حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

    تم اس گھمنڈ میں اتراتے پھرتے کہ اس دنیا میں تمہیں ہمیشہ موج و مستی کرتے ہوئے باقی رہنا ہے۔ تف ہے تیری سوچ پر ، تو آئند کل ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو گزشتہ کل یہاں سے رخصت ہوگئے

جتنی تیاری کر سکتے ہو کر لو

          ایک آدمی تھا جو موت سے بہت زیادہ ڈرا کرتا اور اس کے خوف و ہراس سے ہمیشہ متفکر و غمگین رہتا اور خوب خوب گریہ و بکا کرتا رہتا تھا ۔ ایک بار احساسِ خوف اسے بلا ضرورت کسی میدان میں لے کر چلا گیا جہاں اس کی ملاقات ملک الموت سے ہو جاتی ہے۔ فرشتہ موت نے پوچھا: اے شخص مجھے پہچانتا ہے؟ کہا: نہیں مجھے تمہاری کوئی معرفت نہیں ۔ فرمایا: میں ملک الموت ہوں ۔ اتنا سننا تھا کہ وہ شخص بے قراری کے عالم میں بیہوش ہوکر گرپڑا۔

            جب ہوش آیا، تو ملک الموت نے کہا: اب ایسا کرو تم اپنے گھر چلے جاؤ اور مریضوں کی عیادت کرتے رہا کرو ۔ اگر تم مجھے مریض کی پائنتی کے پاس دیکھو تو اس کی دوا دارو کرنے کی کوشش کرو؛ کیوں کہ ابھی اس کے افاقے کا اِمکان ہے۔ اور اگر مجھے اس کے سرہانے کے قریب دیکھو تو سمجھ جانا کہ بس اس کا وقت اجل آگیا ہے، پھر اس کے لیے کسی دوا وغیرہ کی تشخیص نہ کرنا ۔ اور میں بتائے دیتا ہوں کہ تم مجھے عنقریب اپنے سرہانے دیکھنے والے ہو ؛ لہٰذا اُس دن کی جنتی تیاری کر سکتے ہو کرلو!

            اب وہ شخص ناصبوری کے عالم میں اپنے اہل خانہ کو چیخ کر بلا نے لگا: میرے پاس جلدی سے ایک کاغذ لے کر پہنچوتا کہ تمہیں کچھ وصیت لکھ دوں ، کیوں کہ میں نے وہ سب کچھ اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے جن کے ڈر سے میں مارا مارا پھرتا تھا اور لوگوں کےدلوں میں اُن کی ہیبت چھائی رہتی ہے۔ ملک الموت نے کہا: حاکم حقیقی تم سے کہیں زیادہ حکم میں جلدی فرمانے والا ہے۔ اور میں تم کو کل تنبیہ کیا تھا تاکہ تھا تا کہ تم اپنے لیے کچھ سکو لیکن اب وہ مدت مہلت ختم ہوئی، اور تیری زندگی کے دن گنے جاچکے ؛ لہٰذا وصیت لکھنے سے پہلے ہی ملک الموت نے اس کی روح قبض کرلی۔ اسی مفہوم کو کسی نے بڑے اچھے انداز میں پیش کیا ہے:

یعنی اے غافل ولاپراہ ! کبھی تو نے کچھ زادِ راہ جمع کیا ہے؟

            تم اس گھمنڈ میں اتراتے پھرتے کہ اس دنیا میں تمہیں ہمیشہ موج و مستی کرتے ہوئے باقی رہنا ہے۔ تف ہے تیری سوچ پر ، تو آئند کل ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو گزشتہ کل یہاں سے رخصت ہوگئے۔

میری اللہ سجانہ و تعالیٰ سے اس کے سوا کوئی اور خواہش و اِلتجا نہیں ہے کہ جب عرصہ محشر کےلیے اُٹھنا ہو اتو اللہ کی مجھ پر خاص عنایت ہوجائے۔

(نوجوانوں کی حکایت کا انسائیکلو پیڈیا)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری