ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کو مزید 4 ماہ گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا فیصلہ
یف اے ٹی ایف 13 نکات پر عمل درآمد کیلیے جون تک مہلت دینے پر رضامند
وزیراعظم نے خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کرنے کی منظوری د یدی
چھ ماہ میں کراچی سرکلر ریلوے نہ چلائی تو وزیراعظم، وزیر اعلی سندھ کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی ہوگی، چیف جسٹس آف پاکستان
سپریم کورٹ ججز پر الزام: حکومت نے اٹارنی جنرل سے استعفیٰ لے لیا
تازہ تر ین

    تم اس گھمنڈ میں اتراتے پھرتے کہ اس دنیا میں تمہیں ہمیشہ موج و مستی کرتے ہوئے باقی رہنا ہے۔ تف ہے تیری سوچ پر ، تو آئند کل ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو گزشتہ کل یہاں سے رخصت ہوگئے

جتنی تیاری کر سکتے ہو کر لو

          ایک آدمی تھا جو موت سے بہت زیادہ ڈرا کرتا اور اس کے خوف و ہراس سے ہمیشہ متفکر و غمگین رہتا اور خوب خوب گریہ و بکا کرتا رہتا تھا ۔ ایک بار احساسِ خوف اسے بلا ضرورت کسی میدان میں لے کر چلا گیا جہاں اس کی ملاقات ملک الموت سے ہو جاتی ہے۔ فرشتہ موت نے پوچھا: اے شخص مجھے پہچانتا ہے؟ کہا: نہیں مجھے تمہاری کوئی معرفت نہیں ۔ فرمایا: میں ملک الموت ہوں ۔ اتنا سننا تھا کہ وہ شخص بے قراری کے عالم میں بیہوش ہوکر گرپڑا۔

            جب ہوش آیا، تو ملک الموت نے کہا: اب ایسا کرو تم اپنے گھر چلے جاؤ اور مریضوں کی عیادت کرتے رہا کرو ۔ اگر تم مجھے مریض کی پائنتی کے پاس دیکھو تو اس کی دوا دارو کرنے کی کوشش کرو؛ کیوں کہ ابھی اس کے افاقے کا اِمکان ہے۔ اور اگر مجھے اس کے سرہانے کے قریب دیکھو تو سمجھ جانا کہ بس اس کا وقت اجل آگیا ہے، پھر اس کے لیے کسی دوا وغیرہ کی تشخیص نہ کرنا ۔ اور میں بتائے دیتا ہوں کہ تم مجھے عنقریب اپنے سرہانے دیکھنے والے ہو ؛ لہٰذا اُس دن کی جنتی تیاری کر سکتے ہو کرلو!

            اب وہ شخص ناصبوری کے عالم میں اپنے اہل خانہ کو چیخ کر بلا نے لگا: میرے پاس جلدی سے ایک کاغذ لے کر پہنچوتا کہ تمہیں کچھ وصیت لکھ دوں ، کیوں کہ میں نے وہ سب کچھ اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے جن کے ڈر سے میں مارا مارا پھرتا تھا اور لوگوں کےدلوں میں اُن کی ہیبت چھائی رہتی ہے۔ ملک الموت نے کہا: حاکم حقیقی تم سے کہیں زیادہ حکم میں جلدی فرمانے والا ہے۔ اور میں تم کو کل تنبیہ کیا تھا تاکہ تھا تا کہ تم اپنے لیے کچھ سکو لیکن اب وہ مدت مہلت ختم ہوئی، اور تیری زندگی کے دن گنے جاچکے ؛ لہٰذا وصیت لکھنے سے پہلے ہی ملک الموت نے اس کی روح قبض کرلی۔ اسی مفہوم کو کسی نے بڑے اچھے انداز میں پیش کیا ہے:

یعنی اے غافل ولاپراہ ! کبھی تو نے کچھ زادِ راہ جمع کیا ہے؟

            تم اس گھمنڈ میں اتراتے پھرتے کہ اس دنیا میں تمہیں ہمیشہ موج و مستی کرتے ہوئے باقی رہنا ہے۔ تف ہے تیری سوچ پر ، تو آئند کل ان لوگوں میں شامل ہونے والا ہے جو گزشتہ کل یہاں سے رخصت ہوگئے۔

میری اللہ سجانہ و تعالیٰ سے اس کے سوا کوئی اور خواہش و اِلتجا نہیں ہے کہ جب عرصہ محشر کےلیے اُٹھنا ہو اتو اللہ کی مجھ پر خاص عنایت ہوجائے۔

(نوجوانوں کی حکایت کا انسائیکلو پیڈیا)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری