی کورٹ نےنجی اسکولز کا فیسوں میں اضافے کا اختیار ختم کردیا
کورونا وائرس: عمرہ زائرین کے سفر پر 15 مارچ تک پابندی عائد
کرونا وائر س کا خطرہ : سندھ میں تمام تعلیمی ادارے 2 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ
پاکستان نے ایران کے ساتھ براہ راست پروازوں پر پابندی عائد کردی
تازہ تر ین

میں نے پوچھا : یہ اضطراب اورکپکپاہٹ کیسی ہے؟ تو کہنے لگی: محض اللہ کے خوف سے کہ وہ ہمیں اس حال میں دیکھے۔ اگر تو نے مجھے آج بخص دیا اور مہربانی کردی(تو تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ) اللہ کی آگ دینا و آخرت میں کہیں تم پر اَثر انداز نہیں ہوگی

اور نوجوان لرزاُٹھا

            ایک مردِ صالح کا بیان ہے کہ میں نے ایک لوہار کو دیکھا کہ وہ لوہے کو آگ کے اندر سے (بالکل سرخ ) نکالتا ہے اور اپنی انگلیوں سے اُلٹ پلٹ کررہا ہے۔ تو میں نے جی میں سوچا: ہونہ ہو یہ کوئی اللہ کا نیک بندہ ہے۔ میں نے اس کے قریب جاکر سلام کیا، اس نے سلام کا جواب دیا۔ میں نے پوچھا: جناب والا! یہ بتائیں کہ آپ اس مقام و منزل پر کیوں کر فائز ہوئے، آپ میرے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے ترقی درجات کی دعا کیوں نہیں کردیتے؟ تو وہ روتے ہوئے گویاہوا: میرے ددوست ! میں ان لوگوں میں سے نہیں جن میں سے تو مجھے سمجھ رہا ہے مگر جب تو نے پوچھ ہی دیا ہے تو لو حقیقت امر واضح ہی کردیتا ہوں۔

            واقعہ یہ ہے کہ میں بڑا سیہ کا اور گنہ گار تھا، ایک مرتبہ ایک لالہ رُخ حسینہ سے میرا واسطہ پڑ گیا، جس نے مجھ سے کہا : تیرے پاس کچھ ہو تو اللہ واسطے مجھے عطا کر ، تو میں دل پکڑ کررہ گیا۔ میں نے اس سے کہا ایسا کرو میرے ساتھ گھر چلو وہیں تمہاری ضرورت کا ہر سامان کردوں گا؛ مگر وہ راضی نہ ہوئی اور اپنا راستہ ناپتی بنی۔ پھر ایک دن روتی ہوئی آئی اور کہا : قسم بخدا ! وقت نے ایسا مجبور کردیا ہے کہ مجھے بار بار تیری طرف آنا پڑ رہا ہے۔ اب میں اسے پکڑ کر اپنے گھر لے آیا اور ایک جگہ بٹھا دیا، جب اس کی طرف بڑھا تو وہ ایسے کانپنے لگی جیسے کوئی کشتی سخت آندھیوں میں ہچکولے کھاتی ہو۔

              میں نے پوچھا : یہ اضطراب اورکپکپاہٹ کیسی ہے؟ تو کہنے لگی: محض اللہ کے خوف سے کہ وہ ہمیں اس حال میں دیکھے۔ اگر تو نے مجھے آج بخص دیا اور مہربانی کردی(تو تمہیں یقین دلاتی ہوں کہ) اللہ کی آگ دینا و آخرت میں کہیں تم پر اَثر انداز نہیں ہوگی۔ اب میں فوراً اُس سے دورہٹ گیا اور جو کچھ میرے پاس موجود تھا اللہ واسطے اس کے حوالے کردیا۔ اس طرح وہ (آبرومندانہ طریقہ پر ) مجھ سے چلی گئی۔

            پھر مجھ پر ذرا اسی غنودگی طاری ہوگئی تو میں نے خواب میں اس سے کہیں زیادہ حسین و جمیل عورت دیکھا ۔ میں نے پوچھا : تم کون ہو؟ تو کہتی ہے: میں تمہارے پاس آنے والی وہی اُم صبیہ ہوں ۔بس اسی دن سے میں ہرقسم کے گناہوں سے اپنا تعلق منقطع کرکے اللہ کی طرح رجوع ہوگیا۔

(نوجوانوں کی حکایت کا انسائیکلو پیڈیا)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری