پاکستان میں ایک ہی روز میں کورونا سے 4 افراد جاں بحق، ملک بھر میں ہلاکتیں 16 ،کیسز 1542ہو گئے
پاکستان میں کورونا سے 12 افراد جاں بحق ،متاثرہ افراد کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی
پاکستان کا سرحدیں مزید 2 ہفتے کے لیے بند کرنے کا اعلان
وفاقی حکومت کاکورونا وائرس کے کیسز کی تعداد کے بعد لیبارٹریز کی تعداد 14 سے بڑھا کر24 تک لے جانے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کا ملکی معیشت کیلئے ضروری صنعتوں کو جاری رکھنے کا فیصلہ
کورونا وائرس: چین سے طبی سامان اور ماہر ڈاکٹرز کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی
آزاد کشمیر میں بھی کورونا وائرس کے پیش نظر مساجد میں نماز ادا کرنے پر پابندی عائد کردی گئی
کورونا وائرس، دنیا میں 27 ہزار سے زائد ہلاکتیں، 597,258 متاثر
وزیر اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری کا زائرین سے متعلق الزام پر خواجہ آصف کے خلاف عدالت جانے کا اعلان
آزا د کشمیر ،گلگت بلتستان سمیت ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کو مکمل اجازت دینے کا فیصلہ
تازہ تر ین

اے صبح کے ستارے ! ایک صبح کی پیشانی کو اپنی جگمگاہٹ سے زینت دینے والے! تجھے اپنے فنا ہوجانے کا غم کھائے جارہا ہے؟ کیا تو غیر فانی ہونا چاہتاہے؟ تجھے لازوال اور ابدی زندگی کی آرزو ہے تو پھر ایسا کر کہ آسمان کی بلندیوں سے اُتر آ۔ آسمان کی بلندی سے شبنم کے ساتھ اتر کر میری شاعری کے باغ میں آجا

اخترِ صُبح

صبح کا ستارہ رورہا تھا اور روتے روتے کہہ رہا تھا۔

“میں بھی کتنا بدنصیب ہوں ۔ قدرت کی طرف سے مجھے نگاہ تو عطا ہوئی۔ لیکن قدرت نے مجھے اس نگاہ سے دیکھنے اور اس سے کام لینے کی مہلت نہیں دی۔ مجھے قدرت نے اتنی زندگی ہی نہیں دی کہ میں اس دنیا کا جی بھر کے نظارہ کرسکوں ۔ اس دنیا کی ہرچیز کو سورج کی بدولت زندگی ملتی ہے۔ سورج نکلتا ہے تو ساری کئنات میں زندگی کی لہر دوڑ جاتی ہے لیکن میں ہی یسا قسمت کا مارا ہوں جسے صبح کے دامن میں پناہ نہیں ملی ۔ طلوعِ آفتاب دنیا کی ہر چیز کے لیے زندگی کا پیام لاتاہے لیکن اس کی روشنی میرے لیے موت کا پیغام ثابت ہوتی ہے۔ بھلا اس کائنات میں صبح کے ستارے کی ہستی اور حیثیت ہی کیا ہے؟ وہ تو ایسے ہی ناپائدار ہے جیسے پانی کا بُلبُلا کہ ایک آن میں پھوٹ کر غائب ہوجاتاہے۔ وہ تو ایک چنگاری کی طرح ہے کہ ذرا سا چمکی اور بجھ گئی”۔

میں نے صبح کےستارے کی یہ باتیں سُنیں تو اس سے کہا۔

“اے صبح کے ستارے ! ایک صبح کی پیشانی کو اپنی جگمگاہٹ سے زینت دینے والے! تجھے اپنے فنا ہوجانے کا غم کھائے جارہا ہے؟ کیا تو غیر فانی ہونا چاہتاہے؟ تجھے لازوال اور ابدی زندگی کی آرزو ہے تو پھر ایسا کر کہ آسمان کی بلندیوں سے اُتر آ۔ آسمان کی بلندی سے شبنم کے ساتھ اتر کر میری شاعری کے باغ میں آجا۔ اس باغ کی فضا رُوح کو تازگی بخشنے واللی ہے۔ میں اس باغ کا مالی ہوں جس کی بہار محبت ہے۔ یہ باغ ابد کی طرح ہمیشہ رہنے والا ہے۔ کیوں کہ اس کی بنیاد محبت پر قائم ہے جو خود ابدی اور غیر فانی ہے”۔

عالمہ اقبالؒ نے صبح کےستارے کی بابت یہ نظم ایک دوسرے رنگ میں کہی ہے ۔ اس نظم میں علامہ اقبالؒ نے صبح کے سارے کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر تو فنا کے غم میں مبتلا ہے اور ہمیشہ زندہ رہنا چاہتا ہے تو میرے شعر کے باغ میں آجا جس کی رونق اور تروتازگی محبت کے دم سے ہے۔ یہ باغ کبھی ویران نہ ہوگا اور اس میں آکر تجھے فنا کے غم سے نجات مل جائے گی۔ کیوں کہ عشق اور محبت کے ابدی اور غیر فانی جذبے نے میرے کلام کی بنیاد ابدی طرح پائدار کردی ہے۔

(حکایاتِ اقبالؒ)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری