حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

اگر ہمارا یہ ملاپ ہمیشہ قائم رہے تو کیا ہی اچھا ہو۔ ہم ایک مدت سے گردش میں ہیں۔ کاش یہ ہر وقت کی گردش اپنے انجام کو پہنچے۔ اگر آسمان ہمارے حال پر تھوڑی سی مہربانی کرے اور ہمیں اس مسلسل سفر سے نجات دے دے تو ہم اسی برُج میں ایک ساتھ رہ کر چمک سکتے ہیں

دو ستارے

          دو ستارے اپنے راستے پر چلتے چلتے جب ایک ہی بُرج میں جمع ہوئے تو دونوں ایک دوسرے کو یوں قریب پا کر بہت خوش ہوئے ۔ ایک ستارہ دوسرے سے کہنے لگا۔

       “اگر ہمارا یہ ملاپ ہمیشہ قائم رہے تو کیا ہی اچھا ہو۔ ہم ایک مدت سے گردش میں ہیں۔ کاش یہ ہر وقت کی گردش اپنے انجام کو پہنچے۔ اگر آسمان ہمارے حال پر تھوڑی سی مہربانی کرے اور ہمیں اس مسلسل سفر سے نجات دے دے تو ہم اسی برُج میں ایک ساتھ رہ کر چمک سکتے ہیں۔ اگر ہم دونوں مل کر چمکنے لگیں تو یہ ہمارے لیے بھی اچھا ہوگا اور دوسروں کے لیے بھی۔

دوسرے ستارے کو بھی یہ بات پسند آئی اور اس نے کہا۔ ” ہاں اگر ایسا ہوجائے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے؟”

           لیکن اُن ستاروں کی ملاپ کی یہ آرزو اُن کے لیے جُدائی کا پیغام بن گئی۔ ادھر انھوں نے ہمیشہ ملے رہنے کی تمنا کی اور اُدھر بُرج میں اُن میں اُن دونوں کا ساتھ ختم ہو گیا۔ وہ اپنے اپنے راستے پر چلتے چلتے کچھ دیر کے لیے ایک دوسرے کے قریب آئے تھے اور پھر اپنے اپنے راستے پر بڑھتے ہوئے ایک دوسرے سے جدا ہوگئے۔ تاروں کی قسمت میں تو مسلسل گردش میں رہنا لکھا ہے اور اس گردش کا راستہ پہلے مقرر ہے۔ کوئی ستارہ ہزار چاہے، وہ نہ توکہیں ٹھہر سکتا ہے اوعر نہ اس راستے سے اِدھر اُدھر ہو سکتاہے۔ آشنائی اور ملاپ کا قائم اور باقی رہنا ایک ایسا خواب ہے جو س کائنات میں کبھی پورا نہیں ہو سکتا کیوں کہ جدائی ہی اس دُنیا کا دستور ہے۔

           علامہ اقبال ؒ نے اس نظم میں قِران میں آنے والے (یعنی ایک ہی بُرج میں جمع ہونے والے) دو ستاروں کے حوالے سے ہمیں یہ بتایا ہے اس دنیا کا قانون ہی یہ ہے کہ کوئی چیز خواہ جان دار ہو یا بے جان ، دوسری چیز کے ساتھ ہمیشہ وابستہ نہیں رہ سکتی ۔ جس طرح دوستارے ہمیشہ ایک بُرج میں نہیں رہ سکتے دو انسان ہمیشہ ایک دوسرے کےساتھ نہیں رہ سکتے۔ ایک نہ ایک دن وہ ایک دوسرے سے جدا ہوکر ضرور رہتے ہیں کیونکہ جدائی ہی قانونِ قدرت ہے۔

(حکایاتِ اقبالؒ)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری