حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

اے صبح کے ستارے ! ایک صبح کی پیشانی کو اپنی جگمگاہٹ سے زینت دینے والے! تجھے اپنے فنا ہوجانے کا غم کھائے جارہا ہے؟ کیا تو غیر فانی ہونا چاہتاہے؟ تجھے لازوال اور ابدی زندگی کی آرزو ہے تو پھر ایسا کر کہ آسمان کی بلندیوں سے اُتر آ۔ آسمان کی بلندی سے شبنم کے ساتھ اتر کر میری شاعری کے باغ میں آجا

اخترِ صُبح

صبح کا ستارہ رورہا تھا اور روتے روتے کہہ رہا تھا۔

“میں بھی کتنا بدنصیب ہوں ۔ قدرت کی طرف سے مجھے نگاہ تو عطا ہوئی۔ لیکن قدرت نے مجھے اس نگاہ سے دیکھنے اور اس سے کام لینے کی مہلت نہیں دی۔ مجھے قدرت نے اتنی زندگی ہی نہیں دی کہ میں اس دنیا کا جی بھر کے نظارہ کرسکوں ۔ اس دنیا کی ہرچیز کو سورج کی بدولت زندگی ملتی ہے۔ سورج نکلتا ہے تو ساری کئنات میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے لیکن میں ہی یسا قسمت کا مارا ہوں جسے صبح کے دامن میں پناہ نہیں ملی ۔ طلوعِ آفتاب دنیا کی ہر چیز کے لیے زندگی کا پیام لاتاہے لیکن اس کی روشنی میرے لیے موت کا پیغام ثابت ہوتی ہے۔ بھلا اس کائنات میں صبح کے ستارے کی ہستی اور حیثیت ہی کیا ہے؟ وہ تو ایسے ہی ناپائدار ہے جیسے پانی کا بُلبُلا کہ ایک آن میں پھوٹ کر غائب ہوجاتاہے۔ وہ تو ایک چنگاری کی طرح ہے کہ ذرا سا چمکی اور بجھ گئی”۔

میں نے صبح کےستارے کی یہ باتیں سُنیں تو اس سے کہا۔

“اے صبح کے ستارے ! ایک صبح کی پیشانی کو اپنی جگمگاہٹ سے زینت دینے والے! تجھے اپنے فنا ہوجانے کا غم کھائے جارہا ہے؟ کیا تو غیر فانی ہونا چاہتاہے؟ تجھے لازوال اور ابدی زندگی کی آرزو ہے تو پھر ایسا کر کہ آسمان کی بلندیوں سے اُتر آ۔ آسمان کی بلندی سے شبنم کے ساتھ اتر کر میری شاعری کے باغ میں آجا۔ اس باغ کی فضا رُوح کو تازگی بخشنے واللی ہے۔ میں اس باغ کا مالی ہوں جس کی بہار محبت ہے۔ یہ باغ ابد کی طرح ہمیشہ رہنے والا ہے۔ کیوں کہ اس کی بنیاد محبت پر قائم ہے جو خود ابدی اور غیر فانی ہے”۔

عالمہ اقبالؒ نے صبح کےستارے کی بابت یہ نظم ایک دوسرے رنگ میں کہی ہے ۔ اس نظم میں علامہ اقبالؒ نے صبح کے سارے کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر تو فنا کے غم میں مبتلا ہے اور ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا ہے تو میرے شعر کے باغ میں آجا جس کی رونق اور تروتازگی محبت کے دم سے ہے۔ یہ باغ کبھی ویران نہ ہوگا اور اس میں آکر تجھے فنا کے غم سے نجات مل جائے گی۔ کیوں کہ عشق اور محبت کے ابدی اور غیر فانی جذبے نے میرے کلام کی بنیاد ابدی طرح پائدار کردی ہے۔

(حکایاتِ اقبالؒ)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری