حکومت کا سینیٹ انتخابات میں ہارس ٹریڈنگ کے خاتمے کیلئے اوپن بیلٹ کا فیصلہ
جی 20 سے پاکستان کو قرضوں کی ادائیگی میں 2 ارب ڈالر سے زائد ریلیف ملنے کا امکان
سعودی عرب میں کوڑے مارنے کی سزا کو باضابطہ ختم کردیا گیا
سٹیزن پورٹل سے شہری غیر مطمئن، وزیراعظم کا اداروں کیخلاف تحقیقات کا حکم
کورونا نے پی ٹی آئی کی رکن اسمبلی شاہین رضا کی جان لے لی
ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کو کورونا وباء سے بچاؤ کیلئے 30 کروڑ ڈالر کا قرض فراہم کر دیا
حکومت بلوچستان نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں 2 جون تک توسیع کردی
پاکستان میں 2 ماہ بعد ریلوے آپریشن بحال کر دیا گیا
کرونا وبا،ملک میں 1ہزار سے زائد اموات،مریضو ں کی تعداد47ہزار سے تجاوز کر گئی،13ہزار سے زائدصحتیاب
تازہ تر ین

اے دوست! یہ بات کچھ اس موٹر ہی پر موقوف نہیں۔ زندگی کےراستے پر تیز چلنے والا اسی طرح خاموش چلتاہے۔ تیز رفتاری وہی دکھاتے ہیں جو خاموش ہیں۔ قافلے کی گھنٹی کو دیکھو کہ وہ شور و فریاد کی عادی ہے۔ اس لیے وہ ساکن ہے اور چل نہیں سکتی خوشبو صبا کی طرح خاموش ہوتی ہے۔ اور اس کا قافلہ ہر طرف چل نکلتاہے

موٹر

               کل باتوں باتوں میں سر جو گندرسنگھ نے کیسی پتے کی بات کہی ۔ نواب ذوالفقار علی خان کی موٹر کو چلتے دیکھ کر وہ بے ساختہ بول اٹھے۔

“دیکھو! ذوالفقار علی خان کا موٹر کس قدر خاموش واقع ہواہے! یہ چلتا ہے تو اس سے کوئی شور نہیں اٹھتا۔ چلنے میں تو یہ بجلی کی طرح تیز ہے لیکن ہوا کی طرح خاموش ہے۔”

میں نے یہ بات سُن کرکہا۔

            “اے دوست! یہ بات کچھ اس موٹر ہی پر موقوف نہیں۔ زندگی کےراستے پر تیز چلنے والا اسی طرح خاموش چلتاہے۔ تیز رفتاری وہی دکھاتے ہیں جو خاموش ہیں۔ قافلے کی گھنٹی کو دیکھو کہ وہ شور و فریاد کی عادی ہے۔ اس لیے وہ ساکن ہے اور چل نہیں سکتی خوشبو صبا کی طرح خاموش ہوتی ہے۔ اور اس کا قافلہ ہر طرف چل نکلتاہے۔ خاموشی کی صفت ہی کی وجہ سے وہ تیزی سے چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔ صراحی کو دیکھو کہ وہ قلقل کا شور پیدا کرتی ہے اس لیے اپنی جگہ ٹھہری رہتی ہے اور اِدھر اُدھر نہیں پھر سکتی ۔ اس کے مقابلے میں جام کو دیکھو کہ وہ گردش میں رہتا ہے کیوں کہ اُس کی طبیعت خاموش ہے۔ چوں  کہ اُس سے کوئی صدا بلند نہیں ہوتی ، اس لیے وہ گردش کرتا رہتا ہے۔ یہی حال شاعرکے تخیل کا ہے۔  یہ تخیل خاموش ہے اور تخیل کی یہ خاموسی اُڑنے والے پر بن کر اُسے آسمان کی بلند یوں تک پہنچا دیتی ہے۔ صرف یہی نہیں ، خاموش ہی کے باعث اس کی آواز میں گرمی ، حرارت اور تاثیر پیدا ہوجاتی ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ شاعر کی خاموشی میں وہی گرمی ، حرارت اور تاثیر پائی جاتی ہے جو دوسروں کی آواز یا گویائی میں ہوتی ہے۔ شاعر کی یہ خاموشی نہ صرف گویائی کی دولت سے مالا مال ہوتی ہے بلکہ اپنی گویائی سے بڑھ کر طاقت اور اثر رکھتی ہے۔”

            علامہ اقبالؒ کی یہ نظم اس قوت تخیل کی نہایت عمدہ مثال ہے جس کی بدولت وہ معمولی واقعات ہے بھی فلسفیانہ نکات پیدا کرلیا کرتے تھے۔ نواب ذوالفقار علی خاں آف مایر کوٹلہ نے 1911 میں ایک بیش قیمت موٹر منگوائی تھی۔ اس زمانے میں موٹریں عام طور پر چلنے میں بہت شور کرتی تھیں لیکن نواب صاحب کی موٹر میں یہ نقص نہیں تھا۔ ایک علامہ اقبالؒ نواب سرذوالفقار علی خان کی موٹر میں بیٹھ کر شالا مار باغ کی سیر کوگئے۔ موٹر میں سر جو گندر سنگھ اور مرزا جلال الدین بیرسٹر بھی ساتھ تھے۔ موٹر چلتے میں شور نہ کرتے دیکھ کر سر جو گندر سنگھ نے حیرت اور تعجب کے ساتھ علامہ اقبالؒ سے یہ بات کہی:

“نواب صاحب کا یہ موٹر کس قدر خاموش ہے!”

بظاہر یہ بات کوئی ایسی پتے کی نہ تھی کہ علامہ اقبالؒ اس سے یوں متاثر ہوجاتے اور اسی ایک فقرے پر اپنی نظم کی بنیاد رکھ دیتے ، لیکن ہوا یہی کہ اسی ایک فقرے سے علامہ اقبالؒ کی حکیمانہ طبیعت نے نہایت عمدہ مضامین پیدا کرلیے اور اُن کا ذہن فوراً اس طرف منتقل ہو گیا کہ ایک اس موٹرہی پر کیا موقوف ہے، زندگی کے راستے میں ہر تیز چلنے والا اسی طرح خاموشی چلتا ہے اور تیز رفتار وہی دکھاتے ہیں جو خاموش ہیں۔

(حکایاتِ اقبالؒ)

مزید حکایت

بچوں کے اسلامی نام

ڈکشنری